🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

217. أَوَّلُ مَنْ ضَحِكَ اللَّهُ إِلَيْهِ: سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ
سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان — سب سے پہلے جن پر اللہ تعالیٰ مسکرایا وہ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4988
أخبرني عبد الله بن محمد بن موسى، حَدَّثَنَا إسماعيل بن قُتيبة، حَدَّثَنَا أبو بكر بن أبي شَيْبة، حَدَّثَنَا ابن فُضيل، عن عطاء بن السائب، عن مُجاهد، عن ابن عمر، قال: اهتزَّ لحُبِّ لقاءِ الله العرشُ - يعني السريرَ؛ قال: ﴿وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ﴾ - تفسَّخَت أعوادُه. قال: ودخل رسولُ الله ﷺ قبرَه فاحتَبَس، فلما خرج قيل: يا رسولَ الله، ما حَبَسك؟ قال:"ضُمَّ سعدٌ في القبرِ ضَمّةً، فدعوتُ الله أن يَكشِفَ عنه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4924 - صحيح
سیدنا (عبداللہ) بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ کی سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی خوشی میں عرش یعنی وہ تخت (جس پر آپ کے جسم اطہر کو رکھا گیا تھا) جھوما۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی رَفَعَ اَبَوَیْہِ عَلَی الْعَرْشِ (اس آیت میں بھی عرش کا لفظ استعمال ہوا ہے لیکن اس کا معنی عرش نہیں ہے بلکہ اس سے مراد تخت ہے، اور وہ ہلا اس لئے تھا کہ) اس کے پائے پھولے ہوئے تھے۔ آپ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا سعد کی قبر میں داخل ہوئے اور کچھ دیر بیٹھے رہے، جب آپ باہر تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دیر لگانے کی وجہ پوچھی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان پر قبر تنگ ہو رہی تھی میں ان کے لئے وسعت کی دعا کر رہا تھا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4988]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں