🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
335. كان أبو عبيدة أهتم الثنايا
سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے اگلے دانتوں میں خلا تھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5239
أخبرني علي بن المؤمَّل، حدثنا أبي، حدثنا عمرو بن محمد العُثماني، حدثنا عمرو بن خالد، حدثني محمد بن يوسف بن ثابت، عن سهل بن سعد، قال: قال أبو بكر الصِّديق لأبي عُبيدة لما وجَّهَه إلى الشام: إني أُحب أن تَعلَمَ كرامتَك علَيَّ ومنزلتَك مِنّي، والذي نفسي بيدِه ما على الأرضِ رجلٌ من المهاجرين ولا غيرِهم أعدِلُه بك، ولا هذا - يعني عُمرَ - وله من المنزلةِ عندي إلَّا دون ما لك (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5158 - سنده مظلم
سیدنا سہل بن سعد فرماتے ہیں: جب سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ شام کی جانب روانہ ہوئے تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ تمہیں معلوم ہو جائے کہ میرے نزیک تمہارا مقام اور مرتبہ کیا ہے اور میں آپ کی کتنی عزت کرتا ہوں۔ اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ میں میری جان ہے، اس روئے زمین پر مہاجرین و انصار میں سے تم سے زیادہ عادل کوئی شخص نہیں ہے اور نہ ہی یہ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ) حالانکہ میں ان کی بھی عزت کرتا ہوں لیکن تم سے کم۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5239]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5239 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف لجهالة محمد بن يوسف بن ثابت وعمرو بن خالد: وهو ابن عاصم بن عمرو بن عثمان، كما وقع مُسمًّى عند الخبر المتقدم برقم (5229)، وقال الذهبي في "تلخيصه": سنده مظلم.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند "ضعیف" ہے کیونکہ "محمد بن یوسف بن ثابت" مجہول ہے، اور "عمرو بن خالد" (جو ابن عاصم بن عمرو بن عثمان ہیں، جیسا کہ خبر 5229 میں نام آیا ہے) کا حال بھی واضح نہیں۔ ذہبی نے "التلخیص" میں کہا: "اس کی سند اندھیر (مظلم) ہے"۔