المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
99. جمع النبى - صلى الله عليه وآله وسلم - أهل بيته وقراءة آية التطهير .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اہلِ بیت کو جمع فرمایا اور آیتِ تطہیر کی تلاوت فرمائی
حدیث نمبر: 4702
أخبرنا أبو بكر أحمد بن جعفر بن حمدان القَطِيعي ببغداد من أصل كتابه، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا يحيى بن حماد، حدثنا أبو عَوَانة، حدثنا أبو بَلْج، حدثنا عمرو بن ميمون قال إني لَجالِسٌ إلى ابن عبّاس، إذ أتاه تسعةُ رَهْط، فقالوا: يا أبا عبّاس، إما أن تقومَ معنا، وإما أن تَخلُوَ بنا من بين هؤلاء، قال: فقال ابن عبّاس: بل أنا أقومُ معكم، قال: وهو يومئذٍ صحيحٌ قبل أن يَعْمَى، قال: فابتدَؤوا فتحدّثُوا، فلا ندري ما قالوا، قال: فجاء يَنفُضُ ثوبَه، ويقول: أُفٍّ وتُفٍّ، وَقَعُوا في رجل له بضعَ عشر فضائلَ ليست لأحدٍ غيرِه، وقَعُوا في رجل قال له النبيُّ ﷺ:"لأبعثَنَّ رجلًا لا يُخزيه الله أبدًا، يُحبُّ الله ورسوله، ويحبُّه اللهُ ورسولُه" فاستشرف لها مُستشرِفٌ، فقال:"أين عليٌّ؟ فقالوا: إنه في الرَّحَى يَطحَنُ، قال: وما كان أحدُهم ليَطحَنَ، قال: فجاء وهو أرمَدُ لا يكادُ أن يُبصِر، قال: فنَفَثَ فِي عَينَيه، ثم هَزَّ الرايةَ ثلاثًا فأعطاها إياه، فجاء عليٌّ بصفيّةَ بنت حُيَيّ. قال ابن عبّاس: ثم بعث رسولُ الله ﷺ فلانًا بسُورة التوبة، فبعث عليًّا خَلْفه، فأخذها منه، وقال:"لا يذهبُ بها إلَّا رجلٌ هو مني وأنا منه". فقال ابن عبّاس: وقال النبي ﷺ لبني عَمِّه:"أَيُّكُم يُوالِيني في الدنيا والآخرة؟" قال: وعليٌّ جالسٌ معهم، فقال رسول الله ﷺ وأقبلَ على رجلٍ رجلٍ منهم، فقال:"أيُّكم يُوالِيني في الدنيا والآخِرة؟" فأبَوْا، فقال لعليٍّ:"أنت وَليّي في الدنيا والآخرة". قال ابن عبّاس: وكان عليٌّ أولَ مَن آمن مِن الناس بعد خديجةَ. قال: وأخذ رسولُ الله ﷺ ثوبَه فوضعَه على عليٍّ وفاطمةَ وحَسنٍ وحُسينٍ، وقال: ﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾. قال ابن عبّاس: وشَرَى عليٌّ نفسه فلَبِسَ ثوبَ النبي ﷺ ثم نامَ مكانَه، قال ابن عبّاس: وكان المشركون يَرْمُون رسولَ الله ﷺ، فجاء أبو بكر وعليٌّ نائم، قال: وأبو بكر يَحسَبُ أنه رسولُ الله ﷺ، قال: فقال: يا نبيَّ الله، فقال له عليٌّ: إِنَّ نبي الله ﷺ قد انطلَقَ نحو بئر مَيمونٍ، فأدْرِكْه، قال: فانطلَقَ أبو بكر فدخَلَ معه الغارَ، قال: وجعلَ عليٌّ يُرمَى بالحجارةِ كما كان يُرمَى نبيُّ الله ﷺ وهو يَتَضوَّر وقد لفَّ رأسَه في الثوبِ لا يُخرِجُه حتى أصبحَ، ثم كَشفَ عن رأسِه، فقالوا: إنك لَلَئيم، وكان صاحبُك لا يَتضوَّرُ ونحن نَرميه، وأنت تتضَوَّر، وقد استَنكَرْنا ذلك. قال ابن عبّاس: وخرج رسولُ الله ﷺ في غزوة تبوكَ وخرج بالناس معه، قال: فقال له عليٌّ: أخرجُ معك؟ قال: فقال النبيُّ ﷺ"لا" فبكى عليّ، فقال له:"أمَا تَرضَى أن تكون مني بمنزلةِ هارون من موسى، إلَّا أنه ليس بعدي نبيٌّ، إنه لا ينبغي أن أذهَبَ إِلَّا وأنت خَلِيفتي". قال ابن عبّاس: وقال له رسول الله ﷺ:"أنت وليُّ كلِّ مؤمنٍ بَعدي ومُؤمنةٍ". قال ابن عبّاس: وسدَّ رسولُ ﷺ أبوابَ المسجد غيرَ بابِ عليٍّ، فكان يَدخُل المسجدَ جُنُبًا وهو طريقُه، ليس له طريقٌ غيره. قال ابن عبّاس: وقال رسول الله ﷺ:"مَن كنتُ مَولاهُ فَإِنَّ مَولاهُ عليٌّ". قال ابن عبّاس: وقد أخبرَنا اللهُ ﷿ في القرآن أنه رَضِيَ عن أصحاب الشجرة، فعَلِمَ ما في قُلوبهم، فهل أخبرَنا أنه سَخِطَ عليهم بعدَ ذلك؟! قال ابن عبّاس: وقال نبيُّ الله ﷺ لِعُمر حين قال: ائذَنْ لي فاضربَ عُنقَه، قال:"وكنتَ فاعلًا؟ وما يُدريكَ لعلَّ الله قد اطَّلع على أهلِ بدرٍ فقال: اعمَلُوا ما شِئتُم" (1) ..............................
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4652 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4652 - صحيح
عمر بن میمون رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں موجود تھا کہ 9 آدمیوں پر مشتمل ایک وفد ان کے پاس آیا، وہ کہنے لگے کہ یا تو آپ الگ ہو کر ہماری بات سن لیجئے یا یہیں پر تخلیہ کروا لیجئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا (یہاں بیٹھے ہوئے لوگوں کو اٹھا کر تخلیہ کرنا تو مناسب نہیں البتہ) میں تنہائی میں تمہاری بات سن لیتا ہوں۔ (سیدنا عمرو بن میمون) فرماتے ہیں: یہ ان کی بینائی زائل ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے۔ (عمرو بن میمون) کہتے ہیں: پھر ان میں کچھ دیر بات چیت ہوتی رہی، مجھے یہ تو معلوم نہیں ہے کہ ان کے مابین کیا گفتگو ہوئی تاہم (اتنا ضرور ہے کہ آپ ان کے پاس سے) افسوس کرتے ہوئے، کپڑے جھاڑ کر اٹھے اور یہ کہتے ہوئے وہاں سے واپس آ گئے کہ یہ ایسی شخصیت کے بارے میں نازیبا گفتگو کرتے ہیں، جو ایسی دس فضیلتوں کی مالک ہے جو ان کے علاوہ اور کسی کو نصیب نہیں ہو سکیں۔ وہ دس فضیلتیں یہ ہیں: (1) ان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ” اب میں ایسے شخص کو بھیجوں گا جس کو اللہ تعالیٰ کبھی رسوا نہیں کرتا وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے محبت کرتے ہیں۔ اس شرف کو حاصل کرنے کی خاطر بہت سارے لوگوں نے گردنیں اونچی کی لیکن آپ نے فرمایا: علی (رضی اللہ عنہ) کہاں ہے؟ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بتایا کہ وہ چکی میں آٹا پیس رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا: (یہ کام کسی اور کے ذمہ لگاؤ اور) ان کو میرے پاس بلاؤ، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب حاضر بارگاہ ہوئے تو آپ کی آنکھیں آئی ہوئی تھیں جس کی وجہ سے آپ کچھ دیکھ نہ سکتے تھے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعاب دہن لگایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھنڈا تین مرتبہ لہرا کر ان کے سپرد کیا، چنانچہ (اس غزوہ خیبر میں) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدہ صفیہ بنت حیی کو (قیدی بنا کر) لائے (جن کو آزاد کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح فرمایا)۔ (2) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو سورہ توبہ (میں موجود احکام کا اعلان کرنے کے لئے مکہ کی جانب) بھیجا پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اس کے پیچھے بھیجا، آپ نے اس سے وہ (احکام والا صحیفہ) لے لیا اور فرمایا (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا): اس پیغام کو صرف وہی لے جانے کا حق رکھتا ہے جو مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔ (3) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا زاد بھائیوں سے فرمایا تھا ” تم میں سے کون ہے جو دنیا اور آخرت میں میرا ساتھی بنے؟“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی ان کے ہمراہ بیٹھے ہوئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے ایک ایک کے پاس جا کر فرماتے ” تم میں سے کون ہے جو دنیا اور آخرت میں میرا ساتھی بنے؟ لیکن سب نے انکار کر دیا۔ پھر آپ نے (خود ہی) سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی جانب متوجہ ہو کر فرمایا: تم دنیا اور آخرت میں میرے ساتھی ہو۔ (4) ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد سب سے پہلے ایمان لانے والے سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں۔ (5) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر مبارک سیدنا علی، سیدہ فاطمہ، سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضوان اللہ علیہم اجمعین پر ڈال کر فرمایا: انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت ویطھرکم تطھیرا (6) آپ نے اپنے آپ کو (بازار مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم میں یوں) بیچ ڈالا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر مبارک اوڑھ کر آپ کی جگہ پر لیٹ گئے تھے۔ (7) مشرکین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پتھر مارا کرتے تھے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ وہاں پر آئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس وقت آرام کر رہے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سمجھے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرما ہیں۔ اس لئے انہوں نے یوں آواز دی: اے اللہ کے نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم )۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: اللہ کے نبی تو بئر میمون کی جانب تشریف لے جا چکے ہیں۔ آپ ان سے جا ملئے۔ چنانچہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ وہاں سے چلے اور آپ سے جا ملے اور آپ کے ہمراہ غار میں ٹھہرے۔ (ادھر) سیدنا علی پر (مشرکین کی جانب سے) اسی طرح پتھروں کی برسات ہونے لگی جیسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پتھر مارا کرتے تھے۔ سیدنا علی ان پتھروں کی تکلیف سے رو رہے تھے۔ لیکن (شدید تکلیف کے باوجود بھی) انہوں نے صبح ہونے سے پہلے اپنا چہرہ نہیں کھولا، جب صبح ہوئی تو آپ نے اپنے چہرے سے چادر ہٹائی تو مشرکین آپ کو برا بھلا کہتے ہوئے بولے، تیرے ساتھی کو ہم پتھر مارتے تھے تو وہ رویا نہیں کرتے تھے۔ جبکہ تم تو رو رہے ہو جو کہ ہمیں اچھا نہیں لگا۔ (8) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک کی جانب روانہ ہوئے اور آپ کے جان نثار صحابہ کرام بھی آپ کے ہمراہ تھے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی: میں بھی آپ کے ہمراہ جانا چاہتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو ساتھ جانے سے منع فرما دیا۔ جس پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ رو پڑے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تمہارا میرے ساتھ وہی تعلق ہو جو کہ ہارون علیہ السلام کا سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھا؟ الا یہ کہ (ہارون علیہ السلام نبی تھے جبکہ) میرے بعد (قیامت تک) کوئی نبی نہیں آ سکتا۔ مناسب یہی ہے کہ میں تمہی کو اپنا نائب بنا کر جاؤں۔ (9) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا: میرے بعد ہر مومن مرد اور عورت کے ولی تم ہو۔ (10) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے دروازے کے علاوہ مسجد کی طرف کھلنے والے تمام دروازے بند کروا دیئے تھے چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ حالت جنابت میں بھی مسجد ہی سے گزرا کرتے تھے (کیونکہ) ان کی گزرگاہ ہی یہ تھی۔ (11) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس کا میں مولیٰ ہوں، علی رضی اللہ عنہ اس کا مولیٰ ہے۔ (12) اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہمیں بتایا ہے کہ وہ ان لوگوں سے راضی ہو گیا ہے جن لوگوں نے درخت کے نیچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی۔ اور وہ ان کے دلوں کے حالات جانتا ہے۔ کیا اس کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ناراضگی کی کوئی خبر موجود ہے؟ (13) جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے منافق کی گردن مارنے کی اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یہ کام کرنا چاہتے ہو جبکہ تمہیں کیا معلوم کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کے بارے میں فرمایا ہے ” تم جو چاہو عمل کرو “ (تمہیں بخش دیا گیا ہے) ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے تاہم امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو اس سند کے ہمراہ بیان نہیں کیا ہے۔ “۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4702]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4702 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) ضعيف بهذه السياقة وفي بعض حروفه مناكير، تفرد به أبو بلج - واسمه يحيى بن سليم، أو ابن أبي سليم - وهو وإن قوّى أمرَه غيرُ واحد قد قال فيه البخاري: فيه نظر، وأعدل الأقوال فيه أنه يقبل حديثه فيما لا ينفرد به كما قال ابن حبان في "المجروحين"، واستنكر له الإمام أحمد هذا الحديث، فقد نقل عنه ابن الجوزي في "الموضوعات" 2/ 134 أنه قال: روى أبو بلج حديثًا منكرًا "سدوا الأبواب". وزعم الحافظ عبد الغني بن سعيد الأزدي في "إيضاح الإشكال" - فيما نقله الحافظ ابن حجر في ترجمة ميمون أبي عبد الله من "التهذيب" - أنَّ أبا بلج روى هذا الحديث عن ميمون أبي عبد الله الكندي البصري فقال: عن عمرو بن ميمون، غلط فيه. وميمون هذا ضعيفٌ أحاديثه مناكير، لكن لم يتابع أحدٌ الحافظ عبد الغني في مقالته هذه.
⚖️ درجۂ حدیث: اس سیاق کے ساتھ یہ حدیث "ضعیف" ہے اور اس کے بعض الفاظ میں "نکارت" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس میں ابو بلج (یحییٰ بن سلیم یا ابن ابی سلیم) متفرد ہے۔ اگرچہ کئی لوگوں نے اسے قوی کہا لیکن بخاری نے فرمایا: "فیہ نظر"۔ اس کے بارے میں سب سے معتدل رائے یہ ہے کہ اس کی حدیث اس وقت قبول ہوگی جب وہ منفرد نہ ہو (جیسا کہ ابن حبان نے "المجروحین" میں کہا)۔ امام احمد نے اس کی اس حدیث کو "منکر" قرار دیا۔ ابن الجوزی (الموضوعات 2/ 134) نے نقل کیا کہ امام احمد نے فرمایا: "ابو بلج نے 'دروازے بند کر دو' والی منکر حدیث روایت کی۔" 📝 تحقیق: حافظ عبدالغنی بن سعید الازدی کا خیال ہے کہ ابو بلج نے یہ حدیث میمون ابو عبداللہ الکندی البصری سے روایت کی اور غلطی سے "عمرو بن میمون" کہہ دیا۔ میمون ضعیف اور منکر الحدیث ہے، لیکن حافظ عبدالغنی کی اس بات پر کسی نے ان کی موافقت نہیں کی۔
قال شيخ الإسلام ابن تيمية في "منهاج السنة" 5/ 34 - 36 بعد أن ساق الحديث: وفيه ألفاظ هي كذب على رسول الله ﷺ، كقوله: "أما ترضى أن تكون مني بمنزلة هارون من موسى، غير أنك لست بنبي، لا ينبغي أن أذهب إلَّا وأنت خليفتي" فإنَّ النبي ﷺ ذهب غير مرة وخليفته على المدينة غير علي، كما اعتمر عمرة الحديبية، وعلى معه وخليفته غيره، وغزا بعد ذلك خيبر ومعه علي وخليفته بالمدينة غيره، وغزا غزوة الفتح وعلي معه وخليفته في المدينة غيره، وغزا حنينًا والطائف وعلي معه وخليفته في المدينة غيره، وحجَّ حجة الوداع وعلي معه وخليفته بالمدينة غيره، وغزا غزوة بدر ومعه علي وخليفته بالمدينة غيره.
📚 تجزیہ و تنقید: شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے "منہاج السنۃ" (5/ 34-36) میں حدیث ذکر کرنے کے بعد فرمایا: "اس میں ایسے الفاظ ہیں جو رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ ہیں، جیسے یہ قول: 'کیا تم اس پر راضی نہیں کہ تمہیں مجھ سے وہ نسبت ہو جو ہارون کو موسیٰ سے تھی، سوائے اس کے کہ تم نبی نہیں ہو، مناسب نہیں کہ میں جاؤں مگر یہ کہ تم میرے خلیفہ ہو'۔ (یہ اس لیے غلط ہے کیونکہ) نبی ﷺ کئی بار (مدینہ سے) گئے اور مدینہ پر ان کا خلیفہ علی کے علاوہ کوئی اور تھا۔ جیسے حدیبیہ کے عمرے میں علی آپ کے ساتھ تھے اور خلیفہ کوئی اور تھا، خیبر میں علی ساتھ تھے اور خلیفہ کوئی اور تھا، فتح مکہ، حنین اور طائف میں علی ساتھ تھے اور خلیفہ کوئی اور تھا، حجۃ الوداع اور غزوہ بدر میں بھی علی ساتھ تھے اور خلیفہ کوئی اور تھا۔"
وكل هذا معلوم بالأسانيد الصحيحة وباتفاق أهل العلم بالحديث، وكان علي معه في غالب الغزوات وإن لم يكن فيها قتال.
📌 اہم نکتہ: اور یہ سب صحیح اسانید اور علم حدیث کے ماہرین کے اتفاق سے معلوم ہے۔ اور حضرت علی اکثر غزوات میں آپ ﷺ کے ساتھ ہوتے تھے اگرچہ ان میں قتال نہ بھی ہوتا۔
فإن قيل: استخلافه يدل على أنه لا يستخلف إلَّا الأفضل لزم أن يكون عليٌّ مفضولًا في عامة الغزوات، وفي عمرته وحجته، لا سيما وكل مرة كان يكون الاستخلاف على رجال مؤمنين، وعام تبوك ما كان الاستخلاف إلَّا على النساء والصبيان ومَن عَذَرَ الله، وعلى الثلاثة الذين خلفوا، أو متهم بالنفاق، وكانت المدينة آمنة لا يُخاف على أهلها، ولا يحتاج المستخلف إلى جهاد كما يحتاج في أكثر الاستخلافات.
📚 تحقیقی بحث: اگر یہ کہا جائے کہ استخلاف (خلیفہ بنانا) اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ آپ ﷺ صرف افضل کو ہی خلیفہ بناتے تھے، تو پھر لازم آئے گا کہ علی عام غزوات، عمرے اور حج کے موقع پر (دوسروں سے) مفضول (کم تر) ہوں (کیونکہ وہ خلیفہ نہیں بنائے گئے)۔ خاص طور پر جب ہر بار استخلاف مومن مردوں پر ہوتا تھا، جبکہ تبوک کے سال استخلاف صرف عورتوں، بچوں، معذورین، پیچھے رہ جانے والے تین افراد یا منافقین پر تھا۔ اور مدینہ اس وقت محفوظ تھا، وہاں کسی خطرے کا ڈر نہیں تھا اور نہ خلیفہ کو جہاد کی ضرورت تھی جیسی اکثر مواقع پر ہوتی ہے۔
وكذلك قوله: "وسدوا الأبواب كلها إلا باب علي" فإن هذا مما وضعته الشيعة على طريق المقابلة، فإنَّ الذي في "الصحيح" عن أبي سعيد عن النبي ﷺ أنه قال في مرضه الذي مات فيه: "إن أمنَّ الناس عليّ في ماله وصحبته أبو بكر، ولو كنت متخذًا خليلًا غير ربي لاتخذت أبا بكر خليلًا، ولكن أخوّة الإسلام ومودته، لا يبقين في المسجد خوخةٌ إِلَّا سُدَّت إلَّا خوخة أبي بكر"، ورواه ابن عباس أيضًا في "الصحيحين".
📚 تقابلی جائزہ: اسی طرح یہ قول: "سب دروازے بند کر دو سوائے علی کے دروازے کے"، یہ شیعوں کا گھڑا ہوا ہے جو انہوں نے مقابلے کے طور پر وضع کیا ہے۔ کیونکہ "صحیح" حدیث میں ابو سعید سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مرض الموت میں فرمایا: "اپنی صحبت اور مال میں مجھ پر سب سے زیادہ احسان کرنے والا ابوبکر ہے... مسجد میں کوئی کھڑکی باقی نہ رہے جسے بند نہ کر دیا جائے سوائے ابوبکر کی کھڑکی کے۔" اسے ابن عباس نے بھی "صحیحین" میں روایت کیا ہے۔
ومثل قوله: "أنت وليّي في كل مؤمن بعدي" فإنَّ هذا موضوع باتفاق أهل المعرفة بالحديث، والذي فيه من الصحيح ليس هو من خصائص الأئمة، بل ولا من خصائص علي، بل قد شاركه فيه غيره، مثل كونه يحب الله ورسوله ويحبه الله ورسوله، ومثل استخلافه وكونه منه بمنزلة هارون من موسى، ومثل كون علي مولى مَن النبي ﷺ، مولاه فإن كل مؤمن موالٍ الله ورسوله، ومثل كون (براءة) لا يبلِّغها إلَّا رجل من بني هاشم، فإنَّ هذا يشترك فيه جميع الهاشميين، لما روي أن العادة كانت جارية بأن لا ينقض العهود ويحلّها إلا رجل من قبيلة المطاع.
⚖️ درجۂ حدیث: اور اسی طرح یہ قول: "تم میرے بعد ہر مومن کے ولی ہو"، یہ حدیث کے ماہرین کے اتفاق سے "موضوع" ہے۔ اس میں جو صحیح ہے وہ ائمہ کی یا حضرت علی کی خصوصیت نہیں، بلکہ دوسرے بھی اس میں شریک ہیں۔ جیسے: اللہ اور رسول سے محبت کرنا، ہارون و موسیٰ والی نسبت، "من کنت مولاہ" والی حدیث (کیونکہ ہر مومن اللہ اور رسول کا دوست ہے)، اور سورہ براءت کی تبلیغ کے لیے بنو ہاشم کے آدمی کا ہونا (یہ تمام ہاشمیوں میں مشترک ہے، کیونکہ عرب کا دستور تھا کہ عہد شکنی یا حل صرف قبیلے کا آدمی ہی کر سکتا تھا)۔
قلنا: ومع ذلك فقد صحَّحَ ابن عبد البر إسنادَ هذا الحديث في "الاستيعاب" ص 523، وأورد منه كون عليٍّ أولَ مَن أسلم بعد خديجة، وجوَّد إسنادَه الحافظُ ابن حجر في أجوبته عن أحاديث "المصابيح" المطبوعة بإثر "مشكاة المصابيح" ص 1790.
⚖️ دوسری رائے: ہم کہتے ہیں: اس سب کے باوجود ابن عبدالبر نے "الاستیعاب" (ص 523) میں اس حدیث کی سند کو "صحیح" قرار دیا ہے اور اس میں حضرت علی کا خدیجہ کے بعد سب سے پہلے اسلام لانا ذکر کیا ہے۔ اور حافظ ابن حجر نے احادیثِ مصابیح کے جوابات (مشکوٰۃ کے آخر میں مطبوعہ، ص 1790) میں اس کی سند کو "جید" (عمدہ) قرار دیا ہے۔
والحديث بطوله في "مسند أحمد" 5/ (3061).
📖 حوالہ / مصدر: یہ طویل حدیث "مسند احمد" (5/ 3061) میں موجود ہے۔
وأخرجه كذلك النسائي (8355) عن محمد بن المثنى، عن يحيى بن حماد، بهذا الإسناد. وأخرج منه الفِقرة الرابعة في كون عليٍّ أول من آمن: أحمد 5/ (3542) عن سليمان بن داود الطيالسي، عن أبي عوانة، به. لكن بلفظ: أول من صلّى مع النبي ﷺ بعد خديجة عليٌّ. وقال مرّةً: أسلم.
📖 حوالہ / مصدر: اسے نسائی (8355) نے محمد بن مثنیٰ سے، انہوں نے یحییٰ بن حماد سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اور احمد (5/ 3542) نے سلیمان بن داؤد الطیالسی سے، انہوں نے ابو عوانہ سے اس کی چوتھی فقرہ (علی کے سب سے پہلے ایمان لانے والی) روایت کی ہے۔ لیکن اس میں الفاظ یہ ہیں: "خدیجہ کے بعد نبی ﷺ کے ساتھ سب سے پہلے نماز علی نے پڑھی"، اور ایک بار "اسلم" (اسلام لائے) کا لفظ کہا۔
وأخرجها أيضًا الترمذي (3734) من طريق شعبة، عن أبي بلج، لكن بلفظ: أول من صلَّى عليٌّ.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (3734) نے شعبہ سے، انہوں نے ابو بلج سے روایت کیا، لیکن الفاظ یہ ہیں: "سب سے پہلے نماز علی نے پڑھی۔"
والفقرة الثالثة منه، وهي قوله ﷺ لبني عمّه: "أيكم يُواليني في الدنيا والآخرة" إلى آخره، وأنَّ عليًّا استجاب لذلك وحدَه، ستأتي مفردة برقم (4706) من طريق كثير بن يحيى عن أبي عوانة.
📌 اہم نکتہ: اس کا تیسرا فقرہ (جس میں نبی ﷺ کا اپنے چچا زاد بھائیوں سے "کون مجھ سے دنیا و آخرت میں دوستی کرے گا..." کا قول اور صرف علی کا جواب دینا مذکور ہے) آگے الگ سے نمبر (4706) پر کثیر بن یحییٰ عن ابی عوانہ کے طریق سے آئے گا۔
وتقدمت الفقرة السادسة منه في قصة نوم علي بن أبي طالب مكانَ النبي ﷺ في فراشه لما أجمع المشركون على قتله، برقم (4309) من طريق كثير بن يحيى صاحب البصري عن أبي عوانة.
📌 اہم نکتہ: اس کا چھٹا فقرہ (علی کے نبی ﷺ کے بستر پر سونے کا واقعہ جب مشرکین نے قتل کا ارادہ کیا تھا) پیچھے نمبر (4309) پر کثیر بن یحییٰ صاحب البصری عن ابی عوانہ کے طریق سے گزر چکا ہے۔
وأخرج منه الفقرة التاسعة في الأمر بسدِّ الأبواب إلّا باب عليٍّ: النسائي (8374) عن محمد بن المثنى، عن يحيى بن حماد، به.
📖 حوالہ / مصدر: اور اس کا نواں فقرہ (علی کے دروازے کے سوا سب دروازے بند کرنے کا حکم) نسائی (8374) نے محمد بن مثنیٰ سے، انہوں نے یحییٰ بن حماد سے روایت کیا ہے۔
وأخرجها كذلك الترمذي، (3732) والنسائي (8373) من طريقين عن شعبة بن الحجاج، عن أبي بلج، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسی طرح اسے ترمذی (3732) اور نسائی (8373) نے شعبہ بن الحجاج کے دو طریقوں سے، انہوں نے ابو بلج سے، اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
ويشهد للفِقرة الأولى في قصة إعطائه ﷺ الرايةَ يوم خيبر: حديثُ سلمة بن الأكوع عند أحمد 27/ (16538)، والبخاري (2975) و (3702)، ومسلم (1807) و (2407).
🧩 متابعات و شواہد: حدیث کے پہلے حصے یعنی خیبر کے دن نبی کریم ﷺ کے حضرت علی کو جھنڈا دینے کے واقعے کی تائید (شواہد) میں: سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے جو احمد (27/ 16538)، بخاری (2975، 3702) اور مسلم (1807، 2407) کے ہاں موجود ہے۔
وحديث سهل بن سعد عند أحمد 37/ (22821)، والبخاري (2942)، ومسلم (2406).
🧩 متابعات و شواہد: اور سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے جو احمد (37/ 22821)، بخاری (2942) اور مسلم (2406) کے ہاں موجود ہے۔
وحديث أبي هريرة عند أحمد 14/ (8990)، ومسلم (2405).
🧩 متابعات و شواہد: اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے جو احمد (14/ 8990) اور مسلم (2405) کے ہاں موجود ہے۔
وحديث علي بن أبي طالب نفسه عند أحمد (2 (778)، وابن ماجه (117)، والنسائي (8345).
🧩 متابعات و شواہد: اور خود حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے جو احمد (2/ 778)، ابن ماجہ (117) اور نسائی (8345) کے ہاں موجود ہے۔
وحديث عمران بن حصين عند النسائي (8094)
🧩 متابعات و شواہد: اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے جو نسائی (8094) کے ہاں موجود ہے۔
وحديث الحسن بن علي سبط النبي ﷺ عند النسائي (8354).
🧩 متابعات و شواہد: اور نبی کریم ﷺ کے نواسے حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی حدیث ہے جو نسائی (8354) کے ہاں موجود ہے۔
وحديث سعد بن أبي وقاص، وقد سلف برقم (4626).
🧩 متابعات و شواہد: اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے جو پیچھے نمبر (4626) پر گزر چکی ہے۔
وحديث جابر بن عبد الله، وقد سلف برقم (4390)
🧩 متابعات و شواہد: اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی حدیث ہے جو پیچھے نمبر (4390) پر گزر چکی ہے۔
وحديث بُريدة الأسلمي، وسيأتي برقم (5956).
🧩 متابعات و شواہد: اور بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے جو آگے نمبر (5956) پر آئے گی۔
وأما الفقرة الثانية في قصة إرساله ﷺ عليًا بسورة التوبة، فقد سلفت برقم (4423) من طريق مقسم عن ابن عبّاس.
🧾 تفصیلِ روایت: جہاں تک حدیث کے دوسرے حصے کا تعلق ہے، یعنی نبی کریم ﷺ کا حضرت علی کو سورہ توبہ دے کر بھیجنے کا واقعہ، تو وہ نمبر (4423) پر مقسم عن ابن عباس کے طریق سے گزر چکا ہے۔
ويشهد لها حديثُ علي بن أبي طالب نفسه كما تقدم برقم (4424).
🧩 متابعات و شواہد: اس واقعے کی تائید میں خود حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی حدیث بھی ہے جو نمبر (4424) پر گزر چکی ہے۔
وحديثُ أبي هريرة الذي تقدم برقم (3314).
🧩 متابعات و شواہد: اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث بھی شاہد ہے جو نمبر (3314) پر گزر چکی ہے۔
وحديث جابر بن عبد الله عند ابن حبان (6645)، وغيره. ورجاله ثقات. وحديث أنس عند أحمد 20 / (13214)، والترمذي (3090) وحسّنه.
🧩 متابعات و شواہد: نیز جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی حدیث جو ابن حبان (6645) وغیرہ کے ہاں ہے۔ اس کے تمام راوی "ثقہ" ہیں۔ اور انس رضی اللہ عنہ کی حدیث جو احمد (20/ 13214) اور ترمذی (3090) کے ہاں ہے، اور ترمذی نے اسے "حسن" قرار دیا ہے۔
ولقوله ﷺ: "لا يذهب بها إلّا رجلٌ مني وأنا منه" شاهدٌ من حديث حُبْشي بن جُنادة عند أحمد 29/ (17505) و (17506) وغيره، ولفظه: "عليٌّ مني وأنا منه، ولا يؤدِّي عني إلّا أنا أو عليّ"، وفي سنده مقال كما هو مبيّن في "مسند أحمد".
🧩 متابعات و شواہد: نبی کریم ﷺ کے اس فرمان: "اسے لے کر نہیں جائے گا مگر وہ شخص جو مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں" کے لیے حبشی بن جنادہ کی حدیث شاہد ہے جو احمد (29/ 17505، 17506) وغیرہ کے ہاں ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: "علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں، اور میری طرف سے (پیغام) ادا نہیں کرے گا مگر میں یا علی۔" 🔍 فنی نکتہ / علّت: البتہ حبشی بن جنادہ کی سند میں کلام (مقال) ہے جیسا کہ "مسند احمد" کی تحقیق میں واضح کیا گیا ہے۔
قال الواحديُّ في "تفسيره الوسيط" 2/ 478: ذكر الزَّجّاجُ السببَ في تولية عليٍّ تلاوةَ براءة، قال: إِنَّ العرب جرت عادتُها في عقد عهودها ونقضها أن يتولى ذلك عن القبيلة رجلٌ منها، وكان جائزًا أن يقول العرب إذا تلا عليها نقضَ العهد من الرسول مَن هو من غير رَهْطه: هذا خلاف ما نعرف فينا في نقض العهود، فأزاحَ النبي ﷺ العلة في ذلك.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: واحدی نے اپنی "تفسیر الوسیط" (2/ 478) میں فرمایا: زجاج نے سورہ براءت کی تلاوت کے لیے حضرت علی کو مقرر کرنے کی وجہ (سبب) ذکر کی ہے۔ انہوں نے کہا: عربوں کی یہ عادت تھی کہ عہد باندھنے اور توڑنے کا کام قبیلے کی طرف سے وہی شخص سرانجام دیتا تھا جو اسی قبیلے کا فرد ہو۔ اگر رسول اللہ ﷺ کی طرف سے عہد توڑنے کا اعلان آپ کے خاندان (رہط) کے علاوہ کوئی اور کرتا تو ممکن تھا کہ عرب کہتے: "یہ ہمارے عہد توڑنے کے رواج کے خلاف ہے۔" چنانچہ نبی کریم ﷺ نے اس (اعتراض کی) علت کو ختم فرما دیا۔
ثم نَقَل عن الجاحظ الأديب قولَه: هذا ليس بتفضيل منه لعليٍّ على غيره، ولكن عامل العربَ على مثل ما كان بعضهم يتعارفه من بعضٍ كعادتهم في عقد الحِلْف وحلّ العَقْد كان لا يتولى ذاك إلّا السيد منهم أو رجل من رهطه، كأخٍ أو عمٍّ، فلذلك قال النبي ﷺ هذا القول.
📝 نوٹ / توضیح: پھر انہوں نے ادیب جاحظ کا قول نقل کیا کہ: "یہ (اس مخصوص واقعے میں) علی کی دوسروں پر فضیلت کی وجہ سے نہیں تھا، بلکہ آپ ﷺ نے عربوں کے ساتھ وہی معاملہ کیا جو ان کے درمیان معروف تھا، جیسے حلف اٹھانے اور معاہدہ ختم کرنے میں ان کا رواج تھا کہ یہ کام یا تو سردار خود کرتا تھا یا اس کے خاندان کا کوئی آدمی جیسے بھائی یا چچا۔ اسی لیے نبی کریم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی۔"
قلنا: ويؤيده التعبيرُ بما يدل على خصوص سورة التوبة في هذا الحديث، حيث قال فيه: "لا يذهب بها" وكذلك جاء في حديث أنس الذي تقدم ذكره في الشواهد، حيث جاء فيه: "لا ينبغي لأحدٍ أن يبلغ هذا إلّا رجل من أهلي". قال الحافظ ابن حجر في "الفتح" 13/ 328: يُعرف منه أنَّ المراد خصوص القصة المذكورة لا مطلق التبليغ.
📌 اہم نکتہ: ہم کہتے ہیں: اس بات کی تائید اس تعبیر سے بھی ہوتی ہے جو اس حدیث میں سورہ توبہ کی تخصیص پر دلالت کرتی ہے، جہاں آپ ﷺ نے فرمایا: "اسے (سورہ توبہ کو) لے کر نہیں جائے گا..."۔ اسی طرح حضرت انس کی حدیث میں بھی آیا ہے جو شواہد میں گزر چکی ہے کہ: "کسی کے لیے مناسب نہیں کہ اس (پیغام) کی تبلیغ کرے سوائے میرے اہل (خاندان) کے ایک آدمی کے۔" حافظ ابن حجر نے "الفتح" (13/ 328) میں فرمایا: "اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مراد صرف مذکورہ واقعہ (سورہ توبہ کی تبلیغ) ہے، نہ کہ مطلق تبلیغ (دین)۔"
ويشهد للفقرة الرابعة منه في قصة كون عليّ بن أبي طالب أولَ من أسلم، حديث زيد بن أرقم الآتي برقم (4714)، وإسناده حسن إن شاء الله، وبعض رواياته بلفظ: أول من صلَّى.
🧩 متابعات و شواہد: حدیث کے چوتھے حصے یعنی حضرت علی بن ابی طالب کے "سب سے پہلے اسلام لانے" کے واقعے کی تائید میں زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے جو آگے نمبر (4714) پر آئے گی۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ان شاء اللہ "حسن" ہے، اور اس کی بعض روایات میں "اول من صلی" (سب سے پہلے نماز پڑھنے والے) کے الفاظ ہیں۔
وروي بلفظ: أول من صلّى من حديث علي بن أبي طالب نفسه عند أحمد 2/ (1191)، والنسائي (8332) وغيرهما. وفي إسناده ضعفٌ.
🧩 متابعات و شواہد: اور "سب سے پہلے نماز پڑھنے والے" کے الفاظ کے ساتھ یہ خود حضرت علی بن ابی طالب سے بھی مروی ہے جو احمد (2/ 1191) اور نسائی (8332) وغیرہ کے ہاں ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند میں "ضعف" ہے۔
ومن حديث سعد بن أبي وقاص كما سيأتي عند المصنف برقم (6241) بلفظ: ألم يكن أولَ من أسلم، ألم يكن أولَ من صلّى مع رسول الله ﷺ. فجمعهما. وإسناده ليّن.
🧩 متابعات و شواہد: اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی حدیث سے بھی مروی ہے جو مصنف کے ہاں آگے نمبر (6241) پر آئے گی، جس کے الفاظ ہیں: "کیا وہ سب سے پہلے اسلام لانے والے نہیں تھے؟ کیا وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سب سے پہلے نماز پڑھنے والے نہیں تھے؟" انہوں نے دونوں باتوں کو جمع کیا۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "لین" (کمزور/نرم) ہے۔
وانظر حديث ابن عبّاس المتقدم برقم (4633).
📌 اہم نکتہ: ابن عباس رضی اللہ عنہما کی وہ حدیث ملاحظہ کریں جو پیچھے نمبر (4633) پر گزر چکی ہے۔
وسلف عن عمرو بن عَبَسَة (4467) و (4468) أنه سأل النبي ﷺ عمَّن تَبِعه، فقال له النبي ﷺ: "حرٌّ وعبدٌ: أبو بكر وبلال"، وإسناده صحيح.
📝 نوٹ / توضیح: عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے پہلے گزر چکا ہے (4467 اور 4468) کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا کہ آپ کا پیروکار کون ہے؟ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "ایک آزاد اور ایک غلام: ابوبکر اور بلال۔" ⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
وروي عن أبي بكر - بسند رجاله ثقات إلا أنه اختلف في وصله وإرساله - أنه قال: ألست أحقَّ الناس بها؟ ألست أولَ من أسلم؟ أخرجه الترمذي (3667)، وابن حبان (6863).
🧾 تفصیلِ روایت: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے - ایسی سند کے ساتھ جس کے رجال "ثقہ" ہیں مگر اس کے موصول یا مرسل ہونے میں اختلاف ہے - کہ انہوں نے فرمایا: "کیا میں لوگوں میں اس (خلافت/اسلام) کا سب سے زیادہ حقدار نہیں ہوں؟ کیا میں سب سے پہلے اسلام لانے والا نہیں ہوں؟" 📖 حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (3667) اور ابن حبان (6863) نے روایت کیا ہے۔
ولذلك اختلف أهل العلم في هذا - كما قال الترمذي في "جامعه" (3734) - فقال بعضهم: أول من أسلم أبو بكر الصديق، وقال بعضهم: أول من أسلم عليّ، وقال بعض أهل العلم: أول من أسلم من الرجال أبو بكر، وأسلم عليٌّ وهو غلام ابن ثمان سنين، وأول من أسلم من النساء خديجة.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: اسی وجہ سے اہل علم کا اس بارے میں اختلاف ہے - جیسا کہ ترمذی نے اپنی "جامع" (3734) میں کہا - بعض نے کہا: سب سے پہلے اسلام لانے والے ابوبکر صدیق ہیں۔ بعض نے کہا: سب سے پہلے اسلام لانے والے علی ہیں۔ اور بعض اہل علم نے کہا: مردوں میں سب سے پہلے اسلام لانے والے ابوبکر ہیں، اور علی اس وقت اسلام لائے جب وہ آٹھ سال کے لڑکے تھے، اور عورتوں میں سب سے پہلے اسلام لانے والی خدیجہ ہیں۔
وقال ابن عبد البر في "الاستيعاب" ص 524: والصحيح في أمر أبي بكر أنه أول من أظهر إسلامه، كذلك قال مجاهد وغيره، وقالوا: ومَنَعَه قومه، وقال ابن شهاب وعبد الله بن محمد بن عقيل وقتادة وأبو إسحاق: أول من أسلم من الرجال عليّ. ثم أسند ابن عبد البر عن محمد بن كعب القُرَظي مثلَ ذلك.
📌 اہم نکتہ: ابن عبدالبر نے "الاستیعاب" (ص 524) میں فرمایا: "ابوبکر کے معاملے میں صحیح بات یہ ہے کہ وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے اپنے اسلام کا اظہار کیا، یہی بات مجاہد وغیرہ نے کہی ہے۔ اور انہوں نے کہا کہ ان کی قوم نے انہیں (تکلیف پہنچانے سے) روکا۔ جبکہ ابن شہاب، عبداللہ بن محمد بن عقیل، قتادہ اور ابو اسحاق کا کہنا ہے کہ مردوں میں سب سے پہلے اسلام لانے والے علی ہیں۔" پھر ابن عبدالبر نے محمد بن کعب القرظی سے بھی اسی طرح کی روایت سند کے ساتھ ذکر کی۔
ويشهد للفِقرة الخامسة في قصة أخذ رسول الله ﷺ ثوبه ووضعه له عليّ علي وفاطمة وحسن وحسين … إلخ، حديثُ وائلة بن الأسقع عند أحمد 28 / (16988)، وابن حبان (6976)، وتقدم برقم (3601).
🧩 متابعات و شواہد: حدیث کے پانچویں حصے یعنی رسول اللہ ﷺ کا اپنی چادر لے کر اسے علی، فاطمہ، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم پر ڈالنے کے واقعے کی تائید میں واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے جو احمد (28/ 16988) اور ابن حبان (6976) کے ہاں موجود ہے اور نمبر (3601) پر گزر چکی ہے۔
وحديثُ عائشة عند مسلم (2424)، وسيأتي برقم (4758).
🧩 متابعات و شواہد: اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث بھی ہے جو مسلم (2424) میں ہے اور آگے نمبر (4758) پر آئے گی۔
وحديث أم سلمة عند أحمد 44/ (26508)، وتقدم برقم (3600).
🧩 متابعات و شواہد: اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث بھی ہے جو احمد (44/ 26508) میں ہے اور نمبر (3600) پر گزر چکی ہے۔
وحديث سعد بن أبي وقاص عند أحمد 3 / (1608)، ومسلم (2404)، وغيرهما، وتقدم برقم (4626). غير أن في بعض طرقه: أن هذا الصنيع منه ﷺ كان بعد نزول آية المباهلة.
🧩 متابعات و شواہد: اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی حدیث بھی ہے جو احمد (3/ 1608) اور مسلم (2404) وغیرہ میں ہے اور نمبر (4626) پر گزر چکی ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: البتہ اس کے بعض طرق میں یہ وضاحت ہے کہ نبی کریم ﷺ کا یہ عمل "آیت مباہلہ" نازل ہونے کے بعد تھا۔
ويشهد للفقرة السابعة في قصة تخلُّف عليٍّ عن غزوة تبوك، وما قاله له النبيُّ ﷺ، دون قوله: "إنه لا ينبغي أن أذهبَ إِلَّا وأنت خَليفتي" حديثُ سعد بن أبي وقاص عند البخاري (4416)، ومسلم (2404)، وقد تقدّم برقم (4626).
🧩 متابعات و شواہد: حدیث کے ساتویں حصے یعنی غزوہ تبوک سے حضرت علی کے پیچھے رہ جانے کے واقعے اور نبی کریم ﷺ کے ان سے گفتگو کی تائید میں سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے جو بخاری (4416) اور مسلم (2404) میں ہے اور نمبر (4626) پر گزر چکی ہے۔ (نوٹ: اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں کہ "مناسب نہیں کہ میں جاؤں مگر یہ کہ تم میرے خلیفہ ہو")۔
ولقوله في هذه القصة: "أما ترضى أن تكون مني بمنزلة هارون من موسى إلا أنه لا نبي بعدي" فقط شاهدٌ من حديث أسماء بنت عُمَيس عند أحمد 45 / (27081)، والنسائي (8087)، وإسناده صحيح.
🧩 متابعات و شواہد: اس واقعے میں نبی ﷺ کے صرف اس قول: "کیا تم اس پر راضی نہیں کہ تمہیں مجھ سے وہ نسبت ہو جو ہارون کو موسیٰ سے تھی، سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں"، کے لیے اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کی حدیث شاہد ہے جو احمد (45/ 27081) اور نسائی (8087) میں ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
ومن حديث جابر بن عبد الله عن أحمد 23/ (14638)، والترمذي (3730)، وحسّنه الترمذي.
🧩 متابعات و شواہد: اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی حدیث سے بھی شاہد موجود ہے جو احمد (23/ 14638) اور ترمذی (3730) میں ہے، اور ترمذی نے اسے "حسن" قرار دیا ہے۔
قال أبو نُعيم في "الإمامة والردِّ على الرافضة" ص 221: إنما خرج هذا القولُ من النبي ﷺ عام تبوك إذ خلَّفه بالمدينة، فذكر المنافقون أنه مَلَّهُ وكره صحبتَه، فلحق بالرسول ﷺ، فذكر له قولهم، فقال ﷺ: بل خلّفتك كما خَلّف موسى هارونَ.
📝 نوٹ / توضیح: ابو نعیم نے "الامامۃ والرد علی الرافضۃ" (ص 221) میں فرمایا: نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان تبوک کے سال اس وقت سامنے آیا جب آپ نے علی کو مدینہ میں پیچھے چھوڑا، تو منافقین نے باتیں بنائیں کہ آپ ان سے اکتا گئے ہیں اور ان کا ساتھ ناپسند کیا ہے۔ چنانچہ علی (یہ سن کر) رسول اللہ ﷺ سے جا ملے اور ان کی باتیں ذکر کیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: "بلکہ میں نے تمہیں پیچھے اسی طرح چھوڑا ہے جیسے موسیٰ نے ہارون کو چھوڑا تھا۔"
وقال ابن عبد البر في "الاستيعاب" ص 526: رواه جماعة من الصحابة، وهو من أثبت الآثار وأصحها.
📌 اہم نکتہ: ابن عبدالبر نے "الاستیعاب" (ص 526) میں فرمایا: "اسے صحابہ کی ایک جماعت نے روایت کیا ہے، اور یہ سب سے زیادہ ثابت اور صحیح آثار میں سے ہے۔"
وقوله في الفقرة الثامنة: "أنت وليي في كل مؤمن بعدي"، روي نحوه في حديث عمران بن حصين عند أحمد 33 / (19928)، والترمذي، (3712)، والنسائي (8090)، وغيرهم، وفيه: "وهو ولي كل مؤمن بعدي"، وفي إسناده جعفر بن سليمان الضبعي وهذا مختلف فيه وفيه ضعف وتشيُّع، كما روي نحوه من حديث أجلح بن عبد الله الكِنْدي عن عبد الله بن بريدة عن أبيه، عند أحمد 38 / (23012) والنسائي (8421)، وفيه: "وهو وليُّكم بعدي"، وأجلح أيضًا فيه ضعف وتشيُّع، والمحفوظ فيه حديث سعد بن عبيدة عن عبد الله بن بريدة المتقدم برقم (2621) بلفظ: "من كنتُ وليَّه فإنَّ عليًّا وليُّه"، وحديث ابن عباس عن بريدة المتقدم برقم (4629) بلفظ: "من كنت مولاه فعليٌّ مولاه".
🧩 متابعات و شواہد: آٹھویں فقرے میں آپ ﷺ کا فرمان: "تم میرے بعد ہر مومن کے ولی ہو"، اس کی مثل عمران بن حصین کی حدیث میں مروی ہے جو احمد (33/ 19928)، ترمذی (3712) اور نسائی (8090) وغیرہ کے ہاں ہے۔ اس میں الفاظ ہیں: "اور وہ میرے بعد ہر مومن کے ولی ہیں۔" اس کی سند میں جعفر بن سلیمان الضبعی ہے جو "مختلف فیہ" ہے اور اس میں "ضعف" اور تشیع پایا جاتا ہے۔ اسی طرح یہ اجلح بن عبداللہ الکندی عن عبداللہ بن بریدہ عن ابیہ کی حدیث سے بھی مروی ہے جو احمد (38/ 23012) اور نسائی (8421) میں ہے، جس میں الفاظ ہیں: "وہ میرے بعد تمہارے ولی ہیں۔" اجلح میں بھی ضعف اور تشیع ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس میں "محفوظ" سعد بن عبیدہ عن عبداللہ بن بریدہ کی حدیث ہے جو نمبر (2621) پر گزری ہے، جس کے الفاظ ہیں: "جس کا میں ولی ہوں تو علی بھی اس کا ولی ہے۔" اور ابن عباس عن بریدہ کی حدیث جو نمبر (4629) پر گزری ہے، جس کے الفاظ ہیں: "جس کا میں مولا ہوں تو علی بھی اس کا مولا ہے۔"
ويشهد له بلفظ: "من كنت مَولاه فعليٌّ مَولاه" حديث زيد بن أرقم عند أحمد 32 / (19302) والنسائي (8092) و (8410) و (8424)، وابن حبان (6931)، وتقدَّم برقم (4627). وإسناده صحيح.
🧩 متابعات و شواہد: اور "من کنت مولاہ فعلی مولاہ" کے الفاظ کے ساتھ اس کی شاہد زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے جو احمد (32/ 19302)، نسائی (8092، 8410، 8424) اور ابن حبان (6931) کے ہاں ہے اور نمبر (4627) پر گزر چکی ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
وانظر حديث سعد بن أبي وقاص المتقدم برقم (4651).
📌 اہم نکتہ: سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی حدیث بھی دیکھیں جو نمبر (4651) پر گزر چکی ہے۔
وحديث سعيد بن وهب عن جماعة من الصحابة عند أحمد 38 / (23107)، والنسائي (8417)، وإسناده صحيح.
🧩 متابعات و شواہد: اور سعید بن وہب کی حدیث جو صحابہ کی ایک جماعت سے مروی ہے، وہ احمد (38/ 23107) اور نسائی (8417) میں ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
وأما لفظ: "وليّ كل مؤمن بعدي" فقال شيخ الإسلام ابن تيمية في "منهاج السنة" 7/ 391 - 392: هذا كذب على رسول الله ﷺ، بل هو في حياته وبعد مماته وليُّ كل مؤمن، وكل مؤمن وليُّه في المحيا والممات، فالولاية التي هي ضد العداوة لا تختص بزمان، وأما الولاية التي هي الإمارة، فيقال فيها: والي كلِّ مؤمن بعدي، كما يقال في صلاة الجنازة: إذا اجتمع الولي والوالي قُدّم الوالي في قول الأكثر. فقول القائل: "علي ولي كل مؤمن بعدي" كلام يمتنع نسبته إلى النبي ﷺ، فإنه إن أراد الموالاة لم يحتج أن يقول: "بعدي"، وإن أراد الإمارة كان ينبغي أن يقول: والٍ على كل مؤمن.
📚 تحقیق و تنقید: جہاں تک ان الفاظ "میرے بعد ہر مومن کے ولی" کا تعلق ہے، تو شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے "منہاج السنۃ" (7/ 391-392) میں فرمایا: "یہ رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ ہے۔ بلکہ علی تو آپ ﷺ کی زندگی میں اور آپ کی وفات کے بعد (ہر حال میں) ہر مومن کے ولی (دوست) ہیں، اور ہر مومن زندگی اور موت میں ان کا ولی ہے۔ کیونکہ 'ولایت' جو عداوت کی ضد ہے وہ کسی زمانے کے ساتھ خاص نہیں ہوتی۔ رہی وہ ولایت جو امارت (حکومت) کے معنی میں ہے تو اس کے لیے کہا جاتا ہے: 'میرے بعد ہر مومن کے والی (حکمران)'۔ جیسے نماز جنازة میں کہا جاتا ہے کہ اگر ولی اور والی جمع ہو جائیں تو اکثر کے قول کے مطابق والی کو مقدم کیا جائے گا۔ لہٰذا یہ کہنا کہ 'علی میرے بعد ہر مومن کے ولی ہیں' ایسا کلام ہے جس کی نسبت نبی ﷺ کی طرف کرنا ممتنع (ناممکن) ہے۔ کیونکہ اگر مراد دوستی تھی تو 'بعدی' (میرے بعد) کہنے کی ضرورت نہیں تھی، اور اگر مراد امارت تھی تو کہنا چاہیے تھا: 'والٍ علی کل مؤمن' (ہر مومن پر حاکم)۔"
وأما الفِقرة التاسعة في قصة سدّ أبواب المسجد إلّا باب عليٍّ، فقد روي ما يشهد لها من حديث ابن عمر عند أحمد 8/ ((4797)، وإسناده فيه ضعفٌ.
🧩 متابعات و شواہد: نویں فقرے یعنی علی کے دروازے کے سوا مسجد کے تمام دروازے بند کرنے کے واقعے کے لیے ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث سے شاہد موجود ہے جو احمد (8/ 4797) میں ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند میں "ضعف" ہے۔
وحديث زيد بن أرقم عند أحمد 32 / (19287)، والنسائي (8369)، وتقدم عند المصنف برقم (4681)، وإسناده ضعيف جدًّا.
🧩 متابعات و شواہد: اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے جو احمد (32/ 19287) اور نسائی (8369) میں ہے، اور مصنف کے ہاں نمبر (4681) پر گزر چکی ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "انتہائی ضعیف" (ضعیف جداً) ہے۔
وحديث سعد بن أبي وقاص عند أحمد 3/ (1511)، والنسائي (8372)، وإسناده ضعيف كما تقدم بيانه برقم (4651).
🧩 متابعات و شواہد: اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے جو احمد (3/ 1511) اور نسائی (8372) میں ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "ضعیف" ہے جیسا کہ نمبر (4651) پر بیان ہو چکا۔
وجاء في رواية من حديث ابن عمر عند الطحاوي في "شرح المشكل" (3558)، والطبراني في "الكبير" (13760)، وغيرهما، قال: سدّ أبوابنا في المسجد وأقرَّ بابه. وهو لفظ رواية زيد بن أبي أُنيسة عن أبي إسحاق، وانفرد بزيادتها زيد بن أبي أُنيسة، وهي رواية شاذّة، ورواية الباقين أبي إسحاق عن النسائي (8435 - 8437) وغيره بدونها أصحُّ.
🔍 فنی نکتہ / علّت: ابن عمر کی حدیث سے ایک روایت میں جو طحاوی (شرح المشکل: 3558) اور طبرانی (الکبیر: 13760) وغیرہ کے ہاں ہے، آیا ہے کہ: "مسجد میں ہمارے دروازے بند کروا دیے اور علی کے دروازے کو برقرار رکھا۔" یہ زید بن ابی انیسہ عن ابی اسحاق کے الفاظ ہیں، اور اس زیادتی کے ساتھ زید بن ابی انیسہ "متفرد" ہیں۔ یہ روایت "شاذ" ہے۔ جبکہ باقی راویوں کی روایت جو ابو اسحاق سے (نسائی 8435-8437 وغیرہ میں) بغیر اس اضافے کے ہے، وہ "زیادہ صحیح" ہے۔
وهذا معارَض بأحاديث صحيحة في الأمر بسدِّ الأبواب إلا باب أبي بكر، كما في حديث ابن عبّاس عند البخاري (467)، وحديث أبي سعيد الخُدْري عند البخاري (466) ومسلم (2382)، وحديث عائشة عند الترمذي (3678) وابن حبان (6857).
📚 تعارض و تطبیق: یہ روایت ان صحیح احادیث کے معارض (خلاف) ہے جن میں ابوبکر کے دروازے کے سوا باقی دروازے بند کرنے کا حکم ہے۔ جیسے ابن عباس کی حدیث بخاری (467) میں، ابو سعید خدری کی حدیث بخاری (466) اور مسلم (2382) میں، اور عائشہ کی حدیث ترمذی (3678) اور ابن حبان (6857) میں۔
وقد ذهب إلى الجمع بين القصتين الطحاوي في "شرح المشكل" بإثر الحديث (3561)، والكلاباذي في "معاني الأخبار" ص 106، وابن الجزري في "مناقب الأسد الغالب علي بن أبي طالب" بإثر الخبر (20)، وابن حجر في "القول المسدَّد" ص 22. فانظر كلامهم في ذلك.
📚 تطبیق: طحاوی نے "شرح المشکل" (حدیث 3561 کے بعد)، کلاباذی نے "معانی الاخبار" (ص 106)، ابن الجزری نے "مناقب الاسد الغالب" (خبر 20 کے بعد) اور ابن حجر نے "القول المسدد" (ص 22) میں ان دونوں واقعات کے درمیان جمع (تطبیق) دینے کی کوشش کی ہے۔ آپ اس بارے میں ان کا کلام دیکھ سکتے ہیں۔
وأما دخول عليٍّ المسجدَ وهو جنب، فقد روي فيه حديث أبي سعيد الخُدْري عند الترمذي (3727)، قال: قال رسول الله ﷺ لعليّ: "يا عليُّ، لا يحل لأحدٍ يُجنب في هذا المسجد غيري وغيرك"، وإسناده ضعيف.
🧾 تفصیلِ روایت: جہاں تک حضرت علی کے جنابت کی حالت میں مسجد میں داخل ہونے کا معاملہ ہے، تو اس بارے میں ابو سعید خدری کی حدیث ترمذی (3727) میں مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے علی سے فرمایا: "اے علی! میرے اور تمہارے سوا کسی کے لیے حلال نہیں کہ وہ اس مسجد میں جنبی ہو (یا حالت جنابت میں رہے)۔" ⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "ضعیف" ہے۔
وفي مرسل المطّلب بن عبد الله بن حَنْطَب عند القاضي إسماعيل في "أحكام القرآن" (138): أن النبي ﷺ لم يكن أَذن لأحدٍ أن يمُرَّ في المسجد ولا يجلس فيه وهو جنب إلّا علي بن أبي طالب، فإنه كان يدخله جنبًا ويمُرُّ فيه، لأنَّ بيته كان في المسجد. قال ابن حجر في "القول المسدَّد" ص 21: هذا مرسل قويّ. قلنا: بل فيه كثير بن زيد الأسلمي وهو ليّن الحديث.
🧩 متابعات و شواہد: مطلب بن عبداللہ بن حنطب کی "مرسل" روایت قاضی اسماعیل کی "احکام القرآن" (138) میں ہے کہ: نبی ﷺ نے کسی کو جنابت کی حالت میں مسجد سے گزرنے یا بیٹھنے کی اجازت نہیں دی سوائے علی بن ابی طالب کے، وہ حالت جنابت میں اس میں داخل ہوتے اور گزرتے تھے کیونکہ ان کا گھر مسجد میں تھا۔ ⚖️ درجۂ حدیث: ابن حجر نے "القول المسدد" (ص 21) میں کہا: "یہ مرسل قوی ہے۔" ہم کہتے ہیں: بلکہ اس میں کثیر بن زید الاسلمی ہے اور وہ "لین الحدیث" (حدیث میں کمزور) ہے۔
وأما الفقرة الحادية عشرة ففيها الإشارة إلي قول الله ﷿ في سورة الفتح الآية (18): ﴿لَقَدْ رَضِيَ اللهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا … ﴾.
📝 نوٹ / توضیح: گیارھویں فقرے میں اللہ تعالیٰ کے سورہ فتح کی آیت (18) کی طرف اشارہ ہے: ﴿لَقَدْ رَضِيَ اللهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ...﴾ (ترجمہ: یقیناً اللہ مومنوں سے راضی ہو گیا جب وہ درخت کے نیچے آپ سے بیعت کر رہے تھے...)۔
وأخرج أحمد 45 / (27362)، ومسلم (2496) وغيرهما من حديث جابر قال: حدثتني أم مبشّر أنها سمعت رسول الله ﷺ عند حفصة يقول: "لا يدخل النارَ - إن شاء الله - من أصحاب الشجرة أحدٌ؛ الذين بايعوا تحتها" فقالت: بلى يا رسول الله فانتهرها، فقالت حفصة: ﴿وَإِن مِنكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا﴾ [مريم: 71]، فقال النبي ﷺ: "قد قال الله ﷿: ﴿ثُمَّ نُنَجَّي الَّذِينَ اتَّقَوا وَنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا﴾ [مريم: 72] ".
📖 حوالہ / مصدر: احمد (45/ 27362) اور مسلم (2496) وغیرہ نے جابر کی حدیث سے روایت کیا ہے کہ مجھے ام مبشر نے بیان کیا کہ انہوں نے حفصہ کے پاس رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: "ان شاء اللہ اصحاب شجرہ میں سے کوئی بھی آگ میں داخل نہیں ہوگا جنہوں نے اس (درخت) کے نیچے بیعت کی۔" حفصہ نے کہا: کیوں نہیں یا رسول اللہ (داخل ہوں گے)! تو آپ نے انہیں ڈانٹا۔ حفصہ نے آیت پڑھی: ﴿وَإِن مِنكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا﴾ (اور تم میں سے کوئی نہیں مگر وہ اس پر وارد ہونے والا ہے)، تو نبی ﷺ نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے (اس کے بعد) یہ بھی فرمایا ہے: ﴿ثُمَّ نُنَجَّي الَّذِينَ اتَّقَوا...﴾ (پھر ہم پرہیزگاروں کو نجات دیں گے اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل پڑا چھوڑ دیں گے)۔"
ويشهد لآخره في فضيلة أهل بدر، حديثُ علي بن أبي طالب عند البخاري (3007) ومسلم (2494).
🧩 متابعات و شواہد: حدیث کے آخری حصے یعنی اہل بدر کی فضیلت کے لیے حضرت علی بن ابی طالب کی حدیث شاہد ہے جو بخاری (3007) اور مسلم (2494) میں ہے۔
وحديثُ عمر بن الخطاب الآتي عند المصنِّف برقم (7142)، وهو من رواية ابن عبّاس عنه.
🧩 متابعات و شواہد: اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی حدیث بھی ہے جو مصنف کے ہاں آگے نمبر (7142) پر آئے گی، جو ابن عباس کی ان سے روایت ہے۔
وحديثُ أبي هريرة الآتي كذلك برقم (7144).
🧩 متابعات و شواہد: اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث بھی ہے جو اسی طرح نمبر (7144) پر آئے گی۔
وقوله في الخبر: "أُفٍّ وتُفِّ"، الأُفُّ: وَسَخُ الأُذُن، والتُّفُّ: وَسَحُ الظُّفُر، فكان ذلك يُقال عند الشيء يُستقذَر، ثم كثُر حتى صاروا يستعملونه عند كل ما يَتأذَّون به.
📝 لغوی تحقیق: خبر میں الفاظ "أُفٍّ وتُفِّ" آئے ہیں۔ "أُفٍّ" کان کی میل کو کہتے ہیں اور "تُفُّ" ناخن کی میل کو۔ یہ الفاظ کسی گندی چیز (استقذار) کے موقع پر بولے جاتے تھے، پھر ان کا استعمال اتنا عام ہو گیا کہ ہر اس موقع پر بولے جانے لگے جس سے تکلیف پہنچتی ہو۔
وقوله: "شَرَى عليّ نفسَه": أي: باعها في سبيل الله.
📝 لغوی تحقیق: قول: "شَرَى عليّ نفسَه" کا مطلب ہے: انہوں نے اپنی جان اللہ کی راہ میں بیچ دی۔
وبئر ميمون: بأعلى مكة، وهي بئر حفرها ميمون أخو العلاء بن الحضرمي والي البحرين عندها قبر أبي جعفر المنصور، فيما يُسمَّى اليوم بحَيّ الجعفرية بين أَذاخِر والحَجُون.
📝 جغرافیائی وضاحت: بئر میمون: مکہ کے بالائی حصے میں ایک کنواں ہے جسے علاء بن الحضرمی (والیِ بحرین) کے بھائی میمون نے کھودا تھا۔ اس کے پاس ابو جعفر المنصور کی قبر ہے۔ یہ جگہ آج کل اذاخر اور حجون کے درمیان "محلہ جعفریہ" کہلاتی ہے۔
ويَتضوَّر، أي: يتقلّب ظَهْرًا لِبَطن.
📝 لغوی تحقیق: "يَتضوَّر" کا مطلب ہے: پیٹ کے بل یا کروٹیں بدلنا (تکلیف کی شدت سے)۔