🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
317. لَا يَتَرَحَّمُ اللَّهُ عَلَى أُمَّةٍ لَا يَأْخُذُ الضَّعِيفُ مِنْهُمْ حَقَّهُ مِنَ الْقَوِيِّ
اللہ تعالیٰ اس امت پر رحم نہیں فرماتا جو اپنے کمزور کا حق طاقتور سے نہ دلوا سکے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5195
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدثنا مُصعَب بن عبد الله بن الزُّبَير، قال: وممَّن صَحِبَ رسولَ الله ﷺ من ولد الحارث بن عبد المُطّلب أبو سفيان بن الحارث بن عبد المُطّلب، وقال له رسول الله ﷺ:"مِن خَيرِ أهلي" أو"إنه خيرُ أهلي". وقال رسول الله ﷺ:"إنه سيّدُ فِتْيان أهلِ الجنة". وصَبَرَ مع رسولِ الله ﷺ يوم حُنين، فأبصَرَه رسولُ الله ﷺ في عَمَايةِ الصبح، فقال:"مَن هذا؟" قال: ابن أمِّك يا رسولَ الله. حَلَقَه الحلَّاق فقَطَع ثُؤلولًا من رأسِه فلم يَرْقأْ (3) عنه الدمُ حتى ماتَ، وذلك في سنة عشرين، وصلَّى عليه عمرُ بن الخطاب ﵁. وكان تَلقَّى رسولَ الله ﷺ ببعضِ الطريق ورسولُ الله ﷺ خارجٌ إلى مكةَ للفَتْح، فأسلمَ قبلَ الفَتح (4) .
مصعب بن عبداللہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ حارث بن عبدالمطلب کی اولاد میں سے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت پائی ان میں ابو سفیان بن حارث بن عبدالمطلب بھی شامل ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق فرمایا: یہ میرے گھر والوں میں سب سے بہتر ہے یا فرمایا: بیشک وہ میرے گھر والوں میں سے بہترین ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: بیشک وہ اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں، وہ غزوہ حنین کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (ثابت قدمی سے) ڈٹے رہے، تو صبح کے اندھیرے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا اور دریافت فرمایا: یہ کون ہے؟ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کی ماں کا بیٹا (یعنی آپ کا بھائی) ہوں، ایک حجام نے ان کے سر کی حجامت کی تو وہاں موجود ایک مسا (رسولی) کٹ گیا جس سے خون جاری ہو گیا اور وہ نہ رکا یہاں تک کہ ان کی وفات ہو گئی، یہ واقعہ سنہ 20 ہجری کا ہے اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی، وہ فتح مکہ کے لیے روانگی کے دوران راستے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے تھے اور فتح مکہ سے پہلے ہی اسلام لا چکے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5195]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 5195] [ترقيم الشركة 5150]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5195 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(4) كلُّ ما ذكره مصعب بن عبد الله الزُّبيري هنا له شواهد تقدَّمت عند المصنف قريبًا.
🧩 متابعات و شواہد: (4) مصعب بن عبداللہ الزبیری نے یہاں جو کچھ ذکر کیا ہے اس کے شواہد مصنف کے ہاں قریب ہی گزر چکے ہیں۔
(3) في نسخنا الخطية: يرق، بغير همز، والجادة همزُه.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (3) ہمارے قلمی نسخوں میں "یرق" (بغیر ہمزہ کے) لکھا ہے، جبکہ درست طریقہ ہمزہ کے ساتھ ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 5195 in Urdu