المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
385. مَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ نَصِيحَةٌ لِذِي سُلْطَانٍ فَلَا يُكَلِّمُهُ بِهَا عَلَانِيَةً
جس کے پاس کسی حاکم کے لیے نصیحت ہو تو وہ اسے علانیہ نہ کہے
حدیث نمبر: 5350
أخبرني أحمد بن يعقوب، حدثنا موسى بن زكريا، حدثنا خَليفة بن خَيّاط، قال: مات عِياض بن غَنْم سنةَ عشرين (2) .
خلیفہ بن خیاط کہتے ہیں: سیدنا عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ کا انتقال 20 ہجری کو ہوا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5350]
حدیث نمبر: 5351
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله البغدادي - فيما انتَقى (3) عليه أبو علي الحافظ - حدثنا عمرو بن إسحاق بن إبراهيم بن العلاء بن زِبْريق (4) الحِمصي، حدثنا أبي، حدثنا عمرو بن الحارث، عن عبد الله بن سالم، عن الزُّبيدي، حدثنا الفُضَيل بن فَضَالة، يَردُّهُ إلى [ابن] (5) عائذ، يردُّه [ابن] عائذ إلى جُبير بن نُفَير: أنَّ عِياضَ بن غَنْم الأشْعَريَّ (6) وَقَعَ على صاحب دارا حين فُتِحت، فأتاهُ هشامُ بن حَكيم فأغْلَظَ له القولَ، ومَكَثَ هشام لياليَ، فأتاه هشامٌ معتذرًا، فقال له هشامٌ: ألم تعلمْ أنَّ رسولَ الله ﷺ قال:"إنَّ أشدَّ الناسِ عذابًا يومَ القيامة أشدُّ الناس عذابًا للناس في الدنيا"؟ فقال له عياضٌ: يا هشامُ، إنا قد سمعنا الذي قد سمعتَ، ورأَينا الذي قد رأيتَ، وصَحِبنا مَن صحبتَ. ألم تسمع يا هشامُ رسولَ الله ﷺ يقولُ:"مَن كانت عنده نَصيحةٌ لذي سُلطانٍ، فلا يُكلِّمْه بها علانيةً، وليأخُذْ بيده وليَخْلُ به، فإن قَبِلَها قَبِلَها، وإلا كان قد أدّى الذي عليه والذي له"، وإنك يا هشامُ لأنتَ المُجتَرئُ أن تَجترئ على سُلطانِ الله، فهلّا خَشِيتَ أن يَقتُلك سلطانُ الله، فتكونَ قَتيلَ سُلطانِ الله (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5269 - ابن زريق واه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5269 - ابن زريق واه
سیدنا جبیر بن نفیر فرماتے ہیں: عیاض بن غنم اشری رضی اللہ عنہ نے ایک مالک مکان کو درے لگوائے۔ ہشام بن حکیم نے ان کے پاس آ کر ان کو بہت ڈانٹا۔ پھر کچھ دنوں کے بعد ہشام بن حکیم ان کے پاس آئے اور اپنے اس رویے پر معذرت کی۔ اور عياض سے کہا: کیا تم نہیں جانتے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: قیامت کے دن اس شخص کو سب سے سخت عذاب دیا جائے گا جو دنیا میں لوگوں کو تکلیف دیتا ہے۔ سیدنا عیاض رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے ہشام اس ذات سے ہم نے بھی حدیثیں سنی ہیں جس سے تم نے سنی ہیں، اور اس ہستی کو ہم نے بھی دیکھا ہے جس کو تم نے دیکھا ہے، اور اس محبوب کی صحبت سے ہم بھی فیضیاب ہیں جس کی صحبت تمہیں حاصل ہے۔ اے ہشام! کیا تم نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے نہیں سنا؟” جس کے پاس بادشاہ کے لئے کوئی نصیحت کی بات ہو تو وہ اس کو اعلانیہ طور پر نہ ٹوکے، بلکہ اس کو تنہائی میں بلا کر کہے۔ اگر وہ قبول کر لے تو ٹھیک ہے ورنہ تم اس سے بری الذمہ ہو چکے ہو۔ اور اے ہشام! تم نے بادشاہ وقت کے سامنے بڑی جرأت کی ہے تجھے اس بات کا خوف نہیں آیا کہ بادشاہ تجھے قتل کر ڈالے گا اور تو اس کے ہاتھوں قتل ہو جائے گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5351]