🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

192. ذِكْرُ مَنَاقِبِ جَعْدَةَ بْنِ هُبَيْرَةَ الْمَخْزُومِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
سیدنا جعدہ بن ہبیرہ مخزومی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4930
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل، حدثنا حَبّان بن هِلال، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن علي بن زيد، عن يوسف بن مِهْران، عن ابن عبّاس، قال: لما مات عُثمان بن مَطْعُون قالت امرأتُه: هنيئًا لكَ الجنةُ يا عثمانُ بنَ مَظعُون، فنظرَ إليها رسولُ الله ﷺ، فقال:"وما يُدريكِ؟" قالت: يا رسولَ الله، فارسُكَ وصاحِبُك، فقال رسول الله ﷺ:"إني رسولُ الله، وما أدري ما يُفعَلُ بي"، فأشفقَ الناسُ على عثمانَ، فلما ماتت زينبُ بنتُ رسول الله ﷺ قال رسولِ الله: ﷺ"الْحَقِي بِسَلفنا الخَيِّرِ عثمانَ بن مَظعُون"، فبكتِ النساءُ، فجعل عمرُ يَضْرِبُهنَّ بسَوطِه، فأخذَ رسول الله ﷺ بيده وقال:"مهلًا يا عمرُ" (3) ذكر مناقب جَعْدة بن هبيرة المخزومي ﵁ -
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب عثمان بن مظعون کی وفات ہوئی تو ان کی اہلیہ نے کہا: اے عثمان بن مظعون! تمہیں جنت مبارک ہو، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھ کر فرمایا: تمہیں کیا معلوم؟ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ آپ کے شہسوار اور آپ کے ساتھی تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ کا رسول ہوں (اس کے باوجود) مجھے نہیں معلوم کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا، یہ سن کر لوگ عثمان کے بارے میں (اللہ کے خوف سے) ڈر گئے، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی زینب کی وفات ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ہمارے بہترین پیش رو عثمان بن مظعون کے ساتھ جا ملو، پس عورتیں رونے لگیں تو عمر انہیں اپنے کوڑے سے مارنے لگے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور فرمایا: اے عمر! ٹھہر جاؤ (نرمی اختیار کرو)۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4930]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف علي بن زيد - وهو ابن جُدعان - ضعيف، وقد وقع له في هذا الخبر عدّة أوهام، منها نسبته القول المذكور أولَ الحديث لامرأة عثمان بن مظعون، وهو خطأ، إنما قالته امرأةٌ من الأنصار ممَّن نزل عثمان بن مظعون عندهم بعد هجرته، تُدعى هذه المرأة أمَّ العلاء، وجاء ...» [ترقيم الرساله 4930] [ترقيم الشركة 4897]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف علي بن زيد - وهو ابن جُدعان - ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4931
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدثنا مصعب بن عبد الله الزُّبيري، قال جَعْدة بن هُبيرة بن أبي وهب بن عمرو بن عائذ (1) بن عِمران بن مَخْزوم، وكانت أمُّه أمَّ هانئ بنت أبي طالب، نَكَحها هُبيرة، ولها يقول هُبيرةُ حين أسلمتْ: أشاقَتْكَ هندٌ أن نآكَ (1) سؤالُها … كذاك النَّوى أسبابها وانفِتالُها وقد أَرقَتْ في رأس حصنٍ مُمرَّدٍ … بنَجرانَ يَسْري بعد نومٍ خيالُها فإن كنتِ قد تابعتِ دِينَ مُحمدٍ … وقُطِّعَتِ الأرحام منكِ حِبالُها فكُوني على أعلى سَحِيقٍ بهَضْبةٍ … مُمنَّعَةٍ لا تُستطاعُ قِلالُها (2) قال مصعبٌ: وجَعْدةُ الذي يقول: ومَن ذا الذي يَبأَى (3) عليَّ بخالِهِ … وخالي عليٌّ ذو النَّدى وعَقيلُ قال مصعبٌ: وماتَ هُبيرةُ بنَجْرانَ مُشركًا، وأما جَعْدَةُ فإنه تزوَّج ابنةَ خالِه أمَّ الحسن بنتَ عليٍّ، ووَلَدت له عبدَ الله بن جَعْدة بن هُبَيرة الذي قيل فيه بخُراسان: لولا ابن جَعدة لم يُفتَحْ قُهُنْدُزُكُم (4) … ولا خُراسانُ حتى يُنفَخُ الصُّورُ قال مصعبٌ: واستعمل عليٌّ على خُراسان جَعْدةَ بنَ هُبيرة المَخْزومي، وانصرفَ إلى العراق، ثم حجَّ وتُوفِّي بالمدينة، وقد رَوَى عن رسول الله ﷺ.
مصعب بن عبداللہ زبیری سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جعدہ بن ہبیرہ بن ابی وہب، جن کی والدہ ام ہانی بنت ابی طالب تھیں، ان سے ہبیرہ نے نکاح کیا تھا، اور ہبیرہ نے ہی ان (ام ہانی) کے بارے میں اس وقت یہ اشعار کہے تھے جب وہ اسلام لے آئیں: کیا تمہیں ہند کی یاد نے بے چین کر دیا ہے کہ اس کے سوال نے تمہیں دور کر دیا، اسی طرح ہجر کے اسباب اور جدائیاں ہوتی ہیں، نجران کے ایک بلند قلعے میں اس کا خیال رات کی نیند کے بعد گردش کرتا ہے، پس اگر تم نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے دین کی پیروی کر لی ہے اور تم سے (رشتہ داری کے) تعلقات منقطع ہو گئے ہیں، تو تم کسی بلند اور دشوار گزار چوٹی پر چلی جاؤ جہاں تک پہنچنا ممکن نہ ہو، مصعب کہتے ہیں کہ جعدہ وہ ہیں جو فخر سے کہتے تھے: مجھ پر اپنے ماموں کے ذریعے کون فخر کر سکتا ہے؟ جبکہ میرے ماموں علی (رضی اللہ عنہ) ہیں جو انتہائی سخی ہیں اور عقیل (رضی اللہ عنہ) ہیں، مصعب کہتے ہیں: ہبیرہ نجران میں شرک کی حالت میں مرا، جبکہ جعدہ نے اپنی ماموں زاد ام الحسن بنت علی سے نکاح کیا اور ان سے عبداللہ بن جعدہ پیدا ہوئے جن کے بارے میں خراسان میں کہا گیا: اگر ابن جعدہ نہ ہوتے تو تمہارا قہندز اور خراسان صور پھونکے جانے تک فتح نہ ہوتا، مصعب کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جعدہ بن ہبیرہ مخزومی کو خراسان کا گورنر مقرر کیا تھا، پھر وہ عراق چلے گئے، اس کے بعد حج کیا اور مدینہ میں وفات پائی، اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث بھی روایت کی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4931]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 4931] [ترقيم الشركة 4898]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4932
حدَّثَنا بصحة ما ذَكَرَ مصعبٌ: أبو بكر محمد بن عبد الله بن عمرو البزَّاز ببغداد، حدثنا أحمد بن محمد بن عبد الحميد الجُعْفي، حدثنا أبو بكر بن أبي شَيْبة، حدثنا عبد الله بن إدريسَ، عن أبيه، عن جدِّه عن جَعْدة بن هُبيرة، قال: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"خَيرُ الناسِ قَرْني، ثم الذين يَلُونهم، ثم الذين يَلُونَهم، ثم الذين يَلُونَهم، ثم الآخِرُونَ أَرْدَى" (1)
جعدہ بن ہبیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: سب سے بہتر لوگ میرے زمانے کے ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد آئیں گے، پھر وہ جو ان کے بعد آئیں گے، پھر وہ جو ان کے بعد آئیں گے، پھر سب سے آخر والے بدتر (گراوٹ کا شکار) ہوں گے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4932]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، لكن جَعْدة بن هُبيرة مختلف في صحبته، غير أنَّ له رُؤية، لأنه وَلَدُ هُبيرة بن أبي وهب الذي هرب عام فتح مكة إلى نجران ومات مشركًا، وفَرَّق الإسلام بينه وبين أم هانئ بنت أبي طالب أم جعدة، فلا شكَّ أنَّ جعدة ولد ...» [ترقيم الرساله 4932] [ترقيم الشركة 4899]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں