المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
214. ذِكْرُ مَنَاقِبِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ بْنِ زَيْدِ بْنِ كَعْبٍ الْخَزْرَجِيِّ
سیدنا عمرو بن الجموح بن زید بن کعب خزرجی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 4980
أخبرنا أبو العباس القاسم بن القاسم السَّيَّارِي بمَرْو، حَدَّثَنَا عبد الله بن علي الغَزّال حَدَّثَنَا علي بن الحسن بن شَقِيق، حَدَّثَنَا ابن المُبارَك، حَدَّثَنَا عبد الرحمن بن زيد بن أسلم، عن أبيه: أنَّ عمر بن الخطاب لما فَرَض للناسِ فَرَض لعبد الله بن حنظلة ألفي درهمٍ، فأتاهُ حنظلةُ بابنِ أخٍ له، ففَرَض له دون ذلك، فقال له: يا أميرَ المؤمنين، فَضّلتَ هذا الأنصاريَّ على ابن أخي؟ فقال: نعم، لأني رأيتُ أباهُ يومَ أُحُدٍ يَستَنُّ بسيفِه كما يَستَنُّ الجَمَلُ (1) . ذكرُ مناقب عَمرو بن الجَمُوح بن زيد بن حَرام بن كعب الخَزْرجي وكان سيّدَ قبيلتِه، وكان أعرجَ، فقُتل هو وابنُه خَلّاد بن عمرو يومَ أَحُدٍ، حَمَلا جميعًا على المشركين، وانكشف المسلمون (1) فقُتِلا جميعًا، ومعهما أبو أيمن (2) مولى عَمرو.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4918 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4918 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
سیدنا زید بن اسلم فرماتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جب لوگوں میں مال غنیمت تقسیم فرما رہے تھے تو سیدنا حنظلہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے سیدنا عبداللہ کو دو ہزار درہم دیئے، تو سیدنا (طلحہ) اپنے بھتیجے کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لے آئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو عبداللہ بن حنظلہ سے کم حصہ دیا۔ تو (سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ) نے کہا: اے امیرالمومنین! آپ نے اس انصاری کو میرے بھتیجے سے زیادہ حصہ دیا ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جی ہاں۔ (واقعی میں نے عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ کو اس سے زیادہ حصہ دیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ) میں نے ان کو جنگ احد کے دن اس طرح دوڑ دوڑ کر تلوار چلاتے دیکھا ہے جیسے اونٹ دوڑتا ہے۔ وہ (سیدنا عمرو بن الجموح) اپنی قوم کے سردار تھے اور لنگڑے تھے، پس وہ اور ان کا بیٹا خلاد بن عمرو احد کے دن (شہید) ہوئے، ان دونوں نے مشرکین پر اکٹھے حملہ کیا اور مشرکین پیچھے ہٹ گئے، پھر وہ دونوں قتل (شہید) ہوئے اور ان کے ساتھ عمرو کے غلام ابو یمن بھی تھے۔ ہمیں یہ روایت ابو عبد اللہ الاصبہانی نے بیان کی، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں الحسن بن الجہم نے بیان کی، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں الحسین بن الفرج نے بیان کی، انہوں نے محمد بن عمر سے اور انہوں نے اپنے شیوخ سے روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4980]