المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
192. ذِكْرُ مَنَاقِبِ جَعْدَةَ بْنِ هُبَيْرَةَ الْمَخْزُومِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
سیدنا جعدہ بن ہبیرہ مخزومی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 4930
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل، حدثنا حَبّان بن هِلال، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن علي بن زيد، عن يوسف بن مِهْران، عن ابن عبّاس، قال: لما مات عُثمان بن مَطْعُون قالت امرأتُه: هنيئًا لكَ الجنةُ يا عثمانُ بنَ مَظعُون، فنظرَ إليها رسولُ الله ﷺ، فقال:"وما يُدريكِ؟" قالت: يا رسولَ الله، فارسُكَ وصاحِبُك، فقال رسول الله ﷺ:"إني رسولُ الله، وما أدري ما يُفعَلُ بي"، فأشفقَ الناسُ على عثمانَ، فلما ماتت زينبُ بنتُ رسول الله ﷺ قال رسولِ الله: ﷺ"الْحَقِي بِسَلفنا الخَيِّرِ عثمانَ بن مَظعُون"، فبكتِ النساءُ، فجعل عمرُ يَضْرِبُهنَّ بسَوطِه، فأخذَ رسول الله ﷺ بيده وقال:"مهلًا يا عمرُ" (3) ذكر مناقب جَعْدة بن هبيرة المخزومي ﵁ -
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ان کی زوجہ محترمہ کہنے لگی: اے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ تجھے جنت مبارک ہو، (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی جانب دیکھا اور فرمایا: تجھے کیسے پتا ہے؟ (کہ عثمان بن مظعون جنتی ہے) اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ آپ کا مجاہد ہے، آپ کا صحابی ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ کا رسول ہوں، اس کے باوجود از خود نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا ہو گا، چنانچہ لوگ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے معاملے میں خوف زدہ ہو گئے۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدنا زینت رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو ہمارے اچھے گزرے ہوئے سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے ساتھ ملا دو۔ پھر عورتیں رونے لگ گئیں، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ان کو اپنے کوڑے کے ساتھ مارنے لگ گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: اے عمر! ان کو چھوڑ دو۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4930]
حدیث نمبر: 4931
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدثنا مصعب بن عبد الله الزُّبيري، قال جَعْدة بن هُبيرة بن أبي وهب بن عمرو بن عائذ (1) بن عِمران بن مَخْزوم، وكانت أمُّه أمَّ هانئ بنت أبي طالب، نَكَحها هُبيرة، ولها يقول هُبيرةُ حين أسلمتْ: أشاقَتْكَ هندٌ أن نآكَ (1) سؤالُها … كذاك النَّوى أسبابها وانفِتالُها وقد أَرقَتْ في رأس حصنٍ مُمرَّدٍ … بنَجرانَ يَسْري بعد نومٍ خيالُها فإن كنتِ قد تابعتِ دِينَ مُحمدٍ … وقُطِّعَتِ الأرحام منكِ حِبالُها فكُوني على أعلى سَحِيقٍ بهَضْبةٍ … مُمنَّعَةٍ لا تُستطاعُ قِلالُها (2) قال مصعبٌ: وجَعْدةُ الذي يقول: ومَن ذا الذي يَبأَى (3) عليَّ بخالِهِ … وخالي عليٌّ ذو النَّدى وعَقيلُ قال مصعبٌ: وماتَ هُبيرةُ بنَجْرانَ مُشركًا، وأما جَعْدَةُ فإنه تزوَّج ابنةَ خالِه أمَّ الحسن بنتَ عليٍّ، ووَلَدت له عبدَ الله بن جَعْدة بن هُبَيرة الذي قيل فيه بخُراسان: لولا ابن جَعدة لم يُفتَحْ قُهُنْدُزُكُم (4) … ولا خُراسانُ حتى يُنفَخُ الصُّورُ قال مصعبٌ: واستعمل عليٌّ على خُراسان جَعْدةَ بنَ هُبيرة المَخْزومي، وانصرفَ إلى العراق، ثم حجَّ وتُوفِّي بالمدينة، وقد رَوَى عن رسول الله ﷺ.
سیدنا مصعب بن عبداللہ الزبیری رضی اللہ عنہ نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے: جعدہ بن ہبیرہ بن ابی وہب بن عمرو بن عائذ ابن عمران بن مخزوم۔ ان کی والدہ سیدنا ابوطالب کی صاحبزادی سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا تھیں، اور یہ ہبیرہ بن ابی وہب کے نکاح میں تھیں۔ جب یہ مسلمان ہوئیں تو ہبیرہ نے ان کے بارے میں درج ذیل اشعار کہے: * کیا تجھے ہند نے شوق دلایا ہے کہ اگر تیرے پاس کا سوال آئے تو تو ایسی جگہ پر قیام کرنا جہاں سے تیرا مال و دولت تجھ سے بہت دور ہو۔ مصعب کہتے ہیں: اور جعدہ کہتے تھے: * ایسا کون ہو سکتا ہے جو میرے ماموں کا انکار کر سکے، کیوںکہ میرے ماموں مٹی والے (یعنی جن کا لقب ابوتراب ہے) سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عقیل رضی اللہ عنہ ہیں۔ مصعب کہتے ہیں: ہبیرہ نجران میں حالت شرک میں مرا تھا، اور جعدہ نے اپنے ماموں سیدنا علی کی بیٹی ام الحسن کے ساتھ نکاح کیا اور ان میں سے سیدنا عبداللہ بن جعدہ بن ہبیرہ پیدا ہوئے، ان کے بارے میں خراسان میں کہا گیا ہے۔ * اگر ابن جعدہ نہ ہوتے تو قہندز اور خراسان قیامت تک فتح نہ ہو سکتا۔ مصعب کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا جعدہ بن ہبیرہ مخزومی رضی اللہ عنہ کو خراسان کا گورنر بنایا تھا پھر یہ عراق کی جانب لوٹ کر آ گئے، پھر فریضہ حج ادا کیا، اور مدینہ منورہ میں ان کا انتقال ہوا۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث روایت کرتے ہیں اور ان کی مرویات کے صحیح ہونے کی دلیل یہ کہ اس کو سیدنا مصعب رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4931]
حدیث نمبر: 4932
حدَّثَنا بصحة ما ذَكَرَ مصعبٌ: أبو بكر محمد بن عبد الله بن عمرو البزَّاز ببغداد، حدثنا أحمد بن محمد بن عبد الحميد الجُعْفي، حدثنا أبو بكر بن أبي شَيْبة، حدثنا عبد الله بن إدريسَ، عن أبيه، عن جدِّه عن جَعْدة بن هُبيرة، قال: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"خَيرُ الناسِ قَرْني، ثم الذين يَلُونهم، ثم الذين يَلُونَهم، ثم الذين يَلُونَهم، ثم الآخِرُونَ أَرْدَى" (1)
سیدنا جعدہ بن ہبیرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سب سے بہترین لوگ میرے زمانے کے ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد ہوں گے، پھر وہ جو ان کے بعد ہوں گے، پھر ان کے بعد والے ہلاک ہوں گے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4932]