المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
98. إِذَا غَضِبَ النَّبِيَّ لَمْ يَجْتَرِئْ أَحَدٌ يُكَلِّمُهُ غَيْرَ عَلِيٍّ .
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ناراض ہوتے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی آپ سے بات کرنے کی جرأت نہ کرتا
حدیث نمبر: 4697
حدثنا مُكرَم بن أحمد بن مُكرَم القاضي، حدثنا جعفر بن أبي عثمان الطَّيَالسي، حدثنا يحيى بن مَعِين، حدثنا حُسين الأشقَر، حدثنا جعفر بن زياد الأحمر، عن مُخَوَّل، عن مُنذِر الثَّوْري، عن أم سلمة: أنَّ النبي ﷺ كان إِذا غَضِبَ لم يَجترئ أحدٌ منا يُكلِّمُه غيرُ عليّ بن أبي طالب (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4647 - الأشقر وثق وقد اتهمه ابن عدي وجعفر تكلم فيه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4647 - الأشقر وثق وقد اتهمه ابن عدي وجعفر تكلم فيه
ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب جلال (غصہ کے عالم میں) میں ہوتے تو ہم میں سے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے سوا کسی کی یہ جرأت نہیں ہوتی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کلام کر سکے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4697]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4697]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف بمرّة من أجل الحُسين الأشقر - وهو ابن الحَسَن - فهو ليس بالقوي كما سبق قريبًا، ومنذرٌ الثوري - وهو ابن يعلى - شكّك ابن حبان في "الثقات" 5/ 421 في سماعه من أم سلمة، وجزمَ الهيثميُّ في "مجمع الزوائد" 9/ 116 بأنه منقطع.» [ترقيم الرساله 4697] [ترقيم الشركة 4672] [ترقيم العلميه 4647]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 4698
أخبرني أحمد بن عثمان بن يحيى المقرئ ببغداد، حدثنا أبو بكر بن أبي العوّام الرِّياحي، حدثنا أبو زيد سعيد بن أَوس الأنصاري، حدثنا عوف، عن أبي عثمان النَّهدي قال: قال رجل لسلمان: ما أشدَّ حبَّك لعليٍّ، قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"من أحبَّ عليًّا فقد أحبَّني، ومن أبغضَ عليًّا فقد أبغضَني" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4648 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4648 - على شرط البخاري ومسلم
ابو عثمان نہدی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے کہا: ”آپ علی سے کتنی شدید محبت کرتے ہیں!“ انہوں نے جواب دیا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جس نے علی سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی، اور جس نے علی سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔““
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4698]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4698]
تخریج الحدیث: «إسناده محتمل للتحسين من أجل أبي بكر بن أبي العوام الرِّيَاحي» [ترقيم الرساله 4698] [ترقيم الشركة 4673] [ترقيم العلميه 4648]
الحكم على الحديث: إسناده محتم
حدیث نمبر: 4699
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بِشر بن موسى، حدثنا محمد بن سعيد بن الأصبهاني، حدثنا شَريك. وأخبرنا أحمد بن جعفر القطيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا الأسود بن عامر وعبد الله بن نُمير، قالا: حدثنا شَريك، عن أبي رَبيعة الإيادي، عن ابن بُريدة، عن أبيه، قال: قال رسول الله ﷺ:"إنَّ الله أمرني بحُبِّ أربعةٍ من أصحابي، وأخبرَني أنه يُحِبُّهم"، قال: قلنا: من هم يا رسول الله؟ وكلنا نُحبُّ أن نكون منهم، فقال:"ألا إنَّ عليًّا منهم" ثم سكتَ، ثم قال:"ما إنَّ عليًّا منهم"، ثم سكتَ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4649 - ما خرج مسلم لأبي ربيعة
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4649 - ما خرج مسلم لأبي ربيعة
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے صحابہ میں سے چار لوگوں سے محبت کرنے کا حکم دیا ہے اور مجھے بتایا ہے کہ وہ (اللہ) بھی ان سے محبت کرتا ہے،“ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ کون ہیں؟ ہم سب یہ تمنا کرتے تھے کہ کاش ہم ان میں شامل ہوتے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگاہ رہو! علی ان میں سے ایک ہیں،“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے، پھر دوبارہ فرمایا: ”یقیناً علی ان میں سے ایک ہیں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4699]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4699]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، تفرَّد به أبو ربيعة الإيادي - واسمه عمر بن ربيعة - وهذا إنما يقبل حديثه في المتابعات والشواهد، وكذلك الراوي عنه شريك - وهو ابن عبد الله النخعي القاضي - ففي حفظه سوءٌ، ومع ذلك فقد حسّنه الترمذي وابن حجر في "الإصابة" 6/ 203. ابن بُريدة: هو عبد الله.» [ترقيم الرساله 4699] [ترقيم الشركة 4674] [ترقيم العلميه 4649]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 4700
حدثني أبو علي الحافظ، أخبرنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن أيوب الصَّفّار وحُميد بن يونس بن يعقوب الزيّات، قالا: حدثنا محمد بن أحمد بن عِيَاض بن أبي طَيْبة [حدثنا أبي] (2) حدثنا يحيى بن حسّان، عن سليمان بن بلال، عن يحيى بن سعيد، عن أنس بن مالك، قال: كنت أَخدُم رسول الله ﷺ، فقُدِّم لرسولِ الله ﷺ فَرْخٌ مَشْوِيّ، فقال:"اللهم ائتني بأحبِّ خَلْقِكَ إِليك يأكلْ معي من هذا الطَّير"، قال: فقلتُ: اللهمَّ اجعلْه رجلًا من الأنصار، فجاء عليٌّ، فقلت: إنَّ رسول الله ﷺ على حاجةٍ، ثم جاء فقلتُ: إنَّ رسولَ الله ﷺ على حاجةٍ، ثم جاء، فقال رسول الله ﷺ:"افتحْ"، فدخلَ، فقال:"ما حَبَسك علَيَّ؟" فقال: إِنَّ هذه آخرُ ثلاثِ كَرّاتٍ يَردُّني أنسٌ، يَزْعُم أَنك على حاجةٍ، فقال رسول الله ﷺ:"ما حَمَلك على ما صنعتَ؟" فقلت: يا رسول الله، سمعتُ دعاءَك، فأحببتُ أن يكون رجلًا من قومي، فقال رسول الله ﷺ:"إِنَّ الرجل قد يُحبُّ قومَه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه (2) . وقد رواه عن أنسٍ جماعةً من أصحابه، زيادةٌ على ثلاثين نَفْسًا. ثم صحّتِ الرواية عن عليٍّ وأبي سعيد الخُدْري وسَفِينةَ (1) . وفي حديث ثابت البُناني عن أنس زيادةُ ألفاظٍ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4650 - ابن عياض لا أعرفه
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه (2) . وقد رواه عن أنسٍ جماعةً من أصحابه، زيادةٌ على ثلاثين نَفْسًا. ثم صحّتِ الرواية عن عليٍّ وأبي سعيد الخُدْري وسَفِينةَ (1) . وفي حديث ثابت البُناني عن أنس زيادةُ ألفاظٍ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4650 - ابن عياض لا أعرفه
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا، ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں بھنا ہوا پرندہ پیش کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: ”اے اللہ! اپنی مخلوق میں سے جو تجھے سب سے زیادہ محبوب ہو، اسے میرے پاس بھیج دے تاکہ وہ میرے ساتھ مل کر یہ پرندہ تناول کرے۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے (اپنے جی میں) دعا کی: اے اللہ! وہ شخص انصار میں سے کوئی ہو۔ اتنے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ آگئے، میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی ضرورت (کام) میں مصروف ہیں، وہ دوبارہ آئے تو میں نے پھر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی ضرورت میں مصروف ہیں، وہ جب (تیسری بار) آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دروازہ کھول دو۔“ پس وہ داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تمہیں میرے پاس آنے سے کس چیز نے روکے رکھا؟“ انہوں نے عرض کیا: یہ آخری تیسری مرتبہ تھی کہ انس نے مجھے یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ آپ کسی کام میں مصروف ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (انس رضی اللہ عنہ سے) پوچھا: ”تمہیں اس طرزِ عمل پر کس چیز نے ابھارا؟“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کی دعا سن لی تھی، اس لیے میری خواہش تھی کہ وہ خوش نصیب شخص میری قوم (انصار) میں سے کوئی ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک انسان اپنی قوم سے محبت رکھتا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اسے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ان کے شاگردوں کی ایک جماعت نے روایت کیا ہے جن کی تعداد تیس سے زائد ہے، نیز اس کی تائید میں سیدنا علی، سیدنا ابوسعید خدری اور سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہم سے بھی صحیح روایات موجود ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4700]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اسے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ان کے شاگردوں کی ایک جماعت نے روایت کیا ہے جن کی تعداد تیس سے زائد ہے، نیز اس کی تائید میں سیدنا علی، سیدنا ابوسعید خدری اور سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہم سے بھی صحیح روایات موجود ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4700]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، محمد بن أحمد بن عياض تفرّد عن أبيه بمناكير كما قال الذهبي في "تاريخ الإسلام" 6/ 1008، وهذا منها، ومحمد وأبوه - وإن روى عنهما جمع - لم يؤثر توثيقهما في باب الرواية عن أحد من أهل الجرح والتعديل، ولهما علم بالفرائض. وقد تفرد أحمد بن عياض عن ...» [ترقيم الرساله 4700] [ترقيم الشركة 4675] [ترقيم العلميه 4650]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 4701
كما حدثنا به الثقةُ المأمونُ أبو القاسم الحسن بن محمد بن الحَسَن (2) ابن إسماعيل بن محمد بن الفضل بن عُقبة (3) بن خالد السَّكُوني بالكوفة من أصل كتابه، حدثنا عُبيد بن كَثير العامري، حدثنا عبد الرحمن بن دُبَيس. وحدثنا أبو القاسم، حدثنا محمد بن عبد الله بن سليمان الحضرمي، حدثنا عبد الله بن عمر بن أبان بن صالح؛ قالا: حدثنا إبراهيم بن ثابت البصري القَصّار، حدثنا ثابت البُناني: أنَّ أنس بن مالك كان شاكيًا، فأتاهُ محمد بن الحجّاج يعودُه في أصحاب له، فجرى الحديثُ حتى ذكَروا عليًّا، فتنقَّصَه محمدُ بن الحجاج، فقال أنسٌ: مَن هذا؟ أقعِدُوني، فأقعدُوه، فقال: يا ابنَ الحجّاج، ألا أراكَ تَنَقَّصُ عليَّ بن أبي طالب، والذي بعث محمدًا ﷺ بالحقِّ، لقد كنتُ خادمَ رسولِ الله ﷺ بين يدَيه، وكان كلَّ يومٍ يَخدُم بين يدَي رسولِ الله ﷺ غُلامٌ من أبناء الأنصار، فكان ذلك اليومُ يومي، فجاءت أمُّ أيمنَ مولاةُ رسولِ الله ﷺ بطَيرٍ، فوضعتْه بين يَدَي رسولِ الله ﷺ، فقال رسولُ الله ﷺ:"يا أمَّ أيمنَ، ما هذا الطائرُ؟" قالت هذا الطائرُ أصبتُه فصنعتُه لك، فقال رسول الله ﷺ:"اللهمَّ جِئْني بأحبِّ خَلقِكَ إليكَ وإليّ يأكلْ معي من هذا الطائر"، وضُربَ البابُ، فقال رسول الله ﷺ:"يا أنسُ، انظُرْ مَن على البابِ"، فقلتُ: اللهمَّ اجعلْه رجلًا من الأنصار، فذهبتُ فإذا عليٌّ بالباب قلت: إنَّ رسول الله ﷺ على حاجةٍ، فجئتُ حتى قُمتُ مَقامي، فلم ألبَثْ أن ضُرِب البابُ، فقال:"يا أنسُ، انظُرْ مَن على البابِ"، فقلتُ: اللهمَّ اجعلْه رجلًا من الأنصار، فذهبتُ فإذا عليٌّ بالباب، قلت: إنَّ رسول الله ﷺ على حاجةٍ، فجئتُ حتى قُمتُ مَقامي، فلم ألبَثْ أن ضُرِبَ البابُ، فقال رسول الله ﷺ:"يا أنسُ، اذهَبْ فأدخِلْه، فلستَ بأولِ رجلٍ أحبَّ قومَه، ليس هو من الأنصار" فذهبتُ فأدخلتُه، فقال:"يا أنسُ قَرِّبْ إليه الطيرَ" قال: فوَضَعتُه بين يدَي رسول الله ﷺ، فأكلا جميعًا. قال محمد بن الحجّاج: يا أنسُ، كان هذا بمَحضَرٍ منك؟ قال: نعم، قال: أُعطي باللهِ عهدًا ألّا أنتقِصَ عليًّا بعد مَقامي هذا، ولا أَسمع أحدًا يَنتقِصُه إلَّا أشَنْتُ له وَجْهَهُ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4651 - إبراهيم بن ثابت ساقط
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4651 - إبراهيم بن ثابت ساقط
ثابت بنانی سے روایت ہے کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیمار تھے، تو محمد بن حجاج اپنے کچھ ساتھیوں کے ہمراہ ان کی عیادت کے لیے آئے، وہاں گفتگو کے دوران سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ ہوا تو محمد بن حجاج نے ان کی شان میں تنقیص کی، اس پر سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ کون ہے؟ مجھے بٹھاؤ۔“ جب انہیں بٹھا دیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”اے ابن حجاج! کیا میں دیکھ رہا ہوں کہ تم علی بن ابی طالب کی شان میں نازیبا گفتگو کر رہے ہو؟ اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپ کی خدمت بجا لاتا تھا، اور ہر روز انصار کے بیٹوں میں سے کوئی ایک نوجوان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کے لیے حاضر ہوتا تھا، اس دن میری باری تھی، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آزاد کردہ لونڈی امِ ایمن ایک پرندہ لے کر آئیں اور اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”اے امِ ایمن! یہ پرندہ کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا کہ یہ پرندہ میں نے حاصل کیا اور اسے آپ کے لیے تیار کیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: ”اے اللہ! اپنی مخلوق میں سے اسے میرے پاس بھیج دے جو تجھے اور مجھے سب سے زیادہ محبوب ہو تاکہ وہ میرے ساتھ مل کر یہ پرندہ کھائے۔“ اسی دوران دروازے پر دستک ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے انس! دیکھو دروازے پر کون ہے؟“ میں نے (اپنے جی میں) دعا کی: اے اللہ! اسے انصار کا کوئی آدمی بنا دے، میں گیا تو وہاں سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے، میں نے (انہیں ٹالنے کے لیے) کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام میں مصروف ہیں، پھر میں واپس اپنی جگہ آ کھڑا ہوا، ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ پھر دستک ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے انس! دیکھو دروازے پر کون ہے؟“ میں نے پھر تمنا کی: اے اللہ! اسے انصار کا کوئی آدمی بنا دے، میں گیا تو پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہی تھے، میں نے پھر یہی کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مصروف ہیں اور واپس اپنی جگہ آ گیا، تھوڑی دیر بعد پھر دستک ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے انس! جاؤ اور انہیں اندر لے آؤ، تم پہلے شخص نہیں ہو جس نے اپنی قوم سے محبت کی ہے، وہ انصار میں سے نہیں ہیں۔“ چنانچہ میں گیا اور انہیں اندر لے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے انس! پرندہ ان کے قریب کر دو۔“ راوی کہتے ہیں کہ میں نے وہ پرندہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا اور ان دونوں نے مل کر اسے تناول فرمایا۔ محمد بن حجاج نے (حیرت سے) پوچھا: ”اے انس! کیا یہ سب کچھ آپ کے سامنے ہوا تھا؟“ انہوں نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“ تو محمد بن حجاج نے کہا: ”میں اللہ سے پکا عہد کرتا ہوں کہ آج کے بعد کبھی علی کی تنقیص نہیں کروں گا، اور نہ ہی کسی سے ان کی برائی سنوں گا مگر یہ کہ میں اسے سخت جواب دوں گا۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4701]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا، إبراهيم بن ثابت القصّار - وبعضهم سمّى أباه بابًا بدل ثابت - قال عنه الذهبي في "الميزان": ما ذا بعُمدةٍ ولا أعرف حاله جيدًا. وقال في "تلخيص المستدرك": ساقطٌ.» [ترقيم الرساله 4701] [ترقيم الشركة 4676] [ترقيم العلميه 4651]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا