المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
203. رُؤْيَا النَّبِيِّ شَهَادَةَ رَجُلٍ مِنْ عِتْرَتِهِ فَاسْتُشْهِدَ حَمْزَةُ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خواب کہ آپ کی عترت میں سے ایک شخص شہید ہوگا، چنانچہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے
حدیث نمبر: 4956
حدثني محمد بن صالح بن هانئ حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى الشهيد، حدثنا أحمد بن يونس، حدثنا بكر بن عيّاش، حدثنا يزيد بن أبي زياد عن مِقسَم، عن ابن عباس قال: لما قُتل حمزةُ أقبلتْ صفيةُ تَطلُبُه لا تدري ما صَنَعَ، فلقيَتْ عليًّا والزبيرَ، فقال عليٌّ للزبير: اذكُر لأُمّكَ، وقال الزُّبَير لعليٍّ: لا، اذكُر أنتَ لعمّتِك، قالت ما فعلَ حمزةُ؟ فأرَيَاها أنهما لا يَدرِيان، فجاءتِ النبيَّ ﷺ، فقال:"إني أخافُ على عقلِها" فوضعَ يدَه على صدرِها ودعا، فاسترجَعتْ وبَكَت، ثم جاء فقام عليه وقد مُثِّلَ به، فقال:"لولا جَزَعُ النساءِ لتَركتُه حتى يُحشَر مِن حَواصِل الطَّير وبُطُونِ السِّباع". ثم أمر بالقَتْلى فجعل يُصلِّي عليهم، فيَضعُ تسعةً وحمزةَ، فيكبِّر عليهم سبعَ تكبيراتٍ، ثم يُرفَعُون ويُترَك حمزةُ، ثم يُؤتَى (1) بتسعةٍ، فيُكبِّر عليهم سبعَ تكبيراتٍ، حتى فرَغَ منهم (2)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4895 - سمعه أبو بكر بن عياش من يزيد قلت ليسا بمعتمدين
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4895 - سمعه أبو بكر بن عياش من يزيد قلت ليسا بمعتمدين
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا ان کو ڈھونڈتی پھر رہی تھیں ان کو پتہ نہیں تھا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا ہے۔ یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے ملیں، (اور ان سے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں پوچھا) تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا: اپنی اماں کو آپ صورت حال بتائیں، جبکہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے انکار کرتے ہوئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: تم خود اپنی پھوپھی کو بتاؤ۔ لیکن دونوں نے ہی ان کو یہ ظاہر کیا کہ ہمیں نہیں پتا۔ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (جب ان کی کیفیت دیکھی تو) فرمایا: مجھے تو ان کی عقل ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ ان کے سینے پر رکھ کر ان کے لئے دعا فرمائی۔ پھر انہوں نے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا اور رونے لگ گئیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی لاش پر تشریف لائے، ان کی لاش کا مثلہ کیا ہوا تھا (یعنی ان کے ناک، کان، ہونٹ وغیرہ اعضاء کاٹے ہوئے تھے) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر عورتوں کی بے صبری کا خدشہ نہ ہوتا تو میں ان کو اسی طرح چھوڑ دیتا حتی کہ یہ پرندوں اور درندوں کے پیٹ سے برآمد ہوتے۔ پھر تمام شہداء کو لانے کا حکم دیا، آپ 9 شہداء اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے جنازے رکھ کر نماز جنازہ پڑھتے، ان پر سات تکبیریں پڑھتے پھر باقی کو اٹھا لیا جاتا لیکن سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو رکھ لیا جاتا، پھر 9 شہداء کو لایا جاتا اور ان پر سات تکبیریں پڑھی جاتیں، پھر باقی شہداء کو اٹھا لیا جاتا، پھر 9 کو لایا جاتا، ان پر سات تکبیریں پڑھی جاتیں، اسی طرح 9، 9 کے ہمراہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو رکھ کر جنازہ پڑھا جاتا رہا) حتی کہ تمام کی نماز جنازہ پڑھ لی گئی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4956]
حدیث نمبر: 4957
حدثنا علي بن حَمَشاذَ، حدثنا أبو المثنَّى، حدثنا عبد الواحد بن غِياث، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن علي بن زيد، عن أنس بن مالك: أنَّ رسول الله ﷺ رأى فيما يرى النائمُ، قال:"رأيتُ كأني مُردِفٌ كبشًا، وكأنَّ ظُبَةَ سيفي انكسرتْ فأوَّلتُ أن أَقتُل كبشَ القَومِ، وأوَّلتُ أنَّ ظُبَة سيفي رجلٌ من عِتْرَتي". فقُتل حمزةُ، وقَتل رسولُ الله ﷺ طلحةَ، وكان صاحبَ اللِّواء (1) (2) .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: میں نے دیکھا ہے کہ میں ایک مینڈھے کا پیچھا کر رہا ہوں، اور میری تلوار کا کنارہ ٹوٹ گیا ہے۔ میں نے اس کی تعبیر یہ کی ہے کہ میں قوم کے مینڈھے (لشکر کے سپہ سالار) قتل کروں گا۔ اور تلوار کا کنارہ ٹوٹنے کی یہ تعبیر کی ہے کہ میرے خاندان کا کوئی آدمی ہے (جو شہید ہو گا) چنانچہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طلحہ کو قتل کیا، یہ مشرکین کا علم بردار تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4957]
حدیث نمبر: 4958
حدثنا أبو العبّاس، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا يعقوب بن محمد الزُّهْري، حدثنا عبد العزيز بن عمران، عن عبد الله بن جعفر المَخْرَمي (3) ، عن أبي عَون مولى المِسوَر، عن المِسور بن مَخرمَة، عن عبد الله بن عبّاس، عن أبيه، قال: تزوّجَ عبد المطّلب هالةَ بنتَ أُهَيب بن عبد مَناف بن زُهْرة، فولَدت حمزةَ وصفيّةَ (1) .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اپنے والد کے حوالے سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عبدالمطلب نے ہالہ بنت اہیب بن عبد مناف بن زہرہ سے شادی کی۔ ان سے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اور سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا پیدا ہوئیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4958]
حدیث نمبر: 4959
أخبرني إسماعيل بن الفضل، حدثنا جدي، حدثنا إبراهيم بن المُنذر الحِزَامي، حدثنا حاتم بن إسماعيل، عن يحيى بن عبد الرحمن بن أبي لَبيبة (2) ، عن جده، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"والذي نفسي بيدِه، إنه لَمَكتوب عندَه في السماءِ السابعة: حمزةُ بن عبد المطلب أسدُ الله وأسدُ رسوله" (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4898 - يحيى بن عبد الرحمن بن أبي لبيبة واه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4898 - يحيى بن عبد الرحمن بن أبي لبيبة واه
سیدنا یحیی بن عبدالرحمن بن ابی لبیبہ اپنے دادا کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے بے شک ساتویں آسمان پر لکھا ہوا ہے ” حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے شیر ہیں “۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4959]
حدیث نمبر: 4960
حدثنا جعفر بن الحارث حدثنا جعفر بن محمد الفِرْيابي، حدثنا أحمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، أخبرني أسامة بن زيد اللَّيثي، سمعت محمد بن كعب القُرَظي، قال: كان حمزةُ بن عبد المطلب يُكنى أبا عُمارة (4) . حدثنا الحاكمُ أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظُ إملاءً في المُحرّم سنة ثلاث وأربع مئةٍ:
محمد بن کعب القرظی فرماتے ہیں: سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی کنیت ” ابوعمارہ “ تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4960]
حدیث نمبر: 4961
أخبرني أبو الحسين محمد بن أحمد بن تَميم القَنْطَري ببغداد، حدثنا عُبيد بن شَريك، حدثنا أبو صالح الفرّاء، حدثنا أبو إسحاق الفَزَاري، عن أبي حماد الحَنَفي، عن عبد الله بن محمد بن عَقيل قال: سمعت جابرَ بن عبد الله يقول: فَقَدَ رسولُ الله ﷺ يومَ أُحد حمزةَ حين فاءَ الناسُ من القتال، قال: فقال رجلٌ: رأيتُه عند تلكَ الشجرة وهو يقول: أنا أسدُ اللهِ وأسدُ رسولِه، اللهم إني أبرأُ إليك مما جاءَ به هؤلاءِ - لأبي سفيانَ وأصحابِه - وأعتذِرُ إليك مما صنعَ هؤلاءِ ومِن انهزامِهم، فسارَ رسولُ الله ﷺ نحوَه، فلما رأى جبْهتَه بكي، ولما رأى ما مُثِّل به شَهَقَ، ثم قال:"ألا كُفِّنَ؟" فقام رجلٌ من الأنصار فرمَى بثوبٍ، قال جابرٌ: فقال رسول الله ﷺ:"سيدُ الشهداء عندَ الله تعالى يومَ القيامةِ حمزةُ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4900 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4900 - صحيح
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جنگ احد کے دن جب لوگ میدان سے بھاگ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کا جسم مبارک نہیں مل رہا تھا۔ ایک آدمی نے کہا: میں نے ان کو فلاں درخت کے پاس دیکھا ہے، وہ کہہ رہے تھے ” میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا شیر ہوں، یا اللہ میں تیری بارگاہ میں اس عمل سے بری ہوں جو یہ لوگ ابوسفیان رضی اللہ عنہ اور اس کے ساتھیوں کے لئے لائے ہیں، اور میں تیری بارگاہ میں مسلمانوں کی شکست کی معذرت چاہتا ہوں “۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مقام کی جانب چل دیئے، (وہاں پہنچ کر) جب سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے چہرے پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر پڑی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رو دیئے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ان کا مثلہ کر دیا گیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سسکیاں بندھ گئیں۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا ان کو کفن نہیں دیا جائے گا؟ پھر ایک انصاری آدمی نے کھڑے ہو کر ایک کپڑا پیش کیا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تمام شہداء کے سردار سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4961]