المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
335. كَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ أَهْتَمَ الثَّنَايَا
سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے اگلے دانتوں میں خلا تھا
حدیث نمبر: 5239
أخبرني علي بن المؤمَّل، حدثنا أبي، حدثنا عمرو بن محمد العُثماني، حدثنا عمرو بن خالد، حدثني محمد بن يوسف بن ثابت، عن سهل بن سعد، قال: قال أبو بكر الصِّديق لأبي عُبيدة لما وجَّهَه إلى الشام: إني أُحب أن تَعلَمَ كرامتَك علَيَّ ومنزلتَك مِنّي، والذي نفسي بيدِه ما على الأرضِ رجلٌ من المهاجرين ولا غيرِهم أعدِلُه بك، ولا هذا - يعني عُمرَ - وله من المنزلةِ عندي إلَّا دون ما لك (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5158 - سنده مظلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5158 - سنده مظلم
سیدنا سہل بن سعد فرماتے ہیں: جب سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ شام کی جانب روانہ ہوئے تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ تمہیں معلوم ہو جائے کہ میرے نزیک تمہارا مقام اور مرتبہ کیا ہے اور میں آپ کی کتنی عزت کرتا ہوں۔ اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ میں میری جان ہے، اس روئے زمین پر مہاجرین و انصار میں سے تم سے زیادہ عادل کوئی شخص نہیں ہے اور نہ ہی یہ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ) حالانکہ میں ان کی بھی عزت کرتا ہوں لیکن تم سے کم۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5239]
حدیث نمبر: 5240
أخبرنا أحمد بن محمد بن سَلَمة العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارِمي، حدثنا أبو سلمة موسى بن إسماعيل، حدثنا عبد الله بن المبارك، أخبرنا إسحاق بن يحيى بن طلحة، حدثني عيسى بن طلحة، عن عائشة، قالت: حدثَني أبو بكر، قال: كنتُ في أولِ مَن فاءَ يومَ أُحُدٍ وبين يَدَي رسولِ الله ﷺ رجلٌ يُقاتِل عنه، وأُراه قال: ويَحميهِ (2) ، قال: فقلت: كُن طَلحةَ حين فاتَني ما فاتَني، قال: وبيني وبين المَشرق رجلٌ لا أعرفُه، أنا أقربُ إلى رسولِ الله ﷺ منه، وهو يَخطِفُ السَّعِيَ خَطْفًا لا أَخطِفُه، فدَفَعْنا إلى رسول الله ﷺ جميعًا، فإذا أبو عبيدة بن الجرّاح، فقال لنا رسول الله ﷺ:"عليكم بصاحبِكم" يريد طلحةَ وقد نُزِفَ، فلم نَنظُر إليه، فأقبلْنا على رسول الله ﷺ فأرادني (3) أبو عبيدة وطلب إليَّ، فلم يَزَلْ حتى تركتُه، وكان على حَلْقَتِه قد نَشِبَت، وكَرِه أن يُزَعْزِعَها بيدِه فيشتكيَ (1) النبيُّ ﷺ، فأزَمَّ عليه بثَنيّتِه، ونَهَضَ ونَزَعها، وابتَدَرَتْ ثَنيَّتُه، فطلب إليّ ولم يَدَعْني حتى تركتُه، فأكَارَ (2) على الأخرى، فصنع مثلَ ذلك، ونَزَعَها وابتَدَرَت، فكان أبو عبيدة أهْتَمَ الثَّنَايا (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5159 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5159 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جنگ احد میں غنیمت جمع کرنے والوں میں، میں سب سے سرفہرست تھا، میں نے دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے آگے ایک آدمی تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کر رہا تھا۔ آپ فرماتے ہیں: میں نے کہا: تو طلحہ ہو جا، میرا جو بھی نقصان ہوا ہے۔ آپ فرماتے ہیں: میری مشرقی جانب ایک دوسرا آدمی تھا میں اس کو پہچانتا نہیں تھا لیکن میں اس کی بہ نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زیادہ قریب تھا، مگر وہ مجھ سے زیادہ تیز چلتا ہوا آ رہا تھا۔ جب قریب پہنچ کر دیکھا تو سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ تھے۔ ہم دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں جلدی سے حاضر ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دندان مبارک شہید ہو چکے تھے، چہرہ مبارک زخمی تھا اور خود کی کڑیاں آپ کے جبڑے میں دھنس گئی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے ساتھی کی خبر لو، آپ کی مراد سیدنا طلحہ تھے۔ ان کا خون بہہ چکا تھا، اس لئے کسی نے بھی ان کی جانب توجہ نہ کی، اور میں نے بھی وہی ارادہ کیا جو سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے ارادہ کیا تھا۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے طلب کیا، میں مسلسل ان کے ساتھ رہا (اور خود کی کڑیاں نکالنے کی کوشش کرتا رہا) حتی کہ میں نے (عاجز آ کر) ان کو چھوڑ دیا، کیونکہ خود کی کڑیاں (بہت بری طرح) چہرہ مبارک میں دھنس چکی تھیں اور میں ہاتھ سے کھینچ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف نہیں دینا چاہتا تھا۔ پھر سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے اپنے دانتوں سے پکڑ کر زور سے ہلایا اور کھینچا تو آپ کے اگلے دونوں دانت ہلنے لگ گئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر مجھے بلایا، میں آپ کے پاس رہا، اس بار بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نہیں چھوڑا بلکہ میں خود ہی وہاں سے ہٹا۔ انہوں نے پھر مجھے کمزور سمجھ کر دوبارہ اسی طرح دانتوں سے کڑیاں پکڑ کر ہلائیں اور کھینچی (اس طرح کڑیاں تو نکل آئیں مگر) سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے اگلے دونوں دانت ٹوٹ گئے۔ چنانچہ سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ ” اہتم الثنایا “ تھے (اہتم الثنایا اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کے سامنے کے دانت ٹوٹے ہوئے ہوں) ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہما کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5240]