المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
264. ذِكْرُ مَنَاقِبِ رَافِعِ بْنِ مَالِكٍ الزُّرَقِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا رافع بن مالک زرَقی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 5091
أخبرني إبراهيم بن محمد بن حاتم الزاهد، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا إبراهيم بن حمزة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن حَرام بن عثمان، عن أبي عَتيق وأبي جابر، عن جابر: أنَّ ثعلبةَ بن عَنَمةَ وَفَدَ على رسول الله ﷺ وهو جالسٌ، [فسَلَّم] (2) وفي إصبعَ ثعلبةَ خاتمٌ من ذَهَب، فلم يَرُدَّ عليه، ثم سَلَّم فلم يَرُدَّ عليه، ثم سلَّم فلم يَرُدّ عليه، فقال له بعض من كان عنده: سَلَّمَ عليك ثعلبةُ ثلاثَ مراتٍ فلم تَرُدَّ عليه! فقال رسول الله ﷺ:"أوَلا تَراهُ يَنضَحُ وجهي بجَمْرةٍ من نارٍ في يده؟!" فرمَى ثعلبةُ بالخاتَمِ (3) . ذكرُ مناقب رافعِ بن مالك الزُّرَقي ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5021 - حرام بن عثمان هالك
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5021 - حرام بن عثمان هالك
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ثعلبہ بن عنمہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، ان کی انگلی میں سونے کی ایک انگوٹھی پہنی ہوئی تھی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سلام کا جواب نہ دیا، انہوں نے دوبارہ سلام کیا، لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر بھی سلام کا جواب نہ دیا، کسی صحابی نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ثعلبہ نے آپ کو تین مرتبہ سلام کیا ہے، لیکن آپ نے جواب ارشاد نہیں فرمایا (اس کی وجہ کیا ہے؟) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں نظر نہیں آ رہا؟ اس کے ہاتھ میں موجود دوزخ کے انگارے کی وجہ سے میرے چہرے پر پسینہ آ رہا ہے۔ (یہ سنتے ہی) سیدنا ثعلبہ رضی اللہ عنہ نے وہ انگوٹھی اتار کر پھینک دی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5091]