🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

230. مَا بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ فِي جَيْشٍ قَطُّ إِلَّا أَمَّرَهُ
سیدنا زید الحب بن حارثہ بن شراحیل بن عبد العزیٰ رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان — رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب بھی سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو کسی لشکر میں بھیجا تو انہیں ہی امیر مقرر فرمایا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5018
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا أحمد بن عبد الجبار، حَدَّثَنَا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، عن محمد بن جعفر بن الزُّبير، عن عُروة، قال: بَعَثَ رسولُ الله ﷺ بَعْثَه إلى مُؤتة، فقاتل زيدُ بنُ حارثة برايةِ رسول الله ﷺ في جُمادى الأُولى سنةَ ثمانٍ، حتَّى شاطَ في رِماحٍ القوم، ثم أخذَها جعفرُ بنُ أبي طالب (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4952 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عروہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر موتہ کی جانب بھیجا، چنانچہ سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیئے ہوئے علم کے زیر سایہ آٹھویں سن ہجری میں جنگ کی، اور وہ تیروں کے زخموں کی تاب نہ لا کر شہید ہو گئے، پھر یہ علم سیدنا جعفر ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے تھاما۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5018]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5019
أخبرنا أبو الطَّيِّب محمد بن أحمد الزاهد، حَدَّثَنَا سَهْل بن عمّار العَتَكي، حَدَّثَنَا محمد بن عُبيد الطَّنَافِسي، حَدَّثَنَا وائل بن داود، سمعت البَهِيَّ يُحدِّث: أَنَّ عائشةَ كانت تقول: ما بَعَثَ رسولُ الله ﷺ زيدَ بنَ حارثة في جيشٍ إلَّا أمَّرَه، ولو بقيَ بعدَه لاستَخْلفَه (1) . صحيحُ الإسناد، ولم يُخرجاه.
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بھی کسی لشکر میں سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا تو انہیں کو امیر مقرر فرمایا۔ (ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا خیال ہے کہ) اگر سیدنا زید رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد زندہ ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہی کو اپنا جانشین قائم کرتے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5019]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5020
حدثني علي بن عيسى، حَدَّثَنَا إبراهيم بن أبي طالب، حَدَّثَنَا ابن أبي عُمر، حَدَّثَنَا سفيان، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم، قال: قال رسول الله ﷺ:"لا تَلُومُونا على حُبِّ زَيدٍ"؛ يعني: ابنَ حارثةَ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4954 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا قیس بن حازم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: زید پر شفقت کے بارے میں مجھ پر اعتراض مت کیا کرو۔ (راوی کہتے ہیں یہ زید) بن حارثہ ہیں۔ (اگرچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے یہ توقع نہ تھی لیکن پھر بھی احتیاطاً فرما دیا تاکہ کوئی شخص اس طرح کی بات سوچ کر اپنا ایمان برباد نہ کر بیٹھے۔ شفیق) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5020]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5020M
قال إسماعيلُ: وسمعتُ الشعبي يقول: ما بَعَثَ رسولُ الله ﷺ سَريّةً قَطُّ وفيهم زيدُ بنُ حارثة إِلَّا أَمَّرَه عليهم (2) .
اسماعیل کہتے ہیں: میں نے شعبی کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بھی لشکر روانہ فرمایا اس میں اگر زید بن حارثہ موجود ہوتے تو انہی کو امیر مقرر فرماتے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5020M]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں