🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

256. ذِكْرُ مَنَاقِبِ عُكَّاشَةَ بْنِ مِحْصَنِ بْنِ قَيْسِ بْنِ مُرَّةَ بْنِ كَثِيرٍ أَبُو مِحْصَنٍ شَهِدَ بَدْرًا وَأُحُدًا وَالْخَنْدَقَ وَالْمَشَاهِدَ كُلَّهَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ .
سیدنا عکاشہ بن محصن بن قیس بن مرہ بن کثیر ابومحصن رضی اللہ عنہ کے فضائل آپ جنگ بدر، جنگ احد، جنگ خندق اور تمام غزوات میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ شریک ہوئے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5078
أخبرني أبو علي الحافظ، أخبرنا محمد بن إسحاق بن إبراهيم، حدثنا محمد بن الصَّبّاح، حدثنا سُفيان، عن عمرو، عن عُمر بن عبد الرحمن بن زيد بن الخَطَّاب، قال: كان عمرُ يُصابُ بالمُصيبة فيقولُ: أُصِبتُ بزيد بن الخَطّاب فَصَبرتُ. وأَبصَرَ عمرُ قاتلَ أخيه زيدٍ، فقال له: ويحَكَ، لقد قتلتَ لي أخًا ما هبَّتِ الصَّبَا إِلَّا ذَكَرتُه (2) . ذكرُ مناقب عُكّاشة بن مِحصَنِ بن قيس بن مُرّة بن كَثير أبو مِحصَنٍ شهد بدرًا وأُحدًا والخندقَ والمَشاهدَ كلَّها مع رسول الله ﷺ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5008 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
عمر بن عبدالرحمن بن زید بن خطاب سے روایت ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو جب بھی کوئی مصیبت پہنچتی تو وہ فرماتے: میں نے زید بن خطاب (کی شہادت) پر صدمہ اٹھایا اور اس پر صبر کیا۔ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی زید کے قاتل کو دیکھا تو اس سے فرمایا: تیرا بھلا ہو، تو نے میرے ایسے بھائی کو شہید کیا ہے کہ جب بھی بادِ صبا چلتی ہے تو مجھے ان کی یاد ستاتی ہے۔
عکاشہ بن محصن بن قیس بن مرہ بن کثیر رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر، جنہوں نے بدر، احد، خندق اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تمام غزوات میں شرکت کی اور ان کی کنیت ابومحصن تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5078]
تخریج الحدیث: «خبر حسنٌ، وهذا إسناد رجالُه لا بأس بهم غير أنه مرسلٌ، فإنَّ عمر بن عبد الرحمن بن زيد بن الخَطّاب تابعيٌّ لا يُدرك عمر بن الخطّاب، ولذلك أتى به هنا بصيغة الإرسال. سفيان: هو ابن عيينة، وعمرو: هو ابن دينار المكي، ومحمد بن الصّبّاح: هو ابن سفيان الجَرْجرائي، ومحمد بن ...» [ترقيم الرساله 5078] [ترقيم الشركة 5040] [ترقيم العلميه 5008]

الحكم على الحديث: خبر حسنٌ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں