🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

274. وَصَايَا ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ فِي الرُّؤْيَا بَعْدَمَا اسْتُشْهِدَ وَإِنْفَاذُهَا
سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد خواب میں کی گئی وصایات اور ان پر عمل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5105
أخبرني أبو بكر محمد بن عيسى العَطّار بمَرُو، حدثنا عَبْدان بن محمد بن عيسى الحافظ، حدثنا الفضل بن سَهْل البغدادي - وكان يُقال له: الأعرج - حدثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد، حدثني أبي، عن ابن شهاب، قال: أخبرني إسماعيل بن محمد بن ثابت الأنصاري، عن أبيه، أن ثابت بن قيس قال: يا رسولَ الله، لقد خَشِيتُ أن أكونَ قد هَلَكتُ، قال رسول الله ﷺ:"ولمَ؟" قال: نهانا اللهُ أن نُحِبَّ أَن تُحمَدَ بما لم نفعل، وأجِدُني أُحِبُّ الحَمدَ، ونهانا عن الخُيَلاء، وأجِدُني أحِبُّ الجَمَال، ونهانا أن نرفعَ أصواتَنا فوق صوتِك، وأنا جَهِيرُ الصوتِ، فقال رسول الله ﷺ:"يا ثابتُ، ألا ترضى أن تَعِيشَ حميدًا، وتُقتَل شهيدًا، وتدخُل الجنةَ؟" قال: بلى يا رسول الله، قال: فَعاشَ حميدًا، وقُتِل شهيدًا يومَ مُسيلِمة الكذَّاب (1) . صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما أخرج مسلمٌ وحدَه حديثَ حمّاد بن سلَمة وسُليمان بن المُغيرة، عن ثابت، عن أنس، قال: لما أُنزلت: ﴿لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ﴾ [الحجرات: 2] جاء ثابتُ بن قيس، وذكر الحديثَ مختصرًا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5034 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا اسماعیل بن محمد بن ثابت انصاری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے ڈر ہے کہ کہیں میں ہلاک نہ ہو گیا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیوں؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس بات سے منع فرمایا ہے کہ ہم اس کام پر اپنی تعریف پسند کریں جو ہم نے کیا ہی نہ ہو اور میں پاتا ہوں کہ میں تعریف کو پسند کرتا ہوں، اور اللہ نے ہمیں تکبر و خود پسندی سے منع فرمایا ہے جبکہ میں جمال و خوبصورتی کو پسند کرتا ہوں، اور ہمیں اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ اپنی آواز آپ کی آواز سے بلند کریں جبکہ میں «جَهِيرُ الصَّوتِ» بلند آواز والا آدمی ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ثابت! کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تم قابلِ تعریف زندگی گزارو، شہید کر دیے جاؤ اور جنت میں داخل ہو؟ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! چنانچہ انہوں نے قابلِ تعریف زندگی گزاری اور مسیلمہ کذاب کے خلاف (جنگِ یمامہ میں) شہید ہوئے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، البتہ امام مسلم نے اکیلے حماد بن سلمہ اور سلیمان بن مغیرہ کی روایت سے انس رضی اللہ عنہ کے واسطے سے یہ حدیث مختصراً روایت کی ہے کہ جب یہ آیت ﴿لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ﴾ [سورة الحجرات: 2] نازل ہوئی تو ثابت بن قیس آئے (اور پھر پورا قصہ بیان کیا)۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5105]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم لكن أكثر أصحاب ابن شهاب - وهو محمد بن مسلم الزهري - لم يذكروا فيه محمد بن ثابت بن قيس، وهو صحابي صغير له رؤية، فصار الخبر مرسلًا، ولكنه مع ذلك مرسلٌ قويُّ الإسناد كما قال ابن حجر في "فتح الباري" 10/ 524.» [ترقيم الرساله 5105] [ترقيم الشركة 5067] [ترقيم العلميه 5034]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5106
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّرِيّ بن خُزيمة، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد بن سَلَمة، حدثنا ثابت، عن أنس: أنَّ ثابت بن قيس جاء يومَ اليَمامة، وقد تَحنَّطَ ولَبِسَ أكفانَه، وقد انهزمَ أصحابُه، وقال: اللهمَّ إني أبْرأُ إليك مما جاءَ به هؤلاء، وأعتذِرُ إليك مما صنعَ هؤلاء، فبئسَ ما عَوَّدتُم أقرانَكم، خَلُّوا بيننا وبين أقرانِنا ساعةً، ثم حَمَل فقاتَلَ ساعةً فقُتِل، وكانت دِرعُه قد سُرِقَت، فرآه رجلٌ فيما يَرى النائمُ، فقال: إنَّ دِرعي في قِدرٍ تحت إكافٍ بمكان كذا وكذا، وأَوصى بوصايا، فطُلِب الدِّرعُ، فوُجِد حيثُ قال فأنفَذُوا وصيّتَه (1) . صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. ولحديث وصاياه قصة عجيبة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5035 - على شرط مسلم
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ جنگِ یمامہ کے دن (میدانِ جنگ میں) آئے جبکہ وہ خوشبو لگا چکے تھے اور اپنے کفن پہن رکھے تھے، اس وقت ان کے ساتھیوں کو ہزیمت ہو رہی تھی، تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ! یہ لوگ (دشمن) جو کچھ لے کر آئے ہیں میں اس سے تیری بارگاہ میں اپنی براءت کا اظہار کرتا ہوں اور ان لوگوں (مسلمانوں) نے جو کچھ کیا اس پر تجھ سے معذرت چاہتا ہوں، تم نے اپنے ہم عصروں کو کتنی بری عادت ڈال دی ہے، ہمارے اور ہمارے دشمنوں کے درمیان راستہ خالی کر دو، پھر انہوں نے حملہ کیا اور قتال کیا یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔ ان کی زرہ چوری ہو گئی تھی، تو ایک شخص نے انہیں خواب میں دیکھا، انہوں نے (خواب میں) بتایا: میری زرہ فلاں مقام پر کجاوے کے نیچے ایک دیگ میں رکھی ہے، اور انہوں نے کچھ وصیتیں بھی کیں، چنانچہ جب اس جگہ تلاشی لی گئی تو وہ زرہ وہیں ملی جہاں انہوں نے بتایا تھا، پھر لوگوں نے ان کی وصیت کو نافذ کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5106]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،ثابت: هو ابن أسلم البُناني.» [ترقيم الرساله 5106] [ترقيم الشركة 5068] [ترقيم العلميه 5035]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں