🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

158. ذِكْرُ الدُّعَاءِ فِي الْوِتْرِ
سیدنا حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے فضائل، نیز ان کی ولادت اور شہادت کا بیان — وتر میں پڑھی جانے والی دعا کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4855
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عبيد الله بن موسى، أنا سفيان، عن سالم بن أبي حفصة، قال: سمعت أبا حازم يقول: إني لشاهدٌ يوم مات الحسن بن علي، فرأيت الحُسين بن علي يقول لسعيد بن العاص، ويطعنُ في عُنقه ويقول: تَقدَّم، فلولا أنها سُنّةٌ ما قُدِّمت، وكان بينهم شيءٌ، فقال أبو هريرة: أتنفسُون على ابن نبيكم ﷺ بتربة تَدفِنُونه فيها، وقد سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"مَن أحبَّهُما فقد أحبَّني، ومَن أبغضَهُما فقد أبغضني" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4799 - صحيح
ابوحازم بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی وفات کے وقت وہاں موجود تھا میں نے دیکھا کہ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے سیدنا سعید بن العاص رضی اللہ عنہ کو گردن سے پکڑ کر دھکا دے کر کہا: (نماز جنازہ پڑھانے کے لئے) آگے ہو جاؤ، اور ان سے کہا: اگر یہ سنت نہ ہوتی تو میں تمہیں (جنازہ پڑھانے کے لئے) آگے نہ کرتا (سیدنا حسین اور ان کے درمیان کچھ اختلافات تھے، جب نماز جنازہ سے فارغ ہو چکے تو) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم اپنے نبی کی اولاد کے بارے میں تدفین کے لئے مٹی کا بخل کر رہے ہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے جس نے ان دونوں (حسن اور حسین) سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4855]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4856
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ وأبو سعيد عمرو بن محمد ابن منصور قالا: حدثنا الفضل بن محمد بن المُسيَّب الشعراني، حدثنا أبو بكر عبد الرحمن بن عبد الملك بن شَيْبة الحزامي، حدثنا ابن أبي فديك، عن إسماعيل بن إبراهيم بن عُقبة، عن عمه موسى بن عُقبة، عن هشام بن عروة، عن أبيه، عن عائشة، عن الحسن بن علي، قال: علمني رسول الله ﷺ في وتري إذا رفعتُ رأسي ولم يَبْقَ إِلَّا السجود:"اللهم اهدني فيمن هَدَيتَ، وعافني فيمن عافيت، وتَوَلَّني فيمن تولَّيتَ، وبارك لي فيما آتيتَ، وقِني شرَّ ما قضيت، إنك تقضي ولا يُقضى عليك، إنه لا يَذِلُّ مَن واليت، تباركت وتعاليت" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، إلَّا أنَّ محمد بن جعفر بن أبي كثير قد خالف إسماعيل بن إبراهيم بن عُقبة في إسنادِه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4800 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وتروں کی یوں تعلیم دی کہ جب میں وتر مکمل کر چکوں اور (تیسری رکعت کے رکوع سے) سر اٹھاؤں، اور وتر کے صرف سجدے باقی رہتے ہوں، (تو یوں دعا مانگا کروں) اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، إِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، إِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ اے اللہ! تو مجھے ان لوگوں کا راستہ دکھا جن کو تو نے ہدایت دی، اور تو مجھے عافیت عطا فرما ان لوگوں کی طرح جن کو تو نے عافیت دی، تو میری مدد فرما ان لوگوں کی طرح جن کی تو نے مدد کی، اور جو کچھ تو نے مجھے عطا کیا اس میں تو مجھے برکت دے، اور تو مجھے اس کے شر سے بچا جو تو نے فیصلہ کر دیا بے شک تو فیصلہ کرتا ہے اور تیرے اوپر کوئی اپنا فیصلہ نافذ کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ بے شک وہ شخص کبھی ذلیل نہیں ہوتا جس کا تو مددگار ہے تو برکت والا اور بلند ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے، تاہم اسماعیل بن ابراہیم بن عقبہ نے اس کی سند میں محمد بن جعفر بن ابی کثیر سے اختلاف کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4856]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں