المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
336. كَانَ نَقْشُ خَاتَمِ أَبِي عُبَيْدَةَ الْوَفَاءُ عَزِيزٌ
سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کی انگوٹھی پر یہ نقش تھا: وفاداری نایاب ہے
حدیث نمبر: 5242
حدثني أبو زُرعة الرازيّ، حدثنا عمرو بن إدريس الغَيْفي (1) بمصر، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن نُصير، حدثنا أبو يحيى الوَقّار، سمعتُ عبد الله بن وهب يقول: كان نقشُ خاتم أبي عبيدة بن الجرّاح: الوفاءُ عزيز (2) .
عبداللہ بن وہب سے روایت ہے کہ سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کی انگوٹھی کا نقش ”الوفاء عزیز“ (وفاداری نایاب ہے) تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5242]
تخریج الحدیث: «أبو يحيى الوَقَّار» [ترقيم الرساله 5242] [ترقيم الشركة 5197]
حدیث نمبر: 5243
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفّان العامري، حدثنا يحيى بن آدم، حدثنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن صِلةَ بن زُفَر، عن عبد الله بن مسعود، قال: جاء العاقِبُ والسَّيّد صاحبا نَجْرانَ إلى النبي ﷺ، يُريدان أن يُلاعِناهُ، فقال أحدُهما لصاحبِه: لا تَفعلْ، فو اللهِ لئن كان نبيًّا فلَعَنَنا لا نُفلِحُ (1) نحنُ ولا عَقِبُنا مِن بعدِنا، فقالا: بل نُعطِيك ما سألتَ، وابعثْ معنا رجلًا أمينًا حقَّ أمينٍ، قال: فاستشرفَ لها أصحابُ رسول الله ﷺ، فقال:"قُم يا أبا عُبيدةَ بن الجرَّاح"، فلما قَفَّى، قال رسول الله ﷺ:"هذا أَمينُ هذه الأُمّة" (2) . قد اتفق الشيخان على إخراج هذا الحديث مختصرًا في"الصحيحين" من حَديث الثَّوري وشعبة عن أبي إسحاقَ عن صِلَة بن زُفَر عن حذيفة، وقد خالفَهما إسرائيلُ فقال: عن صِلَة عن عبد الله، وساق الحديثَ أتمَّ (1) ممّا عند الثَّوري وشعبة، فأخرجتُه لأنه على شرطهما صحيحٌ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5162 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5162 - على شرط البخاري ومسلم
صلہ بن زفر، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نجران کے دو سردار عاقب اور سید نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مباہلہ کرنا چاہتے تھے، ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: ایسا نہ کرو، اللہ کی قسم! اگر یہ سچے نبی ہیں اور انہوں نے ہمیں بددعا دے دی تو نہ ہم کبھی فلاح پائیں گے اور نہ ہی ہمارے بعد ہماری اولاد، چنانچہ ان دونوں نے عرض کیا: (مباہلہ کے بجائے) ہم آپ کو وہ مال دے دیں گے جس کا آپ مطالبہ کریں گے، ہمارے ساتھ کسی ایسے شخص کو بھیجیں جو سچا امین ہو، راوی کہتے ہیں: یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اس سعادت کے حصول کی امید کرنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابو عبیدہ بن جراح! کھڑے ہو جاؤ“، پھر جب وہ روانہ ہونے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس امت کے امین ہیں“۔
شیخین نے اس حدیث کو حذیفہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے مختصر طور پر نقل کرنے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ اسرائیل نے ثوری اور شعبہ کی مخالفت کرتے ہوئے اسے صلہ کے واسطے سے ابن مسعود سے روایت کیا ہے اور اس کے الفاظ دیگر اسناد سے زیادہ مکمل ہیں، اس لیے میں نے اسے روایت کیا ہے کیونکہ یہ ان دونوں کی شرط پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5243]
شیخین نے اس حدیث کو حذیفہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے مختصر طور پر نقل کرنے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ اسرائیل نے ثوری اور شعبہ کی مخالفت کرتے ہوئے اسے صلہ کے واسطے سے ابن مسعود سے روایت کیا ہے اور اس کے الفاظ دیگر اسناد سے زیادہ مکمل ہیں، اس لیے میں نے اسے روایت کیا ہے کیونکہ یہ ان دونوں کی شرط پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5243]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وقد اختُلف فيه على إسرائيل - وهو ابن يونس بن أبي إسحاق عمرو بن عبد الله السَّبيعي - في تعيين صحابي الحديث، فبعضهم يذكر فيه عبد الله بن مسعود، وبعضهم يذكر فيه حذيفةَ بن اليمان، كما اختلف فيه كذلك على أبي إسحاق - وهو السَّبيعي جدّ إسرائيل - ...» [ترقيم الرساله 5243] [ترقيم الشركة 5198] [ترقيم العلميه 5162]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح