🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

302. قِصَّةُ إِسْلَامِ خَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ وَمَصَائِبِهِ فِيهِ
سیدنا خالد بن سعید رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے اور اس راہ میں پیش آنے والی آزمائشوں کا واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5159
أخبرني أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حدثنا موسى بن زكريا، حدثنا خَليفة بن خَيّاط، قال: أمُّ خالد بن سعيد بن العاص لُبَينةُ المعروفةُ بأمّ خالد بنت خبّاب (2) بن عبد يالِيلَ بن ناشِبِ بن غِيَرَة بن سَعْد بن لَيث بن بَكْر بن عبد مَنَاة بن علي بن كِنانة بن خُزَيمة.
خلیفہ بن خیاط فرماتے ہیں: سیدنا سعید بن عاص کی والدہ جو کہ ام خالد کے نام سے مشہور ہیں، ان کا نام لبینہ بنت حباب بن عبدیالیل بن ناشب بن غیرۃ بن سعد بن لیث بن بکر بن عبدمناۃ بن علی بن کنانہ بن خزیمہ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5159]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5160
حدثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر، حدثني جعفر بن محمد بن خالد بن الزُّبير، عن محمد بن عبد الله بن عمرو بن عثمان، قال: كان إسلامُ خالدٍ قديمًا، وكان أولَ إخوتِه أسلَم قَبلُ، وكان بَدْءُ إسلامه أنه رأى في النوم أنه وُقِف به على شَفِير النار، فذكر من سَعَتِها ما اللهُ أعلمُ، ويَرى في النوم كأنَّ أباهُ يَدفَعُه فيها، ويرى رسولَ الله ﷺ آخِذًا بحَقْوَيهِ لا يَقَعْ، ففَزِع من نومِه، فقال: أحلِفُ بالله إنَّ هذه لَرُؤيا حَقٍّ، فلقيَ أبا بكر بن أبي قُحَافة، فذكر ذلك له، فقال أبو بكر: أُريدَ بك خيرٌ، هذا رسولُ الله ﷺ فاتَّبِعه، فإنك ستتَّبِعُه وتدخلُ معه في الإسلام، والإسلامُ يَحجُزُك أن تَدخُلَ فيها، وأبوك واقعٌ فيها، فلقي رسول الله ﷺ وهو بأجيادٍ، فقال: يا محمدُ، إلامَ تَدعُو؟ فقال:"أدعُو إلى الله وحدَه لا شَريكَ له، وأنَّ محمدًا عبدُه ورسولُه، وتَخلَعُ ما كنتَ عليه من عِبادة حَجَرٍ لا يُضُرُّ ولا يَنفَعُ، ولا يدري مَن عَبَدَه ممَّن لم يَعبُدْه" قال خالدٌ: فإني أشهدُ أن لا إله إلَّا الله، وأشهدُ أنك رسولُ الله، فسُرَّ رسولُ الله ﷺ بإسلامِه، وتَغيَّب خالد، وعَلِمَ أبوه بإسلامه، فأرسل في طلبه (1) مَن بَقيَ من ولَدِه ممَّن لم يُسلِمْ ورافعًا مولاه، فوجدوه، فأتَوْا به أباهُ أبا أُحَيحَة، فأنَّبَه وبَكَّتَه وضربه بصَرِيمةٍ في يدِه حتى كَسَرها على رأسِه، ثم قال: اتَّبعتَ محمدًا وأنت تَرى خِلافَه قومَه، وما جاء به من عَيبِ آلهَتِهم وعَيبِه مَن مضى من آبائهم، فقال خالدٌ: قد صَدَقَ واللهِ واتَّبعتُه، فغَضِبَ أبوه أبو أُحَيحَة ونالَ منه وشَتَمَه، ثم قال: اذهبْ يا لُكَعُ حيث شئتَ، والله لأمنَعنَّك القُوتَ، فقال خالدٌ: إن مَنَعتَني فإنَّ الله ﷿ يَرزُقُني ما أعِيشُ به، فأخرجَه، وقال لِبَنِيه: لا يُكلِّمُه أحدٌ منكم إلَّا صنعتُ به ما صنعتُ به، فانصرف خالدٌ إلى رسول الله ﷺ، فكان يُكرِمُه ويكونُ معه (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5082 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
محمد بن عبداللہ بن عمرو بن عثمان فرماتے ہیں: سیدنا سعید بہت پہلے پہل اسلام لے آئے تھے، یہ اپنے تمام بہن بھائیوں میں سے سب سے پہلے ایمان لائے تھے۔ ان کے اسلام لانے کا واقعہ یہ ہے کہ انہوں نے خواب میں دیکھا تھا کہ وہ دوزخ کے کنارے پر کھڑے ہیں اور ان کا باپ ان کو اس میں گرانے کی کوشش کر رہا ہے اور انہوں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو کمر بند سے پکڑے ہوئے ہیں کہ کہیں وہ دوزخ میں گر نہ جائے۔ وہ اس خواب سے خوفزدہ ہو کر گھبرا کر اٹھ گئے۔ انہوں نے کہا: میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ خواب سچا ہے، پھر ان کی ملاقات سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہوئی، تو انہوں نے اپنی خواب کا ذکر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سامنے کیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ کے بارے میں بھلائی کا ہی ارادہ رکھتا ہوں۔ یہ رہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم ان کی پیروی کر لو، کیونکہ عنقریب تم ان کی پیروی کرو گے اور ان کے ساتھ اسلام میں داخل ہو گا اور اسلام تجھے دوزخ میں داخل ہونے سے بچائے گا اور تیرا باپ اس میں گر چکا ہے۔ تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم اجیاد میں تھے، انہوں نے پوچھا: اے محمد! آپ کس چیز کی دعوت دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اس بات کی دعوت دیتا ہوں کہ اللہ وحدہ لا شریک ہے اور بے شک محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اور اب تک تم جن پتھروں کی عبادت کرتے رہے ہو جو تمہیں نہ کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں (اگر تم ان کی عبادت کرو) اور نہ تمہیں کوئی نقصان دے سکتے ہیں (اگر تم ان کی عبادت سے انکار کرو) جو اپنے عبادت گزاروں اور اپنے منکروں کی پہچان نہیں رکھتے، تم ان کی عبادت چھوڑ دو۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے کہا: تو میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں۔ (ان کے والد کو ان کے اسلام قبول کرنے کا پتا چل گیا) ان کے باپ نے اپنے غیر مسلم بیٹوں کو اور اپنے آزاد کردہ غلام رافع کو انہیں ڈھونڈنے کے لئے بھیجا، ان لوگوں کو وہ مل گئے، انہوں نے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کو ان کے باپ ابواحیحہ کے پاس پیش کر دیا، اس نے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کو بہت ڈانٹا اور جھڑکا اور ان کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی اس کے ساتھ ان کو بہت مارا حتی کہ ان کے سر پر مار مار کر یہ چھڑی توڑ ڈالی اور کہنے لگا: تو نے محمد کی پیروی کر لی؟ حالانکہ تو دیکھ رہا ہے کہ وہ اپنی قوم کا مخالف ہے، ان کے معبودوں کی توہین کرتا ہے، اپنے آباء و اجداد کو برا کہتا ہے۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے کہا: خدا کی قسم! وہ سچ کہتے ہیں، اور ہاں میں نے واقعی ان کی پیروی کر لی ہے۔ اس پر ابواحیحہ بہت غضبناک ہوا اور ان کو گالیاں بکنے لگا، پھر اس نے کہا: اے کمینے انسان تیرا جہاں دل چاہتا ہے دفع ہو جا، خدا کی قسم! میں تیرا کھانا پینا بند کر دوں گا۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تو میرا رزق روک لے گا تو کوئی بات نہیں بے شک اللہ تعالیٰ زندگی بھر مجھے رزق دے گا۔ یہ کہہ کر ان کے باپ نے ان کو گھر سے نکال دیا اور ساتھ ہی اپنے دوسرے بیٹوں سے کہا: اگر کسی نے اس کے ساتھ کوئی تعلق رکھا تو میں اس کے ساتھ بھی وہی حشر کروں گا جو اس کے ساتھ کیا ہے۔ تو سیدنا خالد رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں چلے آئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی بہت عزت و تکریم کیا کرتے تھے۔ اس کے بعد سیدنا خالد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہنے لگ گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5160]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں