🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

389. ذِكْرُ شَهَادَةِ الْبَرَاءِ بْنِ مَالِكٍ
سیدنا براء بن مالک رضی اللہ عنہ کی شہادت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5355
أخبرني أبو نُعيم (2) محمد بن عيسى العَطّار بمَرُو، حدثنا عَبْدان بن محمد الحافظ، حدثنا إسحاق بن منصور، حدثنا عبد الرحمن بن مَغْراءَ، حدثنا محمد بن إسحاق، عن عبد الله بن أنس، قال: سمعتُ أنسَ بن مالك يقول: كان البراءُ بن مالك رجلًا حسنَ الصوتِ، فكان يَرجُز لرسولِ الله ﷺ في بعض أسفارِه، فبينما هو يَرجُزُ إذ قاربَ النساءَ، فقال له رسول الله ﷺ:"إياكَ والقَوارِيرَ" قال: فأمسَكَ. قال محمدٌ: كَرِه رسولُ الله ﷺ أن تَسمعَ النّساءُ صوتَه (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5273 - صحيح
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے: براء بن مالک سریلی آواز والا شخص ہے، ایک سفر میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے رجز پڑھ رہے تھے کہ کچھ عورتیں ان کے قریب جمع ہو گئیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شیشے کی بوتلوں کو بچاؤ۔ تو وہ چپ کر گئے۔ محمد کہتے ہیں: اس کی وجہ یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ پسند نہیں تھا کہ عورتیں ان کی آواز کو سنیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5355]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5356
أخبرني عبد الله بن محمد بن زياد العَدْل، حدثنا محمد بن إسحاق، قال: حدثني محمد بن عُزَيز الأَيلي إملاءً عليَّ، قال: حدثني سَلَامة بن رَوْح، عن عُقَيل بن خالد، عن ابن شِهاب، عن أنس بن مالك، قال: قال رسول الله ﷺ:"كم من ضعيفٍ مُتضَعَّفٍ ذي طِمْرَين، لو أقسمَ على الله لأبَرَّ قَسَمَه، منهم البراءُ بن مالك". وإنَّ البراء لقي زَحْفًا من المشركين، وقد أَوجَعَ المشركون في المسلمين، فقالوا: يا بَراءُ، إِنَّ رسول الله ﷺ قال:"إنك لو أقسمتَ على الله لأبَرَّك"، فأقسِمْ على ربِّك، فقال: أقسمتُ عليك يا ربِّ لَمَا مَنَحْتَنا أكتافَهم، ثم التَقَوا على قَنْطرة السُّوس، فأوجَعُوا في المسلمين، فقالوا له: يا بَراءُ، أقسِمْ على رَبِّك، فقال: أقسمتُ عليك يا ربِّ لَمَا مَنَحْتَنا أكتافَهم، وألحَقْتَني بنبيّي ﷺ، فمُنِحُوا أكتافَهم، وقُتل البراءُ شهيدًا (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5274 - صحيح
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بہت سارے ایسے لوگ جو اپنے آپ کو کمزور بنا کر پیش کرتے ہیں، پرانے، بوسیدہ خستہ حال کپڑے پہنے ہوتے ہیں (لیکن اللہ کی بارگاہ میں ان کا مقام یہ ہوتا ہے کہ) اگر وہ اللہ تعالیٰ پر کوئی قسم کھا لیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم کو پورا کرتا ہے۔ سیدنا براء بن مالک رضی اللہ عنہ بھی انہیں میں سے ہیں۔ کیونکہ سیدنا براء کی مشرکوں کی ایک جماعت سے مڈبھیڑ ہو گئی، جبکہ مشرکوں نے مسلمانوں میں بھگدڑ مچا رکھی تھی، لوگوں نے کہا: اے براء! بے شک رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر تم اللہ پر قسم کھا لو تو اللہ تعالیٰ تمہاری قسم کو پورا کرے گا۔ اس لئے تم اپنے رب پر قسم کھاؤ۔ انہوں نے کہا: اے میرے رب! میں تجھ پر قسم کھاتا ہوں، تو ہمیں فتح و نصرت سے ہمکنار فرما۔ پھر سوس کے پل پر ان کی مڈبھیڑ ہوئی، اس بار بھی انہوں نے مسلمانوں کو تکلیف پہنچائی، اور پھر سیدنا براء سے کہا: اے براء! اپنے رب پر قسم کھاؤ، انہوں نے پھر کہا: میں اپنے رب پر قسم کھاتا ہوں، اے میرے رب! ہمیں فتح و نصرت سے ہمکنار فرما اور تو مجھے اپنے نبی کے ساتھ ملا دے۔ چنانچہ مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی اور اسی جنگ میں سیدنا براء شہید ہو گئے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5356]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں