🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

125. وَعَدَنِي رَبِّي فِي أَهْلِ بَيْتِي أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ
میرے رب نے مجھ سے میرے اہلِ بیت کے بارے میں وعدہ فرمایا ہے کہ وہ انہیں عذاب نہیں دے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4768
حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن الحسن الأصبَهاني، حدثنا محمد بن بُكير الحضرمي، حدثنا محمد بن فُضيل الضَّبِّي، حدثنا أبان بن تَغلِب، عن جعفر بن إياس، عن أبي نَضْرة، عن أبي سعيد الخُدْري، قال: قال رسول الله ﷺ:"والذي نفسي بيدِه، لا يُبغِضُنا أهلَ البيت أحدٌ إِلَّا أَدخلَه اللهُ النارَ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4717 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم! جو شخص میرے اہل بیت سے بغض رکھے گا، اللہ تعالیٰ اسے دوزخ میں ڈالے گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4768]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4769
حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مَهدي بن رُستُم، حدثنا الخليل بن عمر بن إبراهيم، حدثنا عمر بن سعيد الأبَحّ، عن سعيد بن أبي عَرُوبة عن قَتَادة عن أنس قال: قال رسول الله ﷺ:"وَعَدَني ربّي في أهل بيتي من أقرَّ منهم بالتوحيدِ ولي بالبلاغِ، أن لا يُعذّبَهم" (1) . قال عمر بن سعيد الأبَحّ: وماتَ سعيد بن أبي عَروبة يوم الخميس، وكان حدَّث بهذا الحديثِ يومَ الجمعة مات بعدَه بسبعةِ أيام في المسجد، فقال قومٌ: لا جزاك الله خيرًا، صاحبُ رفض وبَلاء (2) ، وقال قوم: جزاك الله خيرًا، صاحبُ سنةٍ وجماعة، أدَّيتَ ما سمعتَ.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4718 - بل منكر لم يصح
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے رب نے مجھ سے میرے اہل بیت کے حوالے سے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ ان میں سے جو بھی توحید کو مانتا ہو گا اور یہ اقرار کرتا ہو گا کہ میں نے رسالت کے پیغامات دنیا والوں تک پہنچا دیئے ہیں اللہ تعالیٰ اس کو عذاب نہیں دے گا۔ نوٹ: عمر بن سعید الابح بیان کرتے ہیں کہ سعید ابن ابی عروبہ کا انتقال جمعرات کے دن ہوا اور یہ حدیث انہوں نے جمعہ کے دن بیان کی تھی اس کے سات دن بعد وہ مسجد میں انتقال کر گئے۔ کچھ لوگوں نے کہا: اللہ تجھے اچھی جزاء نہ دے وہ رافضی تھا، اور کچھ لوگوں نے کہا: اللہ تعالیٰ تجھے جزائے خیر دے، تو سنی تھا اور تو نے جو سنا وہ ادا کر دیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4769]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4770
أخبرني جعفر بن محمد بن نُصير الخُلْدي، ببغداد، حدثنا موسى بن هارون، حدثنا قُتَيبة بن سعيد، حدثنا حاتم بن إسماعيل، عن بُكير بن مِسْمار، عن عامر بن سعد، عن أبيه، قال: لما نزلت هذه الآية: ﴿نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنفُسَنَا وَأَنفُسَكُمْ﴾ الآية [آل عمران: 61] ، دعا رسولُ الله ﷺ عليًّا وفاطمة وحَسنًا وحُسينًا، فقال:"اللهمَّ هؤلاءِ أهلي" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4719 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عامر بن سعد رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل فرماتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی نَدْعُ اَبْنَاءَنَا وَاَبْنَاءَکُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَکُمْ وَاَنْفُسَنَا وَاَنْفُسَکُمْ (اٰل عمران: 61) ہم بلائیں اپنے بیٹے اور تمہارے بیٹے اور اپنی عورتیں اور تمہاری عورتیں اور اپنی جانیں اور تمہاری جانیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی، سیدہ فاطمہ، سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہم اجمعین کو بلایا اور بولے: اے اللہ یہ میرے اہل بیت ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4770]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4771
أخبرني أحمد بن جعفر بن حَمْدان الزاهد ببغداد، حدثنا العباس بن إبراهيم القَراطيسي، حدثنا محمد بن إسماعيل الأحْمَسي، حدثنا مُفضَّل بن صالح، عن أبي إسحاق، عن حَنَشٍ الكِناني، قال: سمعتُ أبا ذر يقولُ وهو آخِذٌ بباب الكعبة: مَن عَرَفني فأنا مَن عَرفني، ومن أنكرني فأنا أبو ذرٍّ، سمعتُ النبيَّ ﷺ يقول:"ألا إِنَّ مَثَلَ أهلِ بيتي فيكم مَثَلُ سفينةِ نُوحٍ، مَن رَكِبها نجا، ومن تَخلَّفَ عنها هَلَكَ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4720 - مفضل بن صالح واه
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ ایک دفعہ کعبۃ اللہ کا دروازہ پکڑ کر بولے: جو مجھے جانتا ہے وہ تو جانتا ہی ہے اور جو نہیں جانتا وہ بھی جان لے کہ میں ابوذر ہوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں میرے اہل بیت کی مثال وہی ہے جو نوح علیہ السلام کی قوم میں ان کی کشتی کی تھی، کہ جو اس میں سوار ہو گیا وہ بچ گیا اور جو رہ گیا وہ غرق ہو گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4771]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4772
حدثنا حدثنا جعفر بن محمد الخُلْدي وأبو بكر بن بالَوَيهِ، قالا: حدثنا موسى بن هارون، حدثنا قُتَيبة (1) بن سعيد، حدثنا حاتم بن إسماعيل، عن بُكير بن مِسمار، عن عامر بن سعد، عن أبيه قال: لما نزلت هذه الآية ﴿نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ﴾ دعا رسولُ الله ﷺ عليًا وفاطمةَ وحُسنًا وحُسينًا، فقال:"اللهمَّ هؤلاءِ أهلُ بيتي" (2) . اتفق الشيخان على صحة هذا الإسناد، واحتجّا به ولم يُخرجاه، إنما خرَّجا بهذا الإسناد قصة أبي تُراب (3) .
عامر بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿ہم اپنے بیٹوں کو بلاتے ہیں اور تم اپنے بیٹوں کو﴾ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو بلایا، پھر فرمایا: اے اللہ! یہ میرے اہلِ بیت ہیں۔ اس حدیث کی سند کی صحت پر شیخین (امام بخاری اور امام مسلم) کا اتفاق ہے اور انہوں نے اسی سند سے استدلال کیا ہے، اگرچہ اسے اپنی کتابوں میں نقل نہیں کیا، البتہ اسی سند کے ساتھ انہوں نے ابو تراب کے واقعے کو روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4772]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں