🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

265. فَضْلُ التَّحْمِيدِ عِنْدَ الْعَطْسَةِ
چھینک آنے پر الحمد للہ کہنے کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5092
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، في تسمية مَن شهد بدرًا مع رسول الله ﷺ مِن بني زُريق [بن] عامر، ثم من بني العَجْلان: رافعُ بن مالك بن العَجْلان الزُّرَقي (1) .
ابن اسحاق نے بنی زریق بن عامر، پھر بنی عجلان میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جنگ بدر میں شریک ہونے والوں میں سیدنا رافع بن مالک بن عجلان زرقی رضی اللہ عنہ کا نام بھی ذکر کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5092]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5093
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا محمد بن شاذان ومحمد بن نُعَيم، وأحمد بن سَلَمة، قالوا: حدثنا قُتيبة بن سعيد، حدثنا رِفاعة بن يحيى بن عبد الله بن رفاعة بن رافع، عن عمِّ أبيه مُعاذ بن رِفاعة، عن جَدِّه رافع بن مالك، قال: صلَّيتُ خلفَ رسولِ الله ﷺ فعَطَستُ، فقلت: الحمدُ لله حمدًا كثيرًا طيبًا مُبارَكًا فيه مبارَكًا عليه، كما يُحبُّ ربُّنا ويَرضى، فلما صلَّى رسولُ الله ﷺ انصرفَ فقال:"مَن المُتكلِّم في الصلاةِ؟" فقال رفاعة بن رافع (2) : أنا يا رسول الله، قال:"فكيف قُلتَ؟" قال: قلتُ الحمدُ لله حمدًا كثيرًا طيبًا مباركًا فيه، كما يُحِبُّ ربُّنا ويَرضى فقال النبيُّ ﷺ: والذي نَفْسي بيَدِه، لقد ابتَدَرَها بِضعةٌ (1) وثلاثون مَلَكًا أَيُّهم يَصعَدُ بها" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5023 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا رافع بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھ رہا تھا، دوران نماز مجھے چھینک آئی، میں نے کہا: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ حَمْدًا کَثِیْرًا طَیِّبًا مُبَارَکًا فِیْہِ مُبَارَکًا عَلَیْہِ کَمَا یُحِبُّ رَبُّنَا وَیَرْضَی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر پوچھا: نماز میں آواز کس کی آ رہی تھی؟ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بول رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کیا پڑھ رہے تھے؟ میں نے کہا: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ حَمْدًا کَثِیْرًا طَیِّبًا مُبَارَکًا فِیْہِ مُبَارَکًا عَلَیْہِ کَمَا یُحِبُّ رَبُّنَا وَیَرْضَی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تیس سے زیادہ فرشتے ایک دوسرے سے آگے بڑھ بڑھ کر اس تسبیح کو لے جانا چاہ رہے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5093]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5094
حدَّثَناه محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أحمد بن سَلَمة، حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا قُتيبة بن سعيد، وما كَتبناهُ إلَّا عنه، فذكر الحديثَ بمثلِه (3) . ذكرُ (1) رِفاعةَ بن رافِع الزُّرَقي ﵁ -
محمد بن یحییٰ کہتے ہیں کہ ہمیں قتیبہ بن سعید نے حدیث بیان کی—اور ہم نے یہ حدیث صرف انہی کے واسطے سے لکھی ہے—پھر انہوں نے اسی کے مثل حدیث ذکر کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5094]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں