🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
252. أرضعت امرأة أبى حذيفة سالما بأمر النبى بعد أن شهد بدرا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے بدر میں شرکت کے بعد سیدنا ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کی زوجہ کا سالم کو دودھ پلانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5071
أخبرنا عبد الصمد بن علي بن مُكرَم، أخبرنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدثنا موسى بن هارون البُرْدي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا حَنْظَلة بن أبي سفيان، أنه سمع عبد الرحمن بن سابِطٍ يُحدِّث عن عائشة، قالت: أبطأتُ ليلةً عن رسولِ الله ﷺ بعد العِشاء، ثم جئتُ، فقال لي:"أين كُنتِ؟" قلت: كنا نَسمعُ قراءةَ رجلٍ من أصحابِك في المسجد، لم أسمع مثلَ صوته، ولا قراءةً من أحدٍ من أصحابِك، فقام وقمتُ معه، حتى استمعَ إليه، ثم التفتَ إليَّ فقال:"هذا سالمٌ مولى أبي حُذيفة، الحمدُ لله الذي جعلَ في أُمّتي مِثلَ هذا" (1) . صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه هكذا، إنما اتفقا (2) على حديث عُبيد الله عن نافع عن ابن عُمر: أنَّ المُهاجرين لما أقبَلُوا من مكةَ إلى المدينةِ كان يَؤُمُّهم سالم مولى أبي حُذيفة، لأنه كان أكثرَهم قرآنًا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5001 - على شرط البخاري ومسلم
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں ایک رات عشاء کے بعض حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تاخیر سے حاضر ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے تاخیر کی وجہ دریافت فرمائی، میں نے عرض کی: میں مسجد میں آپ کے ایک صحابی سے قرآن کریم کی تلاوت سن رہی تھی، میں نے آپ کے صحابہ میں سے کبھی بھی اس جیسی آواز اور ایسی قراءت نہیں سنی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر کھڑے ہوئے، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کھڑی ہو گئی، اور قراءت سننے لگی، پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم میری جانب متوجہ ہوئے اور فرمانے لگے: یہ ابوحذیفہ کے آزاد کردہ غلام سالم ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جس نے اس امت میں ایسے لوگ پیدا فرمائے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو اس طرح نقل نہیں کیا۔ تاہم دونوں نے عبیداللہ کی نافع کے حوالے سے ابن عمر سے روایت کردہ یہ حدیث نقل کی ہے کہ جب مہاجرین مکہ سے مدینہ آئے تو ان کی امامت سالم مولی ابی حذیفہ کرواتے تھے، کیونکہ یہ سب اچھا قرآن پڑھا کرتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5071]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5071 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث قوي، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكن عبد الرحمن بن سابِطٍ كثير الإرسال كما قال ابن حجر في "نتائج الأفكار" 3/ 225، وكأنه لم يسمع من عائشة، فقد روى هذا الحديثَ عبدُ الله بن المبارك في "الجهاد" (120) عن حنظلة بن أبي سفيان، عن ابن سابط: أنَّ عائشة احتبست على رسول الله … هكذا رواه مرسلًا، وكذلك رواه عبد الله بن هاشم الطُّوسي - وهو ثقة حافظ - عند الفاكهي في "أخبار مكة (1729) عن عبد الله بن نُمير، عن حنظلة، عن عبد الرحمن بن سابطٍ، قال: أبطأت عائشة ذات ليلة … مرسلًا أيضًا وإن كان أحمد رواه في "مسنده" 42/ (25320) عن ابن نُمير موصولًا. قال ابن حجر في "نتائج الأفكار" 3/ 225: ابن المبارك أتقنُ من الوليد، وقال في "إتحاف المهرة" (21912): المرسَل أشبه.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث "قوی" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اگرچہ راوی ثقہ ہیں، مگر عبد الرحمن بن سابط کثرت سے "ارسال" کرتے ہیں اور ان کا حضرت عائشہ سے سماع ثابت نہیں۔ ابن مبارک اور ابن نمیر نے اسے "مرسل" ہی روایت کیا ہے، لہٰذا اس کا مرسل ہونا ہی زیادہ قرینِ قیاس ہے۔
ومع ذلك قَوَّى إسناد الموصول الذهبي في "تاريخ الإسلام" 2/ 36، وجوَّده في "سير أعلام النبلاء" 1/ 168، وكذلك جوَّد إسنادَه ابن كثير في "فضائل القرآن" ص 193!
⚖️ درجۂ حدیث: اس کے باوجود امام ذہبی اور ابن کثیر نے اس کی "موصول" سند کو "جید" (بہتر) قرار دیا ہے۔
وللمرفوع منه طريق أخرى سيأتي ذكرها ورجالها ثقات كما قال ابن حجر في "الإصابة" 3/ 15، فإذا انضم إسنادها إلى إسناد طريقنا التي هنا تقوَّى الخبرُ وعُرف أنَّ له أصلًا، فلا يبعد تصحيحُه، كما قال ابن حجر في "نتائج الأفكار".
🧩 متابعات و شواہد: اس مرفوع حدیث کا ایک اور طریق بھی ہے جس کے راوی ثقہ ہیں، لہذا جب تمام سندیں مل جائیں تو حافظ ابن حجر کے بقول اس کی تصحیح میں کوئی بعید بات نہیں۔
وأخرجه ابن ماجه (1338) عن العباس بن عثمان الدمشقي، عن الوليد بن مسلم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ابن ماجہ (1338) نے ولید بن مسلم کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 42/ (25320) عن عبد الله بن نُمير، عن حنظلة بن أبي سفيان، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (42/25320) نے عبد اللہ بن نمیر کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وللمرفوع طريق أخرى عند البزار (215) من طريق ابن جُريج، عن ابن أبي مليكة، عن عائشة: أن النبي ﷺ سمع سالمًا مولى أبي حذيفة يقرأ من الليل، فقال: "الحمد الذي جعل من أمتي مثلَه".
🧩 متابعات و شواہد: امام بزار (215) نے ابن جریج عن ابن ابی ملیکہ عن عائشہ کے طریق سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے حضرت سالم کی تلاوت سنی اور فرمایا: "تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے میری امت میں ان جیسا شخص پیدا کیا"۔
(2) إنما أخرجه البخاري وحده (692) دون مسلم.
📝 نوٹ / توضیح: اس روایت کو صرف امام بخاری (692) نے تخریج کیا ہے، امام مسلم نے نہیں۔