المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
318. ذِكْرُ وَفَاةِ أَبِي سُفْيَانَ
سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی وفات کا بیان
حدیث نمبر: 5195
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدثنا مُصعَب بن عبد الله بن الزُّبَير، قال: وممَّن صَحِبَ رسولَ الله ﷺ من ولد الحارث بن عبد المُطّلب أبو سفيان بن الحارث بن عبد المُطّلب، وقال له رسول الله ﷺ:"مِن خَيرِ أهلي" أو"إنه خيرُ أهلي". وقال رسول الله ﷺ:"إنه سيّدُ فِتْيان أهلِ الجنة". وصَبَرَ مع رسولِ الله ﷺ يوم حُنين، فأبصَرَه رسولُ الله ﷺ في عَمَايةِ الصبح، فقال:"مَن هذا؟" قال: ابن أمِّك يا رسولَ الله. حَلَقَه الحلَّاق فقَطَع ثُؤلولًا من رأسِه فلم يَرْقأْ (3) عنه الدمُ حتى ماتَ، وذلك في سنة عشرين، وصلَّى عليه عمرُ بن الخطاب ﵁. وكان تَلقَّى رسولَ الله ﷺ ببعضِ الطريق ورسولُ الله ﷺ خارجٌ إلى مكةَ للفَتْح، فأسلمَ قبلَ الفَتح (4) .
سیدنا مصعب بن عبداللہ بن زبیر فرماتے ہیں: حارث بن عبدالمطلب کی اولادوں میں سے جو لوگ صحابی رسول ہوئے ان میں سے ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا: یہ میرے اچھے رشتہ دار ہیں۔ اور یہ بھی فرمایا کہ یہ جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔ اور جنگ حنین کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ثابت قدم رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو منہ اندھیرے دیکھا اور پوچھا: یہ کون ہے؟ تو جواب ملا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ آپ کی ماں کا بیٹا ہے۔ اور یہ بھی کہ حلاق (سر مونڈنے والے) نے ان کا سر مونڈا تو ان کے سر کی ایک ابھری ہوئی رگ کٹ گئی، جس سے خون بہنا شروع ہو گیا حتی کہ ان کا انتقال ہو گیا۔ یہ 20 ویں ہجری کی بات ہے۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب فتح مکہ کے لئے مکہ کی جانب آ رہے تھے اس وقت ابوسفیان نے مکہ سے باہر نکل کر راستے میں ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی اور فتح مکہ سے پہلے ہی اسلام لے آئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5195]
حدیث نمبر: 5196
أخبرني أبو الحُسين بن يعقوب الحافظ، أخبرنا محمد بن إسحاق، حدثني أبو يُونس، حدثنا إبراهيم بن المنذر، قال: أبو سفيان بن الحارث بن عبد المُطّلب اسمُه المُغيرة، توفي سنة عشرين، وصلَّى عليه عمرُ بن الخطاب (1) .
ابراہیم بن منذر فرماتے ہیں: ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کا نام مغیرہ تھا، 20 ہجری کو ان انتقال ہوا اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5196]
حدیث نمبر: 5197
أخبرني أبو العباس محمد بن أحمد المَحبُوبي بمَرُو، حدثنا أحمد بن سَيَّار، حدثنا عبد الله بن عثمان بن جَبَلة، حدثني أبي، أخبرنا شُعبة، عن سِماك بن حرب، قال: كنا مع مُدرِك بن المُهلَّب بسِجِستانَ في سُرادِقِه، فسمعتُ شيخًا يُحدِّث عن أبي سفيان بن الحارث بن عبد المُطَّلب، عن النبي ﷺ قال:"إنَّ الله لا يُقدِّسُ أمةً لا يأخُذُ الضعيفُ حقَّه من القويِّ وهو غيرُ مُتَعْتَعٍ" (2) . فإذا الشيخُ الذي لم يُسمِّه عثمان بن جَبَلة عن شعبة عن سماك، قد سمّاهُ عُندَرٌ، غيرَ أنه لم يَذكُر أبا سفيان في الإسناد.
سماک بن حرب فرماتے ہیں: ہم مدرک بن مہلب کے ہمراہ ایک خیمے میں تھے۔ میں نے ” ایک بزرگ کو سیدنا ابوسفیان کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بیان کرتے ہوئے سنا ہے “ اللہ تعالیٰ اس قوم پر کبھی رحم نہیں فرماتا جس کے ضعیف، طاقتوروں سے سخت کلامی کئے بغیر اپنا حق وصول نہیں کرتے۔ مذکورہ سند میں جس محدث کا نام نہیں لیا گیا وہ عثمان بن جبلہ ہیں انہوں نے شعبہ سے، انہوں نے سماک سے روایت کیا ہے۔ غندر نے اپنی سند میں ان کا نام ذکر کیا ہے لیکن انہوں نے اسناد میں ابوسفیان کا نام نہیں لیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5197]