المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
252. أَرْضَعَتِ امْرَأَةُ أَبِي حُذَيْفَةَ سَالِمًا بِأَمْرِ النَّبِيِّ بَعْدَ أَنْ شَهِدَ بَدْرًا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے بدر میں شرکت کے بعد سیدنا ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کی زوجہ کا سالم کو دودھ پلانا
حدیث نمبر: 5071
أخبرنا عبد الصمد بن علي بن مُكرَم، أخبرنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدثنا موسى بن هارون البُرْدي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا حَنْظَلة بن أبي سفيان، أنه سمع عبد الرحمن بن سابِطٍ يُحدِّث عن عائشة، قالت: أبطأتُ ليلةً عن رسولِ الله ﷺ بعد العِشاء، ثم جئتُ، فقال لي:"أين كُنتِ؟" قلت: كنا نَسمعُ قراءةَ رجلٍ من أصحابِك في المسجد، لم أسمع مثلَ صوته، ولا قراءةً من أحدٍ من أصحابِك، فقام وقمتُ معه، حتى استمعَ إليه، ثم التفتَ إليَّ فقال:"هذا سالمٌ مولى أبي حُذيفة، الحمدُ لله الذي جعلَ في أُمّتي مِثلَ هذا" (1) . صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه هكذا، إنما اتفقا (2) على حديث عُبيد الله عن نافع عن ابن عُمر: أنَّ المُهاجرين لما أقبَلُوا من مكةَ إلى المدينةِ كان يَؤُمُّهم سالم مولى أبي حُذيفة، لأنه كان أكثرَهم قرآنًا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5001 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5001 - على شرط البخاري ومسلم
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں ایک رات عشاء کے بعض حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تاخیر سے حاضر ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے تاخیر کی وجہ دریافت فرمائی، میں نے عرض کی: میں مسجد میں آپ کے ایک صحابی سے قرآن کریم کی تلاوت سن رہی تھی، میں نے آپ کے صحابہ میں سے کبھی بھی اس جیسی آواز اور ایسی قراءت نہیں سنی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر کھڑے ہوئے، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کھڑی ہو گئی، اور قراءت سننے لگی، پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم میری جانب متوجہ ہوئے اور فرمانے لگے: یہ ابوحذیفہ کے آزاد کردہ غلام ” سالم “ ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جس نے اس امت میں ایسے لوگ پیدا فرمائے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو اس طرح نقل نہیں کیا۔ تاہم دونوں نے عبیداللہ کی نافع کے حوالے سے ابن عمر سے روایت کردہ یہ حدیث نقل کی ہے کہ جب مہاجرین مکہ سے مدینہ آئے تو ان کی امامت سالم مولی ابی حذیفہ کرواتے تھے، کیونکہ یہ سب اچھا قرآن پڑھا کرتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5071]
حدیث نمبر: 5072
أخبرنا أبو العباس المَحبُوبي بمَرُو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد ابن هارون، أخبرنا يحيى بن سعيد، أنه سمع عَمْرةَ بنت عبد الرحمن تُحدِّث: أنَّ امرأةَ أبي حُذيفة ذَكَرَت. وأخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثني أبي، حدثنا سُويد بن سعيد، حدثنا علي بن مُسهِر، عن يحيى بن سعيد، أنه سمع عَمْرة بنت عبد الرحمن تُحدِّث عن عائشة: أنَّ امرأة أبي حُذيفة ذَكَرتْ لرسولِ الله ﷺ دخولَ سالم مولى أبي حُذيفة عليها، فقال لها رسولُ الله ﷺ:"أرضِعِيه"، فأرضعَتْه بعد أن شَهِد بدرًا، فكان يَدخُل عليها (1) . صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5002 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5002 - على شرط مسلم
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا تذکرہ کیا کہ ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کا آزاد کردہ غلام ” سالم “ ان کے پاس آتا ہے (اور وہ ان سے پردہ نہیں کرتی) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اس کو دودھ پلا دے، چنانچہ انہوں نے سالم کو دودھ پلا دیا (یہ غزوہ بدر کے بعد کی بات ہے) اس کے بعد سالم ان کے پاس آ جایا کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5072]