🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

337. أَبُو عُبَيْدَةَ أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ
سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ اس امت کے امین ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5243
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفّان العامري، حدثنا يحيى بن آدم، حدثنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن صِلةَ بن زُفَر، عن عبد الله بن مسعود، قال: جاء العاقِبُ والسَّيّد صاحبا نَجْرانَ إلى النبي ﷺ، يُريدان أن يُلاعِناهُ، فقال أحدُهما لصاحبِه: لا تَفعلْ، فو اللهِ لئن كان نبيًّا فلَعَنَنا لا نُفلِحُ (1) نحنُ ولا عَقِبُنا مِن بعدِنا، فقالا: بل نُعطِيك ما سألتَ، وابعثْ معنا رجلًا أمينًا حقَّ أمينٍ، قال: فاستشرفَ لها أصحابُ رسول الله ﷺ، فقال:"قُم يا أبا عُبيدةَ بن الجرَّاح"، فلما قَفَّى، قال رسول الله ﷺ:"هذا أَمينُ هذه الأُمّة" (2) . قد اتفق الشيخان على إخراج هذا الحديث مختصرًا في"الصحيحين" من حَديث الثَّوري وشعبة عن أبي إسحاقَ عن صِلَة بن زُفَر عن حذيفة، وقد خالفَهما إسرائيلُ فقال: عن صِلَة عن عبد الله، وساق الحديثَ أتمَّ (1) ممّا عند الثَّوري وشعبة، فأخرجتُه لأنه على شرطهما صحيحٌ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5162 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نجران کے سفیر عاقب اور سید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ملاعنہ کرنے کے ارادے سے آئے، ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اگر وہ واقعی نبی ہوا تو ہم ہزگز کامیاب نہیں ہو سکتے اور نہ ہی ہماری نسلیں کامیاب ہو سکتی ہیں۔ (وہ لوگ اپنی حرکت سے باز آ گئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ کر) کہنے لگے: آپ جو کچھ مانگیں ہم دینے کے لئے تیار ہیں آپ ہمارے ساتھ کوئی انتہائی امانتدار آدمی بھیج دیجئے، اس مقصد کے لئے بہت سارے صحابہ کرام کے دلوں میں خواہش تھی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کا انتخاب کیا۔ جب وہ جا رہے تھے تو پیچھے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اس امت کا امین ہے ۔ ٭٭ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو اپنی اپنی صحیح میں ثوری کے حوالے سے اور شعبہ نے ابواسحاق اور صلہ بن زفر کے واسطے سے سیدنا حذیفہ سے روایت کیا ہے۔ اور اسرائیل نے ان کی مخالف کی ہے انہوں نے اس کی سند یوں بیان کی ہے۔ عن صلۃ بن زفر عن عبداللہ پھر ثوری اور شعبہ سے بھی زیادہ کامل حدیث بیان کی۔ میں اس حدیث کو نقل کیا ہے کیونکہ یہ شیخین رحمۃ اللہ علیہما کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5243]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5244
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا سليمان بن حَرْب، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن ثابت، عن أنس: أنَّ أهل اليمن قَدِموا على رسول الله ﷺ فقالوا: ابعَثْ معنا رجلًا يُعلّمُنا القرآنَ، فأخذ بيدِ أبي عُبيدةَ فأرسله (2) معهم، وقال:"هذا أمينُ هذه الأُمّة" (3) . صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بذِكْر القُرآنِ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5163 - على شرط مسلم
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یمن کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے: ہمارے ساتھ کوئی ایسا شخص بھیج دیجئے جو ہمیں قرآن کریم کی تعلیم دے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور ان کے ہمراہ روانہ فرما دیا۔ اور فرمایا: یہ اس امت کا امین ہے ۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو قرآن کریم کے ذکر کے ساتھ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5244]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5245
أخبرنا أبو عمرو بن إسماعيل، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا زياد بن أيوب، حدثنا محمد بن فُضيل، حدثنا إسماعيل بن سُمَيع، عن مُسلم البَطين، عن أبي البَختَري، قال: قال أبو بكر الصِّدّيق لأبي عُبيدةَ: هلُمَّ (4) أُبايِعْك، فإني سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"إنك أَمِينُ هذه الأُمّة"، فقال أبو عُبيدة: كيف أُصلِّي بين يَدَي رجلٍ أمَرَه رسولُ الله ﷺ أن يَؤمَّنا حتى (1) قُبِضَ (2) . صحيحٌ الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5164 - منقطع
ابوالبختری کہتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا میں تمہاری بیعت کر لوں؟ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان اقدس سے سنا ہے کہ بے شک تم اس امت کے امین ہو تو سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس شخصیت کے آگے کھڑا ہو کر کیسے نماز پڑھا سکتا ہوں جس کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری وقت میں ہماری امامت کرانے کا حکم دیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5245]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5246
أخبرني محمد بن يعقوب المُقرئ، حدثنا محمد بن إسحاق بن إبراهيم، حدثنا قُتيبة بن سعيد، حدثنا كَثير بن هشام، حدثنا جعفر بن بُرْقَان، حدثنا ثابت بن الحجَّاج، قال: بلغَني أنَّ عُمر بن الخطاب قال: لو أدركتُ أبا عُبيدة بن الجَرّاح، لاستَخلفْتُه وما شاورتُه، فإن سُئِلتُ عنه قلتُ: استَخلفْتُ أمينَ الله وأمينَ رسوله الله ﷺ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5165 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ثابت بن حجاج کہتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر میں ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو پاؤں تو بغیر مشورہ کئے میں ان کو خلیفہ مقرر کر دوں، اور اگر مجھ سے اس بابت پوچھا جائے تو میں کہہ دوں گا کہ میں نے اللہ اور اس کے رسول کے امین کو خلیفہ مقرر کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5246]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5247
أخبرنا أبو بكر أحمد بن إسحاق، أخبرنا زياد بن الخليل، حدثنا سهل بن بَكّار، حدثنا عبد العزيز بن أبي حازم، عن سُهيل، عن أبيه، عن أبي هُريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"نِعمَ الرجلُ أبو بكر، نِعمَ الرجلُ عمرُ، نِعمَ الرجلُ أبو عُبيدة بن الجرَّاح، نِعمَ الرجلُ أُسَيدُ بن حُضَير، نِعمَ الرجلُ ثابتُ بنُ قَيس، نِعمَ الرجلُ مُعاذُ بن جَبَل، نِعمَ الرجلُ معاذُ بن عَمرو بن الجَمُوح" (1) . صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5166 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ابوبکر رضی اللہ عنہ کتنا اچھا آدمی ہے، عمر رضی اللہ عنہ کتنا اچھا آدمی ہے، ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کتنا اچھا آدمی ہے، اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کتنا اچھا آدمی ہے، ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کتنا اچھا آدمی ہے، معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کتنا اچھا آدمی ہے، معاذ بن عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ کتنا اچھا آدمی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5247]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں