🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

378. وَفَاةُ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ سَنَةَ عِشْرِينَ
سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کی وفات سن بیس ہجری میں ہوئی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5338
أخبرني أبو الحسن محمد بن أحمد الرئيس بمَرْو، حدثنا جعفر بن محمد بن الحارث، حدثنا عمّار بن الحسن، حدثنا سَلَمة بن الفضل، عن محمد بن إسحاق قال: وأُسيد بن حُضَير بن سِماك بن عَتِيك بن رافع بن امرِئ القيس بن زيد بن عبد الأشهَل، ويُكنى أبا يحيى، توفي سنة عشرين (1) .
محمد بن اسحاق نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے: اسید بن حضیر بن سماک بن عتیک بن رافع بن امرءی القیس بن زید بن عبدالاشہل۔ ان کی کنیت ابویحیی تھی اور ان کا وصال 20 ہجری میں ہوا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5338]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5339
أخبرنا الشيخ أبو بكر أحمد بن إسحاق، حدثنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا محمد بن عبد الله بن نُمير، قال: مات أبو يحيى أُسَيد بن حُضَير سنة عشرين، وكان قد شهد العَقَبة، ثم كان نَقيبًا، صلَّى عليه عمرُ بن الخطاب بالمدينة، ودُفن بالبقيع، وله كنيتان أبو يحيى وأبو حُصَين (2) ، وأبوه حُضَيرُ الكتائبِ (3) ، ولم يُعقِبْ أُسَيدٌ (4) .
محمد بن عبدالله بن نمیر فرماتے ہیں: ابویحیی ابواسید بن حضیر رضی اللہ عنہ 20 ہجری کو فوت ہوئے، آپ بیعت عقبہ میں شریک ہوئے پھر آپ مبلغ اسلام مقرر ہوئے، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ میں ان کی نماز جنازہ پڑھائی، ان کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔ ان کی دو کنیتیں ہیں۔ ابویحیی اور ابوحضیر۔ ان کے والد کاتب تھے۔ اور سیدنا اسید کا کوئی جانشین نہ تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5339]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5340
حدثنا أبو عبد الله الأصبَهاني، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر: وأُسَيد بن الحُضَير بن سِماك، يُكنى أبا يحيى، ويقال: أبو الحُصَين، ويقال: أبا بَحْر، وكان أُسَيد شريفًا في قومه في الجاهلية والإسلام، يُعدُّ من عُقلائهم وذَوي آرائهم، وكان من الكَمَلَة (1) ، وكان أبوه الحُضَيرُ الكتائبِ كذلك مِن قبله، وكان رئيسَ الأوس يوم بُعَاث، وقُتل حُضَير يومئذ. وأُسيد بن حُضَير أحدُ السبعين من الأنصار الذين بايَعُوا رسولَ الله ﷺ ليلةَ العَقَبة في رواية جميعِهم، وأحدُ النُّقباء الاثني عشرَ، وآخَى رسولُ الله ﷺ بين أُسَيد بن حُضَير وزيد بن حارثة، ولم يَشهَد أُسَيدٌ بدرًا، تَخلَّف هو وغيرُه من أكابر الصحابة من النُّقَباء وغيرهم عن بدر، لأنهم لم يظنُّوا أنَّ رسول الله ﷺ يَلقَى حَرْبًا ولا قتالًا، وشَهِدَ أُسَيدٌ أحدًا، وجُرح يومئذٍ سبع جراحاتٍ، وثَبَتَ مع رسول الله ﷺ حين انكَشَف الناسُ، وشَهِدَ الخندقَ والمشاهدَ كلَّها مع رسول الله ﷺ (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5258 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
محمد بن عمر فرماتے ہیں: اسید بن حضیر بن سماک رضی اللہ عنہ کی کنیت ابویحیی تھی۔ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ ان کی کنیت ابوحصین تھی۔ کچھ لوگوں نے کہا ہے کہ ابوبحر کنیت تھی۔ سیدنا اسید رضی اللہ عنہ زمانہ جاہلیت میں بھی اپنی قوم کے بہت معتبر شخصیت تھے، اور اسلام میں بھی۔ ان کا شمار عقلمند صاحب رائے لوگوں میں ہوتا ہے، آپ کاتبوں میں سے تھے۔ اسی طرح ان سے پہلے ان کے والد حضیر کاتب تھے۔ جنگ بعاث کے دن قبیلہ اوس کے سربراہ تھے۔ اسی دن حضیر کو قتل کیا گیا اور تمام محدثین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ ان ستر لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے عقبہ کی رات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی۔ اور آپ بارہ مبلغین میں سے بھی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو بھائی بھائی بنایا تھا۔ سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ جنگ بدر میں شریک نہیں ہوئے تھے، یہ اور دیگر اکابر مبلغین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم غزوہ بدر سے رہ گئے تھے کیونکہ ان کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنگ کریں گے۔ سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ جنگ احد میں شریک ہوئے تھے، اور اس دن ان کو سات رخم لگے تھے، اور جب لوگوں میں بھگدڑ مچ گئی تھی، اس وقت آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ثابت قدم رہے تھے۔ اور آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ خندق اور تمام غزوات میں شرکت کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5340]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5341
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا أسدُ بن موسى، حدثنا الليث، عن ابن شِهاب، عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك، عن أُسَيد بن حُضَير أنه كان يقرأ على ظَهْر بيتِه، وهو حَسنُ الصوتِ، قال: فبَيْنا أنا أقرأُ إذ غَشِيني شيءٌ كالسحاب، والمرأةُ في البيتِ والفرسُ في الدارِ، فتخوَّفتُ أن تُسقِطَ المرأةُ، فانصرفتُ، فقال النبيُّ ﷺ:"اقرَأْ، فإنما هو مَلَكٌ استمعَ القرآنَ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يخرجاه، لأنَّ سفيان بن عُيينة أرسلَه عن الزُّهْري (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5259 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اپنے گھر کی چھت پر قرآن کریم کی تلاوت کی کیا کرتے تھے، ان کی آواز بہت اچھی تھی، آپ فرماتے ہیں: ایک دن میں قرآن کی تلاوت کر رہا تھا کہ مجھے کسی بادل جیسی چیز نے ڈھانپ لیا، گھر میں عورت کو، اور حویلی میں گھوڑے کو بھی، مجھے یہ خدشہ ہوا کہ عورت (خوف زدہ ہو کر) گر پڑے گی تو میں نے تلاوت روک دی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم قرآن پڑھتے رہا کرو، کیونکہ وہ فرشتے ہیں جو تمہارا قرآن سننے آتے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ کیونکہ سفیان بن عیینہ نے اس اسناد میں زہری سے ارسال کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5341]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں