🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

325. كَانَ شِعَارُ بَنِي الْأَسَدِ يَا مَبْرُورُ
بنو اسد کا شعار یہ تھا: یا مبرور
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5213
أخبرني محمد بن القاسم بن عبد الرحمن العَتَكي، حدثنا الفضل ابن محمد، حدثنا إسحاق بن محمد الفَرْوي، حدثنا عبد الله بن جعفر المَخْرَمي (1) ، عن عبد الواحد بن أبي عَون الدَّوْسي، عن الطُّفيل بن عمرو، قال: قلنا: يا رسول الله، اجعلْنا مَيمَنتَك واجعل شعارَنا: يا مَبرُورُ، ففَعَل ﷺ، فشِعارُ الأزْدِ كلِّها إلى اليوم: مَبرُور (2) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، إن لم يكن مرسلًا. وقد أدركَ عمرُو بن الطُّفيل بن عَمرو رسولَ الله ﷺ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5132 - صحيح مرسل
سیدنا طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں (لشکر کا) دایاں بازو بنا دیں اور ہمارا شعار (جنگی نعرہ) «يَا مَبْرُورُ» اے نیکی پانے والے مقرر فرما دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا، چنانچہ آج تک تمام قبیلہ ازد کا شعار مبرور ہی ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے بشرطیکہ یہ مرسل نہ ہو۔ اور عمرو بن طفیل بن عمرو نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عہد پایا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5213]
تخریج الحدیث: «لا بأس برجاله، لكنه منقطع لأنَّ عبد الواحد بن أبي عون الدَّوْسي لم يدرك الطفيل بن عمرو.» [ترقيم الرساله 5213] [ترقيم الشركة 5168] [ترقيم العلميه 5132]

الحكم على الحديث: لا بأس برجاله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5214
حدثنا أبو عبد الله الأصبَهاني، حدثنا الحَسن، حدثنا الحُسين، حدثنا محمد بن عمر، قال: وعمرو بن الطُّفيل بن عَمرو بن طَرِيف بن العاص بن ثَعلبَة الأزديّ، وكان أبوه الطُّفيلُ بنُ عَمرو مع رسولِ الله ﷺ حتى قُبِض، فلما ارتدَّتِ العربُ خرجَ فجاهَدَ حتى فَرَغ المسلمون من طُلَيحة وأرضِ نَجْدٍ كلِّها، ثم سار مع المسلمين إلى اليمامة ومعه ابنُه عَمرو بن الطُّفيل، فخرج عَمرو بن الطفيل، فجُرح وقُطِعَت يدُه، ثم استَبلَّ وصحَّت يدُه، فبَينا هو عند عمر بن الخطاب إذ أُتي بطعام فتنحَّى عنه، فقال عُمر: ما لك تَنحَّيتَ، بمكانِ يَدِك؟ قال: أجل، قال: والله، لا أَذُوقُه حتى أُسْوِيَ بيدك فيه، فواللهِ ما في القومِ أحدٌ بعضُه في الجنة غَيرَك. ثم خرج عامَ اليرموكِ في عهد عُمر مع المسلمين، فقُتل شهيدًا (3) . ذكرُ سعْدٍ القارئِ ﵁ -
محمد بن عمر کہتے ہیں کہ عمرو بن طفیل کے والد طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے، پھر جب اہل عرب مرتد ہوئے تو وہ جہاد کے لیے نکلے یہاں تک کہ مسلمان طلیحہ (کذاب) اور تمام سرزمین نجد کے فتنے سے فارغ ہو گئے، پھر وہ مسلمانوں کے ساتھ یمامہ کی طرف بڑھے اور ان کے ہمراہ ان کے بیٹے عمرو بن طفیل بھی تھے، عمرو بن طفیل (میدانِ جنگ میں) نکلے تو زخمی ہوئے اور ان کا ہاتھ کٹ گیا، پھر وہ شفایاب ہوئے اور ان کا زخم ٹھیک ہو گیا، ایک بار وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے کہ کھانا لایا گیا تو وہ (اپنے کٹے ہوئے ہاتھ کی وجہ سے) کھانے سے ایک طرف ہٹ گئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہیں کیا ہوا جو تم ہٹ گئے، کیا اپنے ہاتھ کی وجہ سے؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں اس وقت تک کھانا نہیں چکھاوں گا جب تک تمہارے (کٹے ہوئے) ہاتھ کو اس میں شامل نہ کر لوں، اللہ کی قسم! اس پوری قوم میں تمہارے سوا کوئی ایسا نہیں ہے جس کا کوئی عضو (ہاتھ) تم سے پہلے جنت میں جا چکا ہو، پھر وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہد میں مسلمانوں کے ساتھ جنگ یرموک میں نکلے اور وہاں جامِ شہادت نوش کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5214]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 5214] [ترقيم الشركة 5169]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں