🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
299. قال النبى " أنا خيركم قبيلا وخيركم بيتا "
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان: میں تم سب میں نسب کے اعتبار سے بھی بہتر ہوں اور گھرانے کے اعتبار سے بھی بہتر ہوں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5153
أخبرنا بصِحّة ما ذكرتُه، أبو جعفر البغدادي، حدثنا أبو عُلَاثة، حدثنا أبي، حدثنا ابن لَهِيعة، حدثنا أبو الأسود، عن عُروة بن الزُّبَير، قال: كان فيمن شهد بدرًا مع رسول الله ﷺ من قريش والأنصار ثلاثُ مئةِ رجلٍ وثلاثةَ عشرَ رجلًا. قال: ومن بني عبد المُطّلب بن عبد مَنَافٍ عُبيدة والطُّفيل وحُصينٌ بنو الحارث بن عبد المطّلب (2) . وقد اختَلفوا في رَبيعة بن الحارث فقيل: إنه عاشَ بعد ذلك وأدرَكَ أيامَ عمر بن الخطاب، وروى عن رسول الله ﷺ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5076 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جنگ بدر میں شریک ہونے والے لوگوں میں قریش اور انصار میں سے کل تین سو تیرہ آدمی تھے۔ اور بنی عبدالمطلب بن عبد مناف میں سے حارث بن عبدالمطلب کے بیٹے سیدنا عبیدہ رضی اللہ عنہ، سیدنا طفیل رضی اللہ عنہ اور سیدنا حصین رضی اللہ عنہ ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ربیعہ بن حارث (اس دن شہید نہیں ہوئے تھے بلکہ وہ تو) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور خلافت تک زندہ رہے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث بھی روایت کی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5153]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5153 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) رجاله لا بأس بهم كما تقدم بيانه برقم (4378). أبو عُلَاثة: هو محمد بن عمرو بن خالد الحَرَّاني ثم المصري، وابن لَهِيعة: هو عبد الله، وأبو الأسود: هو محمد بن عبد الرحمن المعروف بيَتيم عروة. ووافق عروة بنَ الزبير على ذكر هؤلاء فيمن شهد بدرًا: الزهريُّ عند ابن أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (345). وذكرهم كذلك ابن إسحاق كما في "سيرة ابن هشام" 1/ 677 - 678.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کے راویوں میں "کوئی حرج نہیں" (لا بأس بھم) جیسا کہ نمبر (4378) کے تحت بیان ہو چکا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: (راویوں کا تعین): "ابو عُلاثہ" سے مراد "محمد بن عمرو بن خالد الحرانی" (پھر المصری) ہیں، "ابن لہیعہ" سے مراد عبداللہ ہیں، اور "ابو الاسود" سے مراد "محمد بن عبدالرحمن" ہیں جو "یتیم عروہ" کے نام سے مشہور ہیں۔ 🧩 متابعات و شواہد: غزوہ بدر میں شریک ہونے والوں میں ان ناموں کے ذکر پر عروہ بن زبیر کی موافقت زہری نے کی ہے [دیکھیں: ابن ابی عاصم کی "الآحاد والمثانی" (345)]۔ اور ابن اسحاق نے بھی ان کا ذکر کیا ہے [دیکھیں: "سیرت ابن ہشام" 1/ 677-678]۔
والواقديُّ في "مغازيه" 1/ 153.
📖 حوالہ / مصدر: نیز واقدی نے بھی اپنی کتاب "المغازی" [1/ 153] میں ان کا ذکر کیا ہے۔