المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
378. وفاة أسيد بن حضير سنة عشرين
سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کی وفات سن بیس ہجری میں ہوئی
حدیث نمبر: 5340
حدثنا أبو عبد الله الأصبَهاني، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر: وأُسَيد بن الحُضَير بن سِماك، يُكنى أبا يحيى، ويقال: أبو الحُصَين، ويقال: أبا بَحْر، وكان أُسَيد شريفًا في قومه في الجاهلية والإسلام، يُعدُّ من عُقلائهم وذَوي آرائهم، وكان من الكَمَلَة (1) ، وكان أبوه الحُضَيرُ الكتائبِ كذلك مِن قبله، وكان رئيسَ الأوس يوم بُعَاث، وقُتل حُضَير يومئذ. وأُسيد بن حُضَير أحدُ السبعين من الأنصار الذين بايَعُوا رسولَ الله ﷺ ليلةَ العَقَبة في رواية جميعِهم، وأحدُ النُّقباء الاثني عشرَ، وآخَى رسولُ الله ﷺ بين أُسَيد بن حُضَير وزيد بن حارثة، ولم يَشهَد أُسَيدٌ بدرًا، تَخلَّف هو وغيرُه من أكابر الصحابة من النُّقَباء وغيرهم عن بدر، لأنهم لم يظنُّوا أنَّ رسول الله ﷺ يَلقَى حَرْبًا ولا قتالًا، وشَهِدَ أُسَيدٌ أحدًا، وجُرح يومئذٍ سبع جراحاتٍ، وثَبَتَ مع رسول الله ﷺ حين انكَشَف الناسُ، وشَهِدَ الخندقَ والمشاهدَ كلَّها مع رسول الله ﷺ (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5258 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5258 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
محمد بن عمر فرماتے ہیں: اسید بن حضیر بن سماک رضی اللہ عنہ کی کنیت ابویحیی تھی۔ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ ان کی کنیت ابوحصین تھی۔ کچھ لوگوں نے کہا ہے کہ ابوبحر کنیت تھی۔ سیدنا اسید رضی اللہ عنہ زمانہ جاہلیت میں بھی اپنی قوم کے بہت معتبر شخصیت تھے، اور اسلام میں بھی۔ ان کا شمار عقلمند صاحب رائے لوگوں میں ہوتا ہے، آپ کاتبوں میں سے تھے۔ اسی طرح ان سے پہلے ان کے والد حضیر کاتب تھے۔ جنگ بعاث کے دن قبیلہ اوس کے سربراہ تھے۔ اسی دن حضیر کو قتل کیا گیا اور تمام محدثین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ ان ستر لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے عقبہ کی رات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی۔ اور آپ بارہ مبلغین میں سے بھی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو بھائی بھائی بنایا تھا۔ سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ جنگ بدر میں شریک نہیں ہوئے تھے، یہ اور دیگر اکابر مبلغین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم غزوہ بدر سے رہ گئے تھے کیونکہ ان کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنگ کریں گے۔ سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ جنگ احد میں شریک ہوئے تھے، اور اس دن ان کو سات رخم لگے تھے، اور جب لوگوں میں بھگدڑ مچ گئی تھی، اس وقت آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ثابت قدم رہے تھے۔ اور آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ خندق اور تمام غزوات میں شرکت کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5340]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5340 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في المطبوع: الكتبة، بدل الكملة، وهو تحريف، وإن كان حُضير ممّن يعلم الكتابة، وقال ابن سعد في "الطبقات" 3/ 558: كان أُسَيد يكتب العربية في الجاهلية، وكانت الكتابة في العرب قليلًا، وكان يُحسِن العَومَ والرمي، وكان يُسمَّى مَن كانت هذه الخِصال فيه في الجاهلية الكامل، وكانت قد اجتمعت في أُسَيد.
📝 نوٹ / توضیح: (1) مطبوعہ نسخے میں "الکملہ" کی بجائے "الکتبہ" ہے، جو کہ تحریف ہے، اگرچہ حُضیر لکھنا جانتے تھے۔ ابن سعد نے "الطبقات" (3/ 558) میں کہا: "اُسید جاہلیت میں عربی لکھنا جانتے تھے، اور عربوں میں لکھنا کم تھا۔ وہ تیراکی اور تیر اندازی میں بھی ماہر تھے۔ جاہلیت میں جس شخص میں یہ خوبیاں جمع ہوتیں اسے ’الکامل‘ کہا جاتا تھا، اور یہ سب اُسید میں جمع تھیں۔"
(2) انظر الطبقات الكبرى لابن سعد 3/ 559.
📖 حوالہ / مصدر: (2) دیکھیں: ابن سعد کی "الطبقات الکبریٰ" (3/ 559)۔
وقد وافق الواقديَّ على عدم شهود أُسَيد بدرًا محمدُ بنُ إسحاق كما في "سيرة ابن هشام" 1/ 454 - 455. لكن ذكر ابن عبد البر في "الاستيعاب" ص 45 أنَّ غير محمد بن إسحاق يقول: إنه شهد بدرًا. قلنا: جزم ابن السَّكن فيما نقله عنه الحافظ ابن حجر في "الإصابة" 1/ 83 بشهوده بدرًا، وأثبت ذلك أيضًا خليفةُ بنُ خياط عند ابن عساكر 9/ 78، وجماعةٌ آخرون رواه عنهم الواقدي عند ابن عساكر 9/ 95 - 96، وأثبته الدارقطني كذلك في "المؤتلف والمختلف" 2/ 554، وغيرهم، فالله تعالى أعلم، وأنكر ابن عساكر 9/ 77 شهوده بدرًا بخبرٍ ذكره لا يُعتمَد على مثله.
🔍 فنی نکتہ / علّت: واقدی کی اس بات پر کہ اُسید بدر میں شریک نہیں ہوئے، محمد بن اسحاق نے موافقت کی ہے (دیکھیں: سیرت ابن ہشام 1/ 454-455)۔ لیکن ابن عبد البر نے "الاستیعاب" (ص 45) میں ذکر کیا ہے کہ محمد بن اسحاق کے علاوہ دوسرے کہتے ہیں کہ وہ بدر میں شریک ہوئے۔ ہم (محقق) کہتے ہیں: ابن السکن نے (بحوالہ الاصابہ، ابن حجر 1/ 83) ان کی شرکتِ بدر پر یقین (جزم) کیا ہے۔ خلیفہ بن خیاط (بحوالہ ابن عساکر 9/ 78) اور ایک جماعت (جن سے واقدی نے روایت کیا، بحوالہ ابن عساکر 9/ 95-96) نے بھی اسے ثابت کیا ہے۔ دارقطنی نے بھی "المؤتلف والمختلف" (2/ 554) میں اسے ثابت کیا ہے۔ واللہ اعلم۔ ابن عساکر (9/ 77) نے ایک ایسی خبر کی بنیاد پر ان کی شرکت کا انکار کیا ہے جس پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔