المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
95. يَا عَلِيُّ، أَنْتَ سَيِّدٌ فِي الدُّنْيَا، سَيِّدٌ فِي الْآخِرَةِ .
اے علی! تم دنیا میں بھی سردار ہو اور آخرت میں بھی سردار ہو
حدیث نمبر: 4690
حدثنا أبو الفضل محمد بن إبراهيم المزكِّي، حدثنا أحمد بن سَلَمة والحسين بن محمد القَبّاني. وحدثني أبو الحسن أحمد بن الخَضِر الشافعي، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب ومحمد بن إسحاق. وحدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن أمية القرشي بالسّاوَة، حدثنا أحمد بن يحيى بن إسحاق الحُلْواني؛ قالوا: حدثنا أبو الأَزْهَر. وقد حدَّثَناه أبو عليٍّ المذكِّر (1) ، عن أبي الأزهر، قال: حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن الزُّهْري، عن عُبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس، قال: نَظَرَ النبيُّ ﷺ إلي عليٍّ، فقال:"يا عليُّ، أنتَ سيدٌ في الدنيا سيدٌ في الآخرة، حبيبُك حبيبي وحبيبي حبيبُ الله، وعدوُّك عدوِّي وعدوِّي عدوُّ الله، والوَيلُ لمن أبغضَك بَعدِي" (2) . صحيح على شرط الشيخين وأبو الأزهر بإجماعهم ثقةٌ، وإذا تفرّد الثقةُ بحديث فهو على أصلهم صحيح.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4640 - منكر ليس ببعيد من الوضع
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4640 - منكر ليس ببعيد من الوضع
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (سیدنا علی) کی طرف دیکھا پھر فرمایا: اے علی! تو دنیا اور آخرت میں سردار ہے۔ تیرا دوست میرا دوست ہے اور میرا دوست اللہ کا دوست ہے اور تیرا دشمن میرا دشمن، اللہ کا دشمن ہے اور ہلاکت ہے اس کیلئے جو میرے بعد تجھ سے بغض رکھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور تمام محدثین کا اس بات پر اجماع ہے کہ ابوالازہر ثقہ ہے۔ اور محدثین کے قانون کے مطابق جب کوئی ثقہ متفرد ہو تو اس کی روایت کردہ حدیث صحیح ہوتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4690]
حدیث نمبر: 4690M
سمعت أبا عبد الله القرشي: يقول سمعت أحمد بن يحيى الحُلْواني يقول: لما وَرَدَ أبو الأزهَر من صنعاء، وذاكَرَ أهل بغداد بهذا الحديث، أنكره يحيى ابن مَعِين، فلما كان يومُ مجلِسه قال في آخر المجلس: أين هذا الكذّابُ النيسابوريُّ الذي يذكر عن عبد الرزاق هذا الحديثَ؟ فقام أبو الأزهر، فقال: هو ذا أنا، فضحِك يحيى بن مَعِين من قوله وقيامِه في المجلس، فقرّبه وأدناهُ، ثم قال له: كيف حدّثَك عبد الرزاق بهذا ولم يُحدّث به غيرَك؟ فقال: اعلم يا أبا زكريا أني قدمتُ صنعاءَ وعبدُ الرزاق غائبٌ في قريةٍ له بعيدةٍ، فخرجت إليه وأنا عَليلٌ، فلما وصلتُ إليه سألني عن أمر خُراسان فحدّثتُه بها، وكتبتُ عنه وانصرفتُ معه إلى صنعاء، فلما ودّعتُه قال لي: قد وجبَ عليَّ حقُّك، فأنا أحدّثُك بحديثٍ لم يسمعه مني غيرُك، فحدثني - واللهِ - بهذا الحديثِ لفظًا، فصدّقه يحيى بن مَعِين واعتذَر إليه (1) .
ابوعبداللہ القرشی بیان کرتے ہیں: احمد بن یحیی الحلوانی فرماتے ہیں: جب ابوالازہر صنعاء سے آئے اور اہل بغداد سے اس حدیث کے متعلق تبادلہ خیال ہوا، تو یحیی بن معین نے اس حدیث کا انکار کر دیا۔ ایک دن انہوں نے اپنے حلقہ درس کے آخر میں کہا: وہ نیشاپوری کذاب کہاں ہے؟ جو یہ حدیث عبدالرزاق کے حوالے سے بیان کرتا ہے۔ تو ابوالازہر کھڑے ہو کے بولا: میں ہوں وہ شخص۔ یحیی بن معین اس کے اس طرح بھری مجلس میں اٹھ کر کھڑے ہو جانے اور اس کے یوں برملا اقرار پر ہنس پڑے۔ پھر اس کو اپنے قریب کر لیا اور بہت ہی قریب کر کے بولے: یہ کیسے ہو گیا کہ عبدالرزاق نے یہ حدیث صرف تم سے بیان کی اور تمہارے علاوہ اور کسی سے بیان نہیں کی: اس نے کہا: اے ابوزکریا! آپ کو پتا ہونا چاہئے کہ میں صنعاء پہنچا تو عبدالرزاق وہاں سے دور ایک بستی میں گئے ہوئے تھے۔ میں (ان سے ملاقات کے لئے اس بستی کی طرف) چل نکلا حالانکہ ان دنوں میری طبیعت بھی ناساز تھی۔ جب میں ان کے پاس پہنچا تو انہوں نے مجھ سے خراسان کے احوال پوچھے، میں نے بیان کر دیئے، پھر میں نے ان سے حدیث شریف لکھی اور ان کی معیت میں صنعاء کی طرف روانہ ہو گیا۔ جب میں ان کے پاس سے رخصت ہونے لگا تو انہوں نے مجھے کہا: میرے ذمہ تیرا ایک حق ہے۔ میں ایک حدیث تمہیں بیان کرتا ہوں، جو حدیث آج تک تیرے سوا اور کسی نے مجھ سے نہیں سنی، خدا کی قسم! پھر انہوں نے لفظ بلفظ یہی حدیث انہوں نے مجھے بیان کی۔ چنانچہ یحیی بن معین نے ان کی اس بات کو تسلیم کیا اور اپنے الفاظ واپس لئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4690M]
حدیث نمبر: 4691
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن سليمان البُرُلُّسي، حدثنا محمد بن إسماعيل، حدثنا يحيى بن يعلي، حدثنا بسّام الصَّيرفي، عن الحسن بن عمرو الفُقَيمي، عن معاوية بن ثَعلبة، عن أبي ذر قال: قال رسول الله ﷺ لعليّ بن أبي طالب:"مَن أطاعني فقد أطاعَ الله، ومن عَصاني فقد عصى الله، ومن أطاعَكَ فقد أطاعَني، ومن عَصاكَ فقد عَصاني" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4641 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4641 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: جس نے میری اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور جس نے تیری اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے تیری نافرمانی کی، اس نے میری نافرمانی۔ ٭٭ یہ صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4691]
حدیث نمبر: 4692
حدثنا بكر بن محمد الصَّيرفي بمَرْو، حدثنا إسحاق بن الحسن الحربي، حدثنا القاسم بن أبي شَيْبة، حدثنا يحيى بن يعلى الأسلمي، حدثنا عمّار بن رُزَيق، عن أبي إسحاق، عن زياد بن مُطرِّف، عن زيد بن أرقمَ، قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن يُريد أن يَحيا حياتي ويموتَ موني، ويَسكُنَ جنةَ الخُلْد التي وَعَدَنِي رَبّي، فليَتَوَلَّ عليَّ بن أبي طالب، فإنه لن يُخرجَكم من هُدًى، ولن يُدخلَكم في ضَلالةٍ" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4642 - هو إلى الوضع أقرب
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4642 - هو إلى الوضع أقرب
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص میری زندگی جیسی زندگی گزارنا چاہتا ہے، جس کا اللہ نے مجھ سے وعدہ کیا ہے، اس کو چاہئے کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اپنا والی بنا لے کیونکہ وہ تمہیں کبھی بھی ہدایت سے باہر نہیں نکالیں گے اور گمراہی میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4692]