🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

159. خُطْبَةُ الْحَسَنِ بَعْدَ شَهَادَةِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
سیدنا حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے فضائل، نیز ان کی ولادت اور شہادت کا بیان — سیدنا علی رضی اللہ عنہما کی شہادت کے بعد سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا خطبہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4857
حدَّثَناهُ أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الصَّفّار، حدثنا محمد بن إسماعيل السلمي. وحدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا عُبيد بن عبد الواحد البزار والفضل بن محمد البيهقي؛ قالوا: حدثنا ابن أبي مريم، حدثنا محمد بن جعفر بن أبي كثير، حدثني موسى بن عُقبة، حدثنا أبو إسحاق، عن بريد بن أبي مريم، عن أبي الحَوْراء، عن الحَسَن بن علي قال: عَلَّمني رسول الله ﷺ هؤلاء الكلمات في الوِتر:"اللهمَّ اهدِني فيمن هَديتَ، وبارك لي فيما آتَيْتَ، وقِنِي شَرَّ ما قضيتَ، فإِنَّكَ تَقضي ولا يُقضى عليك، وإنه لا يَذِلُّ من واليت تباركتَ ربَّنا وتعاليت" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4801 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وتر میں یہ دعا مانگنے کی تعلیم دی، اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ اے اللہ! تو مجھے ان لوگوں کا راستہ دکھا جن کو تو نے ہدایت دی، اور جو کچھ تو نے مجھے عطا کیا اس میں تو مجھے برکت دے، اور تو مجھے اس کے شر سے بچا جو تو نے فیصلہ کر دیا بے شک تو فیصلہ کرتا ہے اور تیرے اوپر کوئی اپنا فیصلہ نافذ کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ بے شک وہ شخص کبھی ذلیل نہیں ہوتا جس کا تو مددگار ہے۔ تو برکت والا اور بلند ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4857]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4858
حدثنا أبو محمد الحسن بن محمد بن يحيى ابنُ أخي طاهر العَقِيقي الحَسَني، حدثنا إسماعيل بن محمد بن إسحاق بن جعفر بن محمد بن علي بن الحُسين، حدثني عمي علي بن جعفر بن محمد، حدثني الحسين بن زيد، عن عُمر بن علي، عن أبيه علي بن الحسين، قال: خطب الحَسنُ بن علي الناس حين قُتل عليٌّ فحمد الله وأثنى عليه، ثم قال: لقد قبض في هذه الليلة رجلٌ لا يَسبِقُه الأولون بعملٍ ولا يُدركه الآخرون، وقد كان رسول الله ﷺ يعطيه رايته فيقاتِلُ وجبريل عن يَمينِه وميكائيلُ عن يساره، فما يَرجِعُ حتى يفتحَ اللهُ عليه، وما ترك على ظهر الأرض صفراء ولا بَيضاءَ إِلَّا سبع مئة درهمٍ فَضَلَتْ من عطاياه أراد أن يبتاع بها خادِمًا لأهله. ثم قال: أيها الناسُ، مَن عَرَفني فقد عرفني، ومن لم يَعرِفْني فأنا الحسن بن علي، أنا ابن النبي، وأنا ابن الوصي، وأنا ابن البشير، وأنا ابن النذير، وأنا ابن الداعي إلى الله بإذنِه، وأنا ابن السراج المنير، وأنا من أهل البيت الذي كان جبريل يَنزِل إلينا ويصعد من عندنا، وأنا من أهل البيت الذي أذهب الله عنهم الرِّجسَ وطهرهم تطهيرًا، وأنا من أهل البيت الذين افترض الله مودَّتَهم على كل مسلم، فقال ﵎ لنبيه ﷺ: ﴿قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى وَمَنْ يَقْتَرِفْ حَسَنَةً نَزِدْ لَهُ فِيهَا حُسْنًا﴾ [الشورى: 23] ، فاقترافُ الحسنة مَودْتُنا أهل البيت (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4802 - ليس بصحيح
سیدنا امام زین العابدین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے موقع پر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کے بعد فرمایا: گزشتہ رات ایسے شخص کا انتقال ہوا ہے کہ نہ تو کوئی پہلے والا شخص عمل میں ان سے آگے نکل سکا اور نہ بعد میں آنے والوں میں کوئی ان تک پہنچ سکے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہاد میں ان کو علم عطا فرمایا کرتے تھے، جہاد میں سیدنا جبریل علیہ السلام ان کی دائیں جانب اور سیدنا میکائیل علیہ السلام ان کی بائیں جانب ہوتے، اور اللہ تعالیٰ نے ان کو ہمیشہ فتح و نصرت سے ہمکنار فرمایا، اور آپ کا کل ترکہ صرف سات سو درہم تھا وہ بھی آپ کے ان عطیات سے بچا ہوا تھا جو کہ آپ نے اپنے گھر والوں کے لئے خادم خریدنے کے لئے رکھے ہوئے تھے، پھر آپ نے فرمایا: اے لوگو! جو مجھے جانتے ہیں وہ تو جانتے ہی ہیں، جو نہیں جانتے وہ بھی جان لیں کہ میں حسن بن علی رضی اللہ عنہما ہوں، میں وصی کا بیٹا ہوں، میں بشیر (خوشخبری سنانے والے) کا بیٹا ہوں، میں نذیر (ڈر سنانے والے کا) بیٹا ہوں، میں اس شخص کا بیٹا ہوں جو اللہ کے حکم سے لوگوں کو اس کی جانب بلاتا ہے، میں سراج منیر کا بیٹا ہوں، میرا تعلق اس گھرانے سے ہے جہاں جبریل امین علیہ السلام کا آنا جانا تھا، میرا تعلق اس گھرانے سے ہے جن سے اللہ تعالیٰ نے ہر نجاست کو دور کر کے ان کو خوب ستھرا کر دیا، میرا تعلق اس گھرانے سے ہے جن سے محبت کرنا اللہ تعالیٰ نے ہر مسلمان پر فرض کی ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: قُلْ لَّا اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبٰی وَمَنْ یَّقْتَرِفْ حَسَنَۃً نَّزِدْلَہُ فِیْھَا حُسْنًا تم فرماؤ میں اس پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا مگر قرابت کی محبت اور جو نیک کام کرے ہم اس کے لئے اس میں اور خوبی بڑھائیں ۔ اس آیت مقدسہ میں نیک کام سے مراد ہم اہل بیت سے محبت کرنا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4858]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں