🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

95. يَا عَلِيُّ، أَنْتَ سَيِّدٌ فِي الدُّنْيَا، سَيِّدٌ فِي الْآخِرَةِ .
اے علی! تم دنیا میں بھی سردار ہو اور آخرت میں بھی سردار ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4690
حدثنا أبو الفضل محمد بن إبراهيم المزكِّي، حدثنا أحمد بن سَلَمة والحسين بن محمد القَبّاني. وحدثني أبو الحسن أحمد بن الخَضِر الشافعي، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب ومحمد بن إسحاق. وحدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن أمية القرشي بالسّاوَة، حدثنا أحمد بن يحيى بن إسحاق الحُلْواني؛ قالوا: حدثنا أبو الأَزْهَر. وقد حدَّثَناه أبو عليٍّ المذكِّر (1) ، عن أبي الأزهر، قال: حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن الزُّهْري، عن عُبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس، قال: نَظَرَ النبيُّ ﷺ إلي عليٍّ، فقال:"يا عليُّ، أنتَ سيدٌ في الدنيا سيدٌ في الآخرة، حبيبُك حبيبي وحبيبي حبيبُ الله، وعدوُّك عدوِّي وعدوِّي عدوُّ الله، والوَيلُ لمن أبغضَك بَعدِي" (2) . صحيح على شرط الشيخين وأبو الأزهر بإجماعهم ثقةٌ، وإذا تفرّد الثقةُ بحديث فهو على أصلهم صحيح.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4640 - منكر ليس ببعيد من الوضع
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا اور فرمایا: اے علی! تم دنیا میں بھی سردار ہو اور آخرت میں بھی سردار ہو، تمہارا محبوب میرا محبوب ہے اور میرا محبوب اللہ کا محبوب ہے، اور تمہارا دشمن میرا دشمن ہے اور میرا دشمن اللہ کا دشمن ہے، اور اس شخص کے لیے بربادی ہے جو میرے بعد تم سے بغض رکھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اور ابوالازہر بالاتفاق ثقہ ہیں، اور جب کوئی ثقہ راوی کسی حدیث کو بیان کرنے میں منفرد ہو تو ان (محدثین) کے نزدیک وہ روایت صحیح ہوتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4690]
تخریج الحدیث: «منكر على ثقة رجاله، فإن عبد الرزاق تُكلِّم في تحديثه من غير كتابه، وذلك أنه عَمِيَ في آخر عمره فكان يُلقَّن فيتلقَّن، وقد أسندوا عنه أحاديث ليست في كتبه كان يلقَّنُها بعدما عمي، قاله الإمام أحمد في سؤالات الأثرم له كما في "تهذيب الكمال" 18/ 57، وهذا الحديث ليس في ...» [ترقيم الرساله 4690] [ترقيم الشركة 4664] [ترقيم العلميه 4640]

الحكم على الحديث: منكر على ثقة رجاله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4690M
سمعت أبا عبد الله القرشي: يقول سمعت أحمد بن يحيى الحُلْواني يقول: لما وَرَدَ أبو الأزهَر من صنعاء، وذاكَرَ أهل بغداد بهذا الحديث، أنكره يحيى ابن مَعِين، فلما كان يومُ مجلِسه قال في آخر المجلس: أين هذا الكذّابُ النيسابوريُّ الذي يذكر عن عبد الرزاق هذا الحديثَ؟ فقام أبو الأزهر، فقال: هو ذا أنا، فضحِك يحيى بن مَعِين من قوله وقيامِه في المجلس، فقرّبه وأدناهُ، ثم قال له: كيف حدّثَك عبد الرزاق بهذا ولم يُحدّث به غيرَك؟ فقال: اعلم يا أبا زكريا أني قدمتُ صنعاءَ وعبدُ الرزاق غائبٌ في قريةٍ له بعيدةٍ، فخرجت إليه وأنا عَليلٌ، فلما وصلتُ إليه سألني عن أمر خُراسان فحدّثتُه بها، وكتبتُ عنه وانصرفتُ معه إلى صنعاء، فلما ودّعتُه قال لي: قد وجبَ عليَّ حقُّك، فأنا أحدّثُك بحديثٍ لم يسمعه مني غيرُك، فحدثني - واللهِ - بهذا الحديثِ لفظًا، فصدّقه يحيى بن مَعِين واعتذَر إليه (1) .
احمد بن یحییٰ الحلوانی سے روایت ہے کہ جب ابوالازہر صنعاء سے واپس آئے اور اہل بغداد کے سامنے اس حدیث کا تذکرہ کیا تو یحییٰ بن معین نے اس کا انکار کر دیا، پھر جب ان کی مجلس کا دن آیا تو مجلس کے آخر میں انہوں نے پوچھا: وہ نیشاپور کا جھوٹا شخص کہاں ہے جو عبدالرزاق کے حوالے سے یہ حدیث بیان کرتا ہے؟ ابوالازہر کھڑے ہوئے اور کہا: وہ میں ہی ہوں، تو یحییٰ بن معین ان کی بات اور مجلس میں کھڑے ہونے کے انداز پر ہنس پڑے، پھر انہیں اپنے قریب بلایا اور کہا: عبدالرزاق نے یہ حدیث صرف تمہیں کیسے بیان کی جبکہ تمہارے علاوہ کسی اور کو نہیں بتائی؟ تو انہوں نے جواب دیا: اے ابوزکریا! جان لیجیے کہ میں صنعاء پہنچا تو عبدالرزاق اپنی ایک دور دراز بستی میں تھے، میں بیماری کی حالت میں ان کی طرف نکلا، جب میں ان کے پاس پہنچا تو انہوں نے مجھ سے خراسان کے حالات دریافت کیے، میں نے انہیں وہاں کے حالات بتائے، ان سے احادیث لکھیں اور پھر ان کے ساتھ صنعاء واپس آیا، جب میں انہیں الوداع کہنے لگا تو انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ مجھ پر تمہارا حق واجب ہو گیا ہے، لہذا میں تمہیں ایسی حدیث سناؤں گا جو میرے علاوہ کسی اور نے نہیں سنی، پھر اللہ کی قسم انہوں نے یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ مجھے سنائی، تو یحییٰ بن معین نے ان کی تصدیق کی اور ان سے معذرت چاہی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4690M]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 4690M] [ترقيم الشركة 4664/1]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4691
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن سليمان البُرُلُّسي، حدثنا محمد بن إسماعيل، حدثنا يحيى بن يعلي، حدثنا بسّام الصَّيرفي، عن الحسن بن عمرو الفُقَيمي، عن معاوية بن ثَعلبة، عن أبي ذر قال: قال رسول الله ﷺ لعليّ بن أبي طالب:"مَن أطاعني فقد أطاعَ الله، ومن عَصاني فقد عصى الله، ومن أطاعَكَ فقد أطاعَني، ومن عَصاكَ فقد عَصاني" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4641 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی، اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی، اور جس نے تمہاری اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی، اور جس نے تمہاری نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4691]
تخریج الحدیث: «ضعيف جدًّا، وقد سلف برقم (4667).» [ترقيم الرساله 4691] [ترقيم الشركة 4665] [ترقيم العلميه 4641]

الحكم على الحديث: ضعيف جدًّا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4692
حدثنا بكر بن محمد الصَّيرفي بمَرْو، حدثنا إسحاق بن الحسن الحربي، حدثنا القاسم بن أبي شَيْبة، حدثنا يحيى بن يعلى الأسلمي، حدثنا عمّار بن رُزَيق، عن أبي إسحاق، عن زياد بن مُطرِّف، عن زيد بن أرقمَ، قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن يُريد أن يَحيا حياتي ويموتَ موني، ويَسكُنَ جنةَ الخُلْد التي وَعَدَنِي رَبّي، فليَتَوَلَّ عليَّ بن أبي طالب، فإنه لن يُخرجَكم من هُدًى، ولن يُدخلَكم في ضَلالةٍ" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4642 - هو إلى الوضع أقرب
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص یہ چاہتا ہے کہ وہ میری طرح زندگی گزارے، میری جیسی موت مرے اور اس جنتِ خلد میں رہے جس کا میرے رب نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے، تو اسے چاہیے کہ وہ علی بن ابی طالب کو اپنا ولی (دوست و سرپرست) بنا لے، کیونکہ وہ تمہیں کبھی ہدایت سے باہر نہیں نکالیں گے اور نہ ہی تمہیں کبھی گمراہی میں داخل کریں گے۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4692]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا، من أجل القاسم بن أبي شيبة - وهو أخو الحافظين أبي بكر وعثمان - فهو متروك الحديث وكذّبه الدارقطني، ومن أجل يحيى بن يعلى الأسلمي أيضًا فهو ضعيف منكر الحديث، وزياد بن مطرف هذا لا يعرف إلا في هذا الحديث، فهو مجهول.» [ترقيم الرساله 4692] [ترقيم الشركة 4666] [ترقيم العلميه 4642]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں