المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
230. مَا بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ فِي جَيْشٍ قَطُّ إِلَّا أَمَّرَهُ
سیدنا زید الحب بن حارثہ بن شراحیل بن عبد العزیٰ رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان — رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب بھی سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو کسی لشکر میں بھیجا تو انہیں ہی امیر مقرر فرمایا
حدیث نمبر: 5018
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا أحمد بن عبد الجبار، حَدَّثَنَا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، عن محمد بن جعفر بن الزُّبير، عن عُروة، قال: بَعَثَ رسولُ الله ﷺ بَعْثَه إلى مُؤتة، فقاتل زيدُ بنُ حارثة برايةِ رسول الله ﷺ في جُمادى الأُولى سنةَ ثمانٍ، حتَّى شاطَ في رِماحٍ القوم، ثم أخذَها جعفرُ بنُ أبي طالب (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4952 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4952 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
عروہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موتہ کی طرف ایک لشکر روانہ فرمایا، تو جمادی الاول سن 8 ہجری میں زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا تھام کر (بہادری سے) لڑے یہاں تک کہ وہ دشمن کے نیزوں کی زد میں آکر تڑپ تڑپ کر شہید ہو گئے، پھر وہ جھنڈا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے سنبھال لیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5018]
تخریج الحدیث: «رجاله لا بأس بهم، لكنه مرسل، وهو خبر صحيح مشهور.» [ترقيم الرساله 5018] [ترقيم الشركة 4983] [ترقيم العلميه 4952]
الحكم على الحديث: رجاله لا بأس بهم
حدیث نمبر: 5019
أخبرنا أبو الطَّيِّب محمد بن أحمد الزاهد، حَدَّثَنَا سَهْل بن عمّار العَتَكي، حَدَّثَنَا محمد بن عُبيد الطَّنَافِسي، حَدَّثَنَا وائل بن داود، سمعت البَهِيَّ يُحدِّث: أَنَّ عائشةَ كانت تقول: ما بَعَثَ رسولُ الله ﷺ زيدَ بنَ حارثة في جيشٍ إلَّا أمَّرَه، ولو بقيَ بعدَه لاستَخْلفَه (1) . صحيحُ الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو جس لشکر میں بھی بھیجا انہیں اس کا امیر ہی مقرر فرمایا، اور اگر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حیات رہتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنا خلیفہ (جانشین) مقرر فرماتے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5019]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5019]
تخریج الحدیث: «حسنٌ إن صحَّ سماع البهيِّ من عائشة، وهذا إسناد ضعيف من أجل سهل بن عمار العَتَكي، فهو مختلفٌ في عدالته كما قال الحاكم، لكنه متابع، وفي ثبوت سماع البهيّ - واسمه عبد الله - من عائشة خلاف، وقد وقع تصريحه بسماعه منها في حديث رواه عنها، ولهذا جزم البخاريُّ فيما ...» [ترقيم الرساله 5019] [ترقيم الشركة 4984]
الحكم على الحديث: حسنٌ إن صحَّ سماع البهيِّ من عائشة
حدیث نمبر: 5020
حدثني علي بن عيسى، حَدَّثَنَا إبراهيم بن أبي طالب، حَدَّثَنَا ابن أبي عُمر، حَدَّثَنَا سفيان، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم، قال: قال رسول الله ﷺ:"لا تَلُومُونا على حُبِّ زَيدٍ"؛ يعني: ابنَ حارثةَ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4954 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4954 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
قیس بن ابی حازم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم ہمیں زید (بن حارثہ) کی محبت پر ملامت نہ کرو۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5020]
تخریج الحدیث: «إسناده مرسلٌ صحيحٌ، وقيس بن أبي حازم تابعيّ كبير مخضرم.» [ترقيم الرساله 5020] [ترقيم الشركة 4985] [ترقيم العلميه 4954]
الحكم على الحديث: إسناده مرسلٌ صحيحٌ
حدیث نمبر: 5020M
قال إسماعيلُ: وسمعتُ الشعبي يقول: ما بَعَثَ رسولُ الله ﷺ سَريّةً قَطُّ وفيهم زيدُ بنُ حارثة إِلَّا أَمَّرَه عليهم (2) .
امام شعبی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بھی کوئی سریہ (لشکر) روانہ فرمایا اور اس میں زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ موجود ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ہی ان پر امیر مقرر فرماتے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5020M]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح وهذا إسناد رجاله ثقات، لكن اختُلف فيه على سفيان - وهو ابن عُيينة - في وصله، وإرساله فرواه ابن أبي عُمر - وهو محمد بن يحيى بن أبي عمر العَدَني - هنا عند المصنّف، وأحمدُ بنُ حنبل في "فضائل الصحابة" (1534) كلاهما عن سفيان بن عيينة، عن ابن أبي خالد، عن الشعبي، مرسلًا.» [ترقيم الرساله 5020M] [ترقيم الشركة 4985/1]
الحكم على الحديث: خبر صحيح وهذا إسناد رجاله ثقات