المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
299. قَالَ النَّبِيُّ " أَنَا خَيْرُكُمْ قَبِيلًا وَخَيْرُكُمْ بَيْتًا "
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان: میں تم سب میں نسب کے اعتبار سے بھی بہتر ہوں اور گھرانے کے اعتبار سے بھی بہتر ہوں
حدیث نمبر: 5153
أخبرنا بصِحّة ما ذكرتُه، أبو جعفر البغدادي، حدثنا أبو عُلَاثة، حدثنا أبي، حدثنا ابن لَهِيعة، حدثنا أبو الأسود، عن عُروة بن الزُّبَير، قال: كان فيمن شهد بدرًا مع رسول الله ﷺ من قريش والأنصار ثلاثُ مئةِ رجلٍ وثلاثةَ عشرَ رجلًا. قال: ومن بني عبد المُطّلب بن عبد مَنَافٍ عُبيدة والطُّفيل وحُصينٌ بنو الحارث بن عبد المطّلب (2) . وقد اختَلفوا في رَبيعة بن الحارث فقيل: إنه عاشَ بعد ذلك وأدرَكَ أيامَ عمر بن الخطاب، وروى عن رسول الله ﷺ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5076 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5076 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جنگ بدر میں شریک ہونے والے لوگوں میں قریش اور انصار میں سے کل تین سو تیرہ آدمی تھے۔ اور بنی عبدالمطلب بن عبد مناف میں سے حارث بن عبدالمطلب کے بیٹے سیدنا عبیدہ رضی اللہ عنہ، سیدنا طفیل رضی اللہ عنہ اور سیدنا حصین رضی اللہ عنہ ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ربیعہ بن حارث (اس دن شہید نہیں ہوئے تھے بلکہ وہ تو) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور خلافت تک زندہ رہے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث بھی روایت کی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5153]
حدیث نمبر: 5154
حدَّثَناه علي بن حَمْشَاذَ العدل، حدثنا موسى بن إسحاق القاضي، حدثنا أبو بكر بن أبي شَيْبة، حدثنا ابن فُضيل، عن يزيد بن أبي زياد، عن عبد الله بن الحارث، عن رَبيعة بن الحارث بن عبد المُطَّلب قال: بلغ النبيَّ ﷺ أَنَّ قومًا نالُوا منه، وقالوا له: إنما مَثَلُ محمد كمَثَل نخلةٍ نَبَتَتْ في كُناسٍ، فغضب رسول الله ﷺ ثم قال:"أَيُّها الناسُ، إنَّ الله خَلَقَ خَلْقَه فجعلَهم فِرقَتين، فجعلَني في خير الفِرقَتين، ثم جعلَهم قَبائلَ، فجعلَني في خَيرِهم قبيلًا، ثم جعلَهم بُيوتًا، فجعلَني في خَيرِهم بيتًا"، قال رسول الله ﷺ:"أنا خَيرُكم قَبيلًا وخَيرُكم بيتًا" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5077 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5077 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ربیعہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی گئی کہ کچھ لوگ آپ کی شان اقدس میں ہرزہ سرائی کرتے ہیں اور یوں کہتے ہیں (معاذاللہ) محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال تو اس درخت کی سی ہے جو گندگی میں اگا ہو۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوئے اور فرمایا: اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کو پیدا کیا، پھر ان میں دو جماعتیں بنائیں اور مجھے ان میں سے بہتر جماعت میں رکھا پھر ان کے قبیلے بنائے اور مجھے ان میں سب سے بہتر قبیلہ میں رکھا، پھر ان کے گھرانے بنائے اور مجھے ان سب میں سے بہتر گھرانے میں رکھا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں قبیلے کے لحاظ سے بھی تم سب سے بہتر ہوں اور گھرانے کے لحاظ سے بھی سب سے بہتر ہوں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5154]