المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
298. تَزْوِيجُ النَّبِيِّ نَوْفَلَ بْنَ الْحَارِثِ بِرَهْنِ دِرْعِهِ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنی زرہ گروی رکھ کر سیدنا نوفل بن حارث رضی اللہ عنہ کا نکاح کرانا
حدیث نمبر: 5151
حدثني أبو أحمد بن شعيب العَدْل، حدثنا أسَدُ بن نُوح، حدثنا هشام بن يحيى، حدثني محمد بن سعد، أخبرنا علي بن عيسى النَّوفَلي، قال: لما أُسر نَوفَلُ بن الحارث ببدرٍ قال له رسولُ الله ﷺ:"افْدِ نفسَك يا نَوفَل"، قال: ما لي شيءٌ أَفْدِي به يا رسول الله، قال:"افْدِ نفسَك برِماحِك التي بجُدَّةَ"، قال: أشهدُ أنك رسولُ الله (1) ، ففَدَى نفسَه بها، وكانت ألفَ رُمْحٍ، قال: وآخى رسولُ الله ﷺ بين نَوفلٍ والعباسِ بن عبد المُطّلب، وكانا قبل ذلك شَرِيكَين في الجاهلية مُتفاوِضَين في المالَين مُتحابَّين، وشهدَ نوفلٌ مع رسولِ الله ﷺ فتحَ مكةَ وحُنينَ (2) والطائفَ، وثبت يوم حُنين مع رسول الله ﷺ، فقال رسولُ الله ﷺ:"كأني أنظُرُ إلى رِماحِك تَقْصِفُ في أصلابِ المُشرِكين" (3) .
سیدنا علی بن عیسیٰ نوفلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا نوفل بن حارث رضی اللہ عنہ کو جنگ بدر کے موقع پر جب قید کیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: تم اپنا فدیہ ادا کرو۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس فدیہ میں دینے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے۔ آپ علیہ نے فرمایا تم اپنی جان کے فدیہ میں وہ نیزے پیش کر دو جن کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ انہوں نے کہا: یہ بات تو اللہ کے بعد میرے سوا کوئی جانتا ہی نہیں تھا کہ میرے پاس اتنی بڑی تعداد میں نیزے موجود ہیں۔ (ان پر اسلام کی حقانیت آشکار ہو گئی اور انہوں نے کہا) میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں۔ تو انہوں نے اپنی جان کے فدیے میں وہ نیزے دیئے اور ان کی تعداد ایک ہزار تھی۔ (راوی) کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا نوفل رضی اللہ عنہ اور سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کو بھائی بھائی بنایا تھا اور یہ زمانہ جاہلیت میں ایک دوسرے کے ساتھ بہت محبت کرتے تھے اور دونوں نے شراکت پر کاروبار بھی کر رکھا تھا۔ سیدنا نوفل بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ فتح مکہ، جنگ حنین، اور جنگ طائف میں شرکت کی۔ جنگ حنین کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گویا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ تیرا نیزہ مشرکوں کی پیٹھوں کو تو توڑ رہا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5151]
حدیث نمبر: 5152
أخبرنا أبو جعفر البغدادي، حدثنا يحيى بن عثمان بن صالح، حدثنا حَسّان بن عبد الله، حدثنا ابن لَهِيعة، حدثنا يونس بن يزيد، حدثنا ابن (4) إسحاق، عن سعيد بن الحارث، عن جدِّه نوفل بن الحارث بن عبد المطّلب: أنه استعانَ رسولَ الله ﷺ في التَّزويج، فأنكَحَه امرأةً، فالتمَسَ شيئًا فلم يَجِدْه، فبعثَ رسولُ الله ﷺ أبا رافع وأبا أيوب بدِرْعِه فرَهَنَاهُ عند رجلٍ من اليهود بثلاثين صاعًا من شَعير، فدفَعَه رسولُ الله ﷺ، فَطَعِمْنا منه نِصفَ سنةٍ، ثم كِلْناهُ فَوَجدْناهُ كما أدخَلْناه، قال نَوفلٌ: فذكرتُ لرسولِ الله ﷺ، فقال:"لو لم تَكِلْهُ لأكَلْتَ منه ما عِشْتَ" (1) . وأما رَبيعةُ وعُبيدةُ بن الحارث بن عبد المطّلب والطُّفيلُ بن الحارث بن عبد المطّلب وحُصينُ بن الحارث، فإنهم قُتِلوا بين يدي رسول الله ﷺ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5075 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5075 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا سعید بن حارث اپنے دادا سیدنا نوفل بن حارث رضی اللہ عنہ کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی شادی کے بارے میں مدد مانگی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خاتون کے ساتھ ان کی شادی کروا دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے کچھ تلاش کیا لیکن اس وقت گھر میں کچھ بھی نہ تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ کو اپنی زرہ دے کر ایک یہودی کے پاس بھیجا اور اس کے پاس یہ زرہ گروی رکھ کر تیس صاع جو لے کر آئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جو مجھے عطا فرما دیئے، ہم چھ ماہ تک ان میں سے نکال نکال کر کھاتے رہے، پھر ایک مرتبہ ہم نے ان کو ماپ لیا تو یہ ابھی تک اتنے ہی تھے جتنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں ڈالے تھے (یعنی ابھی تک پورے تیس صاع موجود تھے) سیدنا نوفل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے اس بات کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم ان کو نہ ماپتے تو ساری زندگی کھاتے رہتے لیکن یہ ختم نہ ہوتے۔ اور ربیعہ بن حارث اور عبیدہ بن حارث جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مارے گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5152]