🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

407. ذِكْرُ مَكْتُوبِ حَاطِبٍ إِلَى كُفَّارِ قُرَيْشٍ
سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کے قریشِ مکہ کو لکھے گئے خط کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5393
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدَّثنا موسى بن هارون، حدَّثنا هاشم بن الحارث الحَرّاني، حدَّثنا عُبيد الله بن عَمرو الرَّقِّي، عن إسحاق بن راشد، عن الزُّهْري، عن عُروة بن الزُّبَير، عن عبد الرحمن بن حاطِب بن أبي بَلْتَعة أنه حدَّثَه: أنَّ أباه كَتَب إلى كُفَّار قُريش كتابًا، وهو مع رسول الله ﷺ قد شهِد بدرًا، فدعا رسولُ الله ﷺ عليًّا والزُّبَير، فقال:"انطَلِقا حتى تُدرِكا امرأةً معها كتابٌ فأتِياني به"، فانطَلَقا حتى أتَياها، فقالا: أعطِينا الكتابَ الذي مَعَك، وأخبَراها أنهما غيرُ مُنصَرفَين حتى يَنزِعا كلَّ ثَوبٍ عليها، فقالت: ألستُما رجلَين مُسلمين؟! قالا: بلى، ولكنَّ رسولَ الله ﷺ حدَّثنا أنَّ معكِ كتابًا، فلما أيقَنَتْ أنها غيرُ مُنفَلِتةٍ منهما حَلَّتِ الكتاب من رأسِها، فدفَعَته إليهما، فدعا رسولُ الله ﷺ حاطبًا، حتى قرأ عليه الكتاب، فقال:"أتعرِفُ هذا الكتابَ؟" قال: نعم، قال:"فما حمَلَك على ذلك؟" قال: كان هناك ولَدِي وذو قَرابتي، وكنت امرًا غَرِيبًا فيكم مَعشَرَ قُريش، فقال عمر: يا رسولَ الله، ائذَن لي في قَتْل حاطبٍ، فقال رسول الله ﷺ:"لا، إنه قد شهد بدرًا، وإنك لا تدري لعلَّ الله قد اطَّلع على أهل بدرٍ فقال: اعمَلوا ما شئتُم، فإني غافِرٌ لكم" (1) . ذكرُ مناقب أُبي بن كعب ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5309 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبد الرحمن بن حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے والد (سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ) نے کفارِ قریش کی طرف ایک خط لکھا جبکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ میں مقیم تھے اور وہ غزوہ بدر میں شریک ہو چکے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہما کو بلایا اور فرمایا: تم دونوں جاؤ یہاں تک کہ تم اس عورت کو جا لو جس کے پاس ایک خط ہے، پس وہ خط میرے پاس لے کر آؤ۔ چنانچہ وہ دونوں روانہ ہوئے اور اسے جا لیا، اور اس سے کہا: تمہارے پاس جو خط ہے وہ ہمیں دے دو، اور انہوں نے اسے واضح کر دیا کہ وہ اسے اس وقت تک نہیں چھوڑیں گے جب تک کہ تلاشی کے لیے اس کے تمام کپڑے نہ اتروا لیں، اس پر اس نے کہا: کیا تم دونوں مسلمان مرد نہیں ہو؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خبر دی ہے کہ تمہارے پاس ایک خط ہے، جب اسے یقین ہو گیا کہ وہ ان سے بچ کر نہیں نکل سکے گی تو اس نے اپنے سر کے بالوں کے جوڑے سے خط نکالا اور انہیں دے دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاطب کو بلایا اور ان کے سامنے وہ خط پڑھ کر سنایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم اس خط کو پہچانتے ہو؟ انہوں نے عرض کی: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: تمہیں اس عمل پر کس چیز نے ابھارا؟ انہوں نے عرض کی: وہاں میری اولاد اور قریبی رشتہ دار تھے جبکہ میں آپ قریشیوں میں ایک اجنبی شخص تھا، اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیں کہ میں حاطب کو قتل کر دوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نہیں، وہ غزوہ بدر میں شریک رہا ہے، اور تمہیں کیا معلوم شاید اللہ تعالیٰ نے اہلِ بدر کے احوال پر مطلع ہو کر فرما دیا ہو: تم جو چاہو عمل کرو، میں نے تمہیں بخش دیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5393]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكن عبد الرحمن بن حاطب بن أبي بلتعة لم يسمع من النبي ﷺ فأغلب الظن أنه تلقى خبر هذه القصة عن أبيه حاطب. وقد اختُلف في هذا الإسناد على عروة بن الزبير، فرواه معمر بن راشد، عن الزهري، عن عروة مرسلًا ليس فيه ذكر ...» [ترقيم الرساله 5393] [ترقيم الشركة 5347] [ترقيم العلميه 5309]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں