🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

384. تُوُفِّيَ عِيَاضُ بْنُ غَنْمٍ بِالشَّامِ سَنَةَ عِشْرِينَ 5318 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ سَلَمَةَ الْجَارُودِيُّ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِيُّ، عَنْ شُيُوخِهِ، أَنَّهُمْ قَالُوا: " عِيَاضُ بْنُ غَنْمِ بْنِ زُهَيْرِ بْنِ أَبِي شَدَّادِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ هِلَالِ بْنِ أُهَيْبَ بْنِ ضَبَّةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ فِهْرٍ " أَسْلَمَ قَبْلَ الْحُدَيْبِيَةِ وَشَهِدَ الْحُدَيْبِيَةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَتْ عِنْدَهُ أُمُّ الْحَكَمِ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ حَرْبٍ، فَلَمَّا حَضَرَتْ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ الْوَفَاةُ اسْتَخْلَفَ عِيَاضًا عَلَى مَا كَانَ يَلِيهِ، وَكَانَ عِيَاضٌ رَجُلًا صَالِحًا، فَلَمَّا نُعِيَ إِلَى عُمَرَ أَبُو عُبَيْدَةَ أَكْثَرَ الِاسْتِرْجَاعَ وَالتَّرَحُّمَ عَلَيْهِ وَقَالَ: لَا يَشُدُّ مَشَدَّكِ أَحَدٌ وَسَأَلَ مَنِ اسْتَخْلَفَ عَلَى عَمَلِهِ، فَقَالُوا: عِيَاضُ بْنُ غَنْمٍ فَأَقَرَّهُ وَكَتَبَ إِلَيْهِ: إِنِّي قَدْ وَلَّيْتُكَ مَا كَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ عَلَيْهِ، فَاعْمَلْ بِالَّذِي يَحِقُّ لِلَّهِ عَلَيْكَ، فَمَاتَ عِيَاضٌ يَوْمَ مَاتَ، وَمَا لَهُ مَالٌ وَلَا لِأَحَدٍ عَلَيْهِ دَيْنٌ، وَتُوُفِّيَ بِالشَّامِ سَنَةَ عِشْرِينَ وَهُوَ ابْنُ سِتِّينَ سَنَةً .
سیدنا عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ کی وفات شام میں سن بیس ہجری میں ہوئی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5348
حدثني أبو بكر بن بالَوَيهِ، حدثنا إبراهيم الحَرْبي، حدثنا مصعب بن عبد الله، قال: عِياضُ بن غَنْم بن زُهير، كان من أشرافِ قُريش، وذكره ابن قيس الرُّقيّات، فقال: وعِياضٌ مِنَا عِياضُ بن غَنْمٍ … عِصمةُ الدِّين حين حُبَّ الوَفاءُ (2) هو أول من أجاز الدَّرْبَ إلى الروم.
سیدنا مصعب بن عبداللہ فرماتے ہیں: عیاض بن غنم بن زہیر اشراف قریش میں سے تھے۔ اور ابن قیس رقیات نے ان کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے: عیاض، اور عیاض بن غنم کون تھے؟ یہ ان تمام لوگوں سے بہتر ہیں اور عورتوں سے پوشیدہ ہوئے ہیں۔ یہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے دلیری، جوانمردی اور ہمت کے ساتھ روم کی جانب پیش قدمی کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5348]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5349
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أبو بكر محمد بن النضر بن سَلَمة الجارُودي، حدثنا إبراهيم بن سعيد الجَوهَري، قال: حدثني محمد بن عمر الواقِديّ، عن شُيوخه، أنهم قالوا عِياض بن غَنْم بن زُهير بن أبي شَدّاد بن ربيعة بن هِلال بن أُهَيب بن ضَبّة بن الحارث بن فِهْر، أسلم قبل الحُدَيبِيَة، وشهدَ الحُدَيبِيةَ مع رسول الله ﷺ، وكانت عندَه أم الحَكَم بنت أبي سفيان بن حَرْب، فلما حَضَرَت أبا عُبيدةَ بن الجرّاح الوفاةُ استخلف عِياضًا على ما كان يليه، وكان عياضٌ رجلًا صالحًا، فلما نُعيَ إلى عمرَ أبو عُبيدةَ أكثر الاستِرجاعَ والترحُّم عليه، وقال: لا يَسُدُّ مَسدَّك أحدٌ، وسأل مَن استَخلَف على عَمَله، فقالوا: عِياض بن غَنْم، فأقرَّه وكتَبَ إليه: إني قد وَلَّيْتك ما كان أبو عُبيدة بن الجَرّاح يَلِيه، فاعمل بالذي يَحِقُّ الله عليك فمات عِياضٌ يومَ ماتَ وما له مالٌ ولا عليه دَينٌ لأحدٍ، وتوفي بالشام سنة عِشرين وهو ابن سِتّين سنة (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5267 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
محمد بن عمر واقدی نے اپنے شیوخ کے حوالے سے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے عیاض بن غنم بن زہیر بن ابی شداد بن ربیعہ بن ہلال بن اہیب ابن ضبہ بن حارث بن فہر آپ صلح حدیبیہ سے پہلے اسلام لائے، اور حدیبیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شرکت کی۔ سفیان بن حرب کی بیٹی ام حکم ان کے نکاح میں تھی۔ جب سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کا آخری وقت آیا تو انہوں نے سیدنا عیاض کو ان کی لیاقت اور قابلیت کی بنا پر اپنا جانشین مقرر کیا، سیدنا عیاض ایک نیک انسان تھے۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کی وفات کی اطلاع ملی تو آپ کثرت سے انا لله وانا الیہ راجعون پڑھنے لگے اور ان کے لئے دعائے رحمت کرنے لگے۔ اور فرمایا: (اے ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ) تیرے برابر کوئی نہیں ہو سکتا۔ پھر آپ نے پوچھا: ابوعبیدہ نے کس کو اپنا جانشین مقرر کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ عیاض بن غنم کو۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہی کو مستقل کر دیا اور ان کی جانب ایک مکتوب لکھا میں نے تجھے ان تمام امور کا والی بنا دیا ہے جن امور پر ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو مامور کیا گیا تھا۔ اس لئے آپ حقوق اللہ کا لحاظ کرتے ہوئے کام جاری رکھیں۔ جس دن سیدنا عياض رضی اللہ عنہ انتقال ہوا اس دن ان کے پاس کوئی مال و دولت اور کوئی جائیداد نہ تھی اور نہ ہی ان کے ذمے کسی کا کچھ دینا تھا۔ اور 20 ہجری کو 60 سال کی عمر میں شام میں ان کا انتقال ہو گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5349]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں