🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

275. ذِكْرُ مَنَاقِبِ أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ خَتَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدنا ابو العاص بن ربیع رضی اللہ عنہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے داماد) کے مناقب کا بیان — ان کے انجامِ خیر اور حسنِ اسلام کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5107
كما حدّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نَصر الخَوْلاني، حدثنا بشر بن بكر، حدثني عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، حدثني عطاءٌ الخُراساني، قال: قدمتُ المدينةَ، فأتيتُ ابنةَ ثابت بن قيس بن شَمّاس، فذكرتْ قصةَ أبيها، قالت: لما أنزل الله على رسوله ﷺ: ﴿لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ﴾ الآية [الحجرات: 2] ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ﴾ [لقمان:18] جلس أبي في بيته يبكي، ففَقَدَه رسول الله ﷺ، فسألَه عن أمرِه، فقال: إني امرُؤٌ جَهِير الصوتِ، وأخافُ أن يكون قد حَبِطَ عَمَلي، فقال:"بل تَعِيشُ حميدًا، وتموتُ شهيدًا، ويُدخِلُك اللهُ الجنةَ بسلَامٍ"، فلما كان يومُ اليمامة مع خالد بن الوليد استُشهد، فرآه رجلٌ من المسلمين في مَنامه، فقال: إني لما قُتِلتُ انتَزَع درعي رجلٌ من المسلمين، وخَبّأه في أقصى العسكر، وهو عنده، وقد أكَبَّ على الدِّرع بُرْمةً، وجعل على البُرمة رَحْلًا، فالتِ الأميرَ فأخبِره، وإياك أن تقولَ: هذا حُلُم، فتُضيِّعَه، وإذا أتيتَ المدينةَ فائْتِ فقل لخليفةِ رسولِ الله ﷺ: إن عليَّ من الدَّين كذا، وغُلامي فلانٌ من رَقِيقي عَتيقٌ، وإياك أن تقولَ: هذا حُلُم، فتُضيِّعَه. قال: فأتاهُ فأخبره الخَبَر، فوجدَ الأمرَ على ما أخبرَه، وأتى أبا بكر فأخبرَه، فأنفذَ وصيَّتَه، فلا نعلمُ أحدًا بعدما مات أُنفذ وصيّتُه غيرَ ثابت بن قيس بن الشَّمّاس (1) . ذكرُ مناقب أبي العاص بن الرَّبيع خَتَنِ (1) رسول الله ﷺ
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5036 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عطاء خراسانی بیان فرماتے ہیں: میں مدینہ منورہ میں آیا تو سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کے پاس گیا، وہ اپنے والد کا قصہ بیان کرتے ہوئے کہنے لگی: جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل فرمائی لَا تَرْفَعُوا اَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتَ النَّبِیّ (الحجرات: 2) اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے ۔ (ترجمہ: کنزالایمان، امام احمد رضا) اور یہ آیت نازل ہوئی وَاللہُ لَا یُحِبُّ کُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍ (الحدید: 23) اور اللہ کو نہیں بھاتا کوئی اترونا بڑائی مارتا ۔ تو میرے والد محترم گھر میں بیٹھ کر رونے لگ گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی کمی کو محسوس فرمایا، اور ان کے بارے میں دریافت کیا۔ انہوں نے کہا: میری آواز تو بہت بلند بانگ شخص ہوں، اور میں اپنے اعمال کے برباد ہونے سے ڈرتا ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تمہارے اعمال ضائع نہیں ہوں گے) بلکہ تم تو قابل ستائش زندگی گزارو گے۔ اور تمہیں شہادت کی موت نصیب ہو گی، اور اللہ تعالیٰ تمہیں سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل فرمائے گا۔ چنانچہ آپ جنگ یمامہ میں خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھے اور اسی جنگ میں شہید ہوئے۔ (ان کی شہادت کے بعد) ایک آدمی نے ان کو خواب میں دیکھا، سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ نے اس آدمی کو کہا: جب میں شہید ہوا تو ایک مسلمان آدمی نے میری زرہ چوری کر لی تھی اور اس کو لشکر کے آخر میں جا کر چھپا دیا تھا وہ زرہ ابھی بھی اسی کے پاس ہے۔ اس نے اس کے اوپر پتھر کی ہانڈی رکھی ہوئی ہے، اور اس کے اوپر کجاوہ رکھا ہوا ہے، تو امیر صاحب کے پاس جا کر یہ بات بتاؤ، اور اس کو یہ نہ کہنا کہ میں نے خواب میں یہ سب کچھ دیکھا ورنہ تو یہ زرہ ضائع کر بیٹھے گا۔ اور جب تو مدینہ میں پہنچے تو خلیفۃ المسلمین کے پاس جانا اور اس کو بتانا کہ میرے ذمے اتنا قرضہ ہے، اور میرا غلاموں میں سے فلاں غلام میری طرف سے آزاد ہے، اور خبردار! ان کو بھی یہ نہیں بتانا کہ میں نے یہ خواب میں دیکھا ہے، ورنہ سب کچھ ضائع ہو جائے گا۔ وہ آدمی امیر کے پاس آیا اور اس کو سارے معاملہ کی خبر دی، چنانچہ سارا معاملہ اس خبر کے مطابق پایا گیا۔ پھر وہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان کو اس معاملے کی خبر دی، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کی وصیت کو پورا فرمایا۔ ہم نہیں جانتے کہ سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی اور شخص کی بعد از وفات کی گئی وصیت کو پورا کیا گیا ہو۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5107]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں