المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
99. جَمْعُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - أَهْلَ بَيْتِهِ وَقِرَاءَةُ آيَةِ التَّطْهِيرِ .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اہلِ بیت کو جمع فرمایا اور آیتِ تطہیر کی تلاوت فرمائی
حدیث نمبر: 4702
أخبرنا أبو بكر أحمد بن جعفر بن حمدان القَطِيعي ببغداد من أصل كتابه، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا يحيى بن حماد، حدثنا أبو عَوَانة، حدثنا أبو بَلْج، حدثنا عمرو بن ميمون قال إني لَجالِسٌ إلى ابن عبّاس، إذ أتاه تسعةُ رَهْط، فقالوا: يا أبا عبّاس، إما أن تقومَ معنا، وإما أن تَخلُوَ بنا من بين هؤلاء، قال: فقال ابن عبّاس: بل أنا أقومُ معكم، قال: وهو يومئذٍ صحيحٌ قبل أن يَعْمَى، قال: فابتدَؤوا فتحدّثُوا، فلا ندري ما قالوا، قال: فجاء يَنفُضُ ثوبَه، ويقول: أُفٍّ وتُفٍّ، وَقَعُوا في رجل له بضعَ عشر فضائلَ ليست لأحدٍ غيرِه، وقَعُوا في رجل قال له النبيُّ ﷺ:"لأبعثَنَّ رجلًا لا يُخزيه الله أبدًا، يُحبُّ الله ورسوله، ويحبُّه اللهُ ورسولُه" فاستشرف لها مُستشرِفٌ، فقال:"أين عليٌّ؟ فقالوا: إنه في الرَّحَى يَطحَنُ، قال: وما كان أحدُهم ليَطحَنَ، قال: فجاء وهو أرمَدُ لا يكادُ أن يُبصِر، قال: فنَفَثَ فِي عَينَيه، ثم هَزَّ الرايةَ ثلاثًا فأعطاها إياه، فجاء عليٌّ بصفيّةَ بنت حُيَيّ. قال ابن عبّاس: ثم بعث رسولُ الله ﷺ فلانًا بسُورة التوبة، فبعث عليًّا خَلْفه، فأخذها منه، وقال:"لا يذهبُ بها إلَّا رجلٌ هو مني وأنا منه". فقال ابن عبّاس: وقال النبي ﷺ لبني عَمِّه:"أَيُّكُم يُوالِيني في الدنيا والآخرة؟" قال: وعليٌّ جالسٌ معهم، فقال رسول الله ﷺ وأقبلَ على رجلٍ رجلٍ منهم، فقال:"أيُّكم يُوالِيني في الدنيا والآخِرة؟" فأبَوْا، فقال لعليٍّ:"أنت وَليّي في الدنيا والآخرة". قال ابن عبّاس: وكان عليٌّ أولَ مَن آمن مِن الناس بعد خديجةَ. قال: وأخذ رسولُ الله ﷺ ثوبَه فوضعَه على عليٍّ وفاطمةَ وحَسنٍ وحُسينٍ، وقال: ﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾. قال ابن عبّاس: وشَرَى عليٌّ نفسه فلَبِسَ ثوبَ النبي ﷺ ثم نامَ مكانَه، قال ابن عبّاس: وكان المشركون يَرْمُون رسولَ الله ﷺ، فجاء أبو بكر وعليٌّ نائم، قال: وأبو بكر يَحسَبُ أنه رسولُ الله ﷺ، قال: فقال: يا نبيَّ الله، فقال له عليٌّ: إِنَّ نبي الله ﷺ قد انطلَقَ نحو بئر مَيمونٍ، فأدْرِكْه، قال: فانطلَقَ أبو بكر فدخَلَ معه الغارَ، قال: وجعلَ عليٌّ يُرمَى بالحجارةِ كما كان يُرمَى نبيُّ الله ﷺ وهو يَتَضوَّر وقد لفَّ رأسَه في الثوبِ لا يُخرِجُه حتى أصبحَ، ثم كَشفَ عن رأسِه، فقالوا: إنك لَلَئيم، وكان صاحبُك لا يَتضوَّرُ ونحن نَرميه، وأنت تتضَوَّر، وقد استَنكَرْنا ذلك. قال ابن عبّاس: وخرج رسولُ الله ﷺ في غزوة تبوكَ وخرج بالناس معه، قال: فقال له عليٌّ: أخرجُ معك؟ قال: فقال النبيُّ ﷺ"لا" فبكى عليّ، فقال له:"أمَا تَرضَى أن تكون مني بمنزلةِ هارون من موسى، إلَّا أنه ليس بعدي نبيٌّ، إنه لا ينبغي أن أذهَبَ إِلَّا وأنت خَلِيفتي". قال ابن عبّاس: وقال له رسول الله ﷺ:"أنت وليُّ كلِّ مؤمنٍ بَعدي ومُؤمنةٍ". قال ابن عبّاس: وسدَّ رسولُ ﷺ أبوابَ المسجد غيرَ بابِ عليٍّ، فكان يَدخُل المسجدَ جُنُبًا وهو طريقُه، ليس له طريقٌ غيره. قال ابن عبّاس: وقال رسول الله ﷺ:"مَن كنتُ مَولاهُ فَإِنَّ مَولاهُ عليٌّ". قال ابن عبّاس: وقد أخبرَنا اللهُ ﷿ في القرآن أنه رَضِيَ عن أصحاب الشجرة، فعَلِمَ ما في قُلوبهم، فهل أخبرَنا أنه سَخِطَ عليهم بعدَ ذلك؟! قال ابن عبّاس: وقال نبيُّ الله ﷺ لِعُمر حين قال: ائذَنْ لي فاضربَ عُنقَه، قال:"وكنتَ فاعلًا؟ وما يُدريكَ لعلَّ الله قد اطَّلع على أهلِ بدرٍ فقال: اعمَلُوا ما شِئتُم" (1) ..............................
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4652 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4652 - صحيح
عمر بن میمون رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں موجود تھا کہ 9 آدمیوں پر مشتمل ایک وفد ان کے پاس آیا، وہ کہنے لگے کہ یا تو آپ الگ ہو کر ہماری بات سن لیجئے یا یہیں پر تخلیہ کروا لیجئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا (یہاں بیٹھے ہوئے لوگوں کو اٹھا کر تخلیہ کرنا تو مناسب نہیں البتہ) میں تنہائی میں تمہاری بات سن لیتا ہوں۔ (سیدنا عمرو بن میمون) فرماتے ہیں: یہ ان کی بینائی زائل ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے۔ (عمرو بن میمون) کہتے ہیں: پھر ان میں کچھ دیر بات چیت ہوتی رہی، مجھے یہ تو معلوم نہیں ہے کہ ان کے مابین کیا گفتگو ہوئی تاہم (اتنا ضرور ہے کہ آپ ان کے پاس سے) افسوس کرتے ہوئے، کپڑے جھاڑ کر اٹھے اور یہ کہتے ہوئے وہاں سے واپس آ گئے کہ یہ ایسی شخصیت کے بارے میں نازیبا گفتگو کرتے ہیں، جو ایسی دس فضیلتوں کی مالک ہے جو ان کے علاوہ اور کسی کو نصیب نہیں ہو سکیں۔ وہ دس فضیلتیں یہ ہیں: (1) ان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ” اب میں ایسے شخص کو بھیجوں گا جس کو اللہ تعالیٰ کبھی رسوا نہیں کرتا وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے محبت کرتے ہیں۔ اس شرف کو حاصل کرنے کی خاطر بہت سارے لوگوں نے گردنیں اونچی کی لیکن آپ نے فرمایا: علی (رضی اللہ عنہ) کہاں ہے؟ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بتایا کہ وہ چکی میں آٹا پیس رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا: (یہ کام کسی اور کے ذمہ لگاؤ اور) ان کو میرے پاس بلاؤ، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب حاضر بارگاہ ہوئے تو آپ کی آنکھیں آئی ہوئی تھیں جس کی وجہ سے آپ کچھ دیکھ نہ سکتے تھے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعاب دہن لگایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھنڈا تین مرتبہ لہرا کر ان کے سپرد کیا، چنانچہ (اس غزوہ خیبر میں) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدہ صفیہ بنت حیی کو (قیدی بنا کر) لائے (جن کو آزاد کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح فرمایا)۔ (2) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو سورہ توبہ (میں موجود احکام کا اعلان کرنے کے لئے مکہ کی جانب) بھیجا پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اس کے پیچھے بھیجا، آپ نے اس سے وہ (احکام والا صحیفہ) لے لیا اور فرمایا (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا): اس پیغام کو صرف وہی لے جانے کا حق رکھتا ہے جو مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔ (3) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا زاد بھائیوں سے فرمایا تھا ” تم میں سے کون ہے جو دنیا اور آخرت میں میرا ساتھی بنے؟“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی ان کے ہمراہ بیٹھے ہوئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے ایک ایک کے پاس جا کر فرماتے ” تم میں سے کون ہے جو دنیا اور آخرت میں میرا ساتھی بنے؟ لیکن سب نے انکار کر دیا۔ پھر آپ نے (خود ہی) سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی جانب متوجہ ہو کر فرمایا: تم دنیا اور آخرت میں میرے ساتھی ہو۔ (4) ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد سب سے پہلے ایمان لانے والے سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں۔ (5) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر مبارک سیدنا علی، سیدہ فاطمہ، سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضوان اللہ علیہم اجمعین پر ڈال کر فرمایا: انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت ویطھرکم تطھیرا (6) آپ نے اپنے آپ کو (بازار مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم میں یوں) بیچ ڈالا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر مبارک اوڑھ کر آپ کی جگہ پر لیٹ گئے تھے۔ (7) مشرکین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پتھر مارا کرتے تھے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ وہاں پر آئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس وقت آرام کر رہے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سمجھے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرما ہیں۔ اس لئے انہوں نے یوں آواز دی: اے اللہ کے نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم )۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: اللہ کے نبی تو بئر میمون کی جانب تشریف لے جا چکے ہیں۔ آپ ان سے جا ملئے۔ چنانچہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ وہاں سے چلے اور آپ سے جا ملے اور آپ کے ہمراہ غار میں ٹھہرے۔ (ادھر) سیدنا علی پر (مشرکین کی جانب سے) اسی طرح پتھروں کی برسات ہونے لگی جیسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پتھر مارا کرتے تھے۔ سیدنا علی ان پتھروں کی تکلیف سے رو رہے تھے۔ لیکن (شدید تکلیف کے باوجود بھی) انہوں نے صبح ہونے سے پہلے اپنا چہرہ نہیں کھولا، جب صبح ہوئی تو آپ نے اپنے چہرے سے چادر ہٹائی تو مشرکین آپ کو برا بھلا کہتے ہوئے بولے، تیرے ساتھی کو ہم پتھر مارتے تھے تو وہ رویا نہیں کرتے تھے۔ جبکہ تم تو رو رہے ہو جو کہ ہمیں اچھا نہیں لگا۔ (8) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک کی جانب روانہ ہوئے اور آپ کے جان نثار صحابہ کرام بھی آپ کے ہمراہ تھے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی: میں بھی آپ کے ہمراہ جانا چاہتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو ساتھ جانے سے منع فرما دیا۔ جس پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ رو پڑے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تمہارا میرے ساتھ وہی تعلق ہو جو کہ ہارون علیہ السلام کا سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھا؟ الا یہ کہ (ہارون علیہ السلام نبی تھے جبکہ) میرے بعد (قیامت تک) کوئی نبی نہیں آ سکتا۔ مناسب یہی ہے کہ میں تمہی کو اپنا نائب بنا کر جاؤں۔ (9) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا: میرے بعد ہر مومن مرد اور عورت کے ولی تم ہو۔ (10) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے دروازے کے علاوہ مسجد کی طرف کھلنے والے تمام دروازے بند کروا دیئے تھے چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ حالت جنابت میں بھی مسجد ہی سے گزرا کرتے تھے (کیونکہ) ان کی گزرگاہ ہی یہ تھی۔ (11) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس کا میں مولیٰ ہوں، علی رضی اللہ عنہ اس کا مولیٰ ہے۔ (12) اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہمیں بتایا ہے کہ وہ ان لوگوں سے راضی ہو گیا ہے جن لوگوں نے درخت کے نیچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی۔ اور وہ ان کے دلوں کے حالات جانتا ہے۔ کیا اس کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ناراضگی کی کوئی خبر موجود ہے؟ (13) جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے منافق کی گردن مارنے کی اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یہ کام کرنا چاہتے ہو جبکہ تمہیں کیا معلوم کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کے بارے میں فرمایا ہے ” تم جو چاہو عمل کرو “ (تمہیں بخش دیا گیا ہے) ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے تاہم امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو اس سند کے ہمراہ بیان نہیں کیا ہے۔ “۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4702]
حدیث نمبر: 4703
وقد حدثنا السيد الأوحد أبو يعلى حمزة بن محمد الزَّيدي، حدثنا أبو الحسن علي بن محمد بن مَهْرُوَيهِ القَزْويني القَطّان، قال: سمعت أبا حاتم الرازي يقول: كان يُعجِبُهم أن يَجِدُوا الفضائلَ من رواية أحمد بن حَنبَل.
سید اوحد ابویعلی حمزہ بن محمد الزیدی رضی اللہ عنہ نے ابوالحسن علی بن محمد بن مہرویہ القزوینی القطان کے واسطے سے ابوحاتم الرازی کا یہ بیان نقل کیا ہے ” فضائل کے حوالے سے ہم امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کی روایات کو زیادہ پسند کرتے ہیں [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4703]