🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

408. ذِكْرُ مَنَاقِبِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
سیدنا اُبیّ بن کعب رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5393
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدَّثنا موسى بن هارون، حدَّثنا هاشم بن الحارث الحَرّاني، حدَّثنا عُبيد الله بن عَمرو الرَّقِّي، عن إسحاق بن راشد، عن الزُّهْري، عن عُروة بن الزُّبَير، عن عبد الرحمن بن حاطِب بن أبي بَلْتَعة أنه حدَّثَه: أنَّ أباه كَتَب إلى كُفَّار قُريش كتابًا، وهو مع رسول الله ﷺ قد شهِد بدرًا، فدعا رسولُ الله ﷺ عليًّا والزُّبَير، فقال:"انطَلِقا حتى تُدرِكا امرأةً معها كتابٌ فأتِياني به"، فانطَلَقا حتى أتَياها، فقالا: أعطِينا الكتابَ الذي مَعَك، وأخبَراها أنهما غيرُ مُنصَرفَين حتى يَنزِعا كلَّ ثَوبٍ عليها، فقالت: ألستُما رجلَين مُسلمين؟! قالا: بلى، ولكنَّ رسولَ الله ﷺ حدَّثنا أنَّ معكِ كتابًا، فلما أيقَنَتْ أنها غيرُ مُنفَلِتةٍ منهما حَلَّتِ الكتاب من رأسِها، فدفَعَته إليهما، فدعا رسولُ الله ﷺ حاطبًا، حتى قرأ عليه الكتاب، فقال:"أتعرِفُ هذا الكتابَ؟" قال: نعم، قال:"فما حمَلَك على ذلك؟" قال: كان هناك ولَدِي وذو قَرابتي، وكنت امرًا غَرِيبًا فيكم مَعشَرَ قُريش، فقال عمر: يا رسولَ الله، ائذَن لي في قَتْل حاطبٍ، فقال رسول الله ﷺ:"لا، إنه قد شهد بدرًا، وإنك لا تدري لعلَّ الله قد اطَّلع على أهل بدرٍ فقال: اعمَلوا ما شئتُم، فإني غافِرٌ لكم" (1) . ذكرُ مناقب أُبي بن كعب ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5309 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبدالرحمن بن حاطب ابن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ان کے والد جنگ بدر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک تھے، انہوں نے کفار قریش کی جانب ایک خط لکھا۔ حالانکہ اس وقت وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (چونکہ عطائے الٰہی سے غیب جانتے ہیں اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس خط کا پتا تھا اس لئے) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو بلا کر فرمایا: تم جاؤ، تمہیں فلاں مقام پر ایک عورت ملے گی، اس کے پاس ایک خط ہو گا تم وہ خط میرے پاس لاؤ، وہ دونوں (حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پا کر) چل دیئے، اور اس عورت تک جا پہنچے، اس سے خط مانگا، اور ساتھ یہ بھی واضح کر دیا کہ تجھ سے خط برآمد کرنے کے لئے اگر انہیں اس کے جسم کے تمام کپڑے بھی اتارنے پڑے تو وہ اس میں ذرا بھی تامل نہیں کریں گے۔ اس عورت نے کہا: کیا تم دونوں مسلمان نہیں ہو؟ انہوں نے کہا: بے شک ہم مسلمان ہیں لیکن ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بتا دیا ہے کہ تیرے پاس وہ خط ہے (اس لئے وہ خط لئے بغیر ہم یہاں سے واپس نہیں جائیں گے) جب اس کو یقین ہو گیا کہ ان لوگوں کو خط دیئے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے تو اس نے اپنے سر کے بالوں میں چھپا ہوا خط نکال کر ان کے حوالے کر دیا۔ (یہ خط لے کر وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور خط رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے کر دیا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حاطب کو بلا کر ان کا خط ان کے سامنے پڑھا اور فرمایا: کیا تم اس خط کو جانتے ہو؟ اس نے اقرار کر لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم نے یہ حرکت کیوں کی؟ انہوں نے کہا: مکہ میں میرے بچے اور قریبی رشتہ دار موجود ہیں اور قریشیوں کے اندر میں اجنبی تھا (اس لئے میں نے ان کو مطلع کر دیا تھا) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اجازت دیجئے، میں حاطب کو قتل کر دوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی اجازت نہیں دی اور فرمایا: یہ جنگ بدر میں شریک ہوئے ہیں، اور کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر پر خوش ہو کر فرمایا: تم جو چاہو کرو، میں نے تمہیں بخش دیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5393]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5394
أخبرنا أبو جعفر محمد بن أحمد بن عبد الله البغدادي، حدَّثنا أبو عُلَاثة، حدَّثنا أبي، حدَّثنا ابن لَهِيعة، عن أبي الأسود، عن عُرْوة بن الزُّبَير، قال: أُبي بن كعب بن قيس بن عُبيد بن زيد (1) بن معاوية بن عمرو بن مالك بن النَّجار، شهد بدرًا (2) .
سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ابی بن کعب بن قیس بن عبید بن زید بن معاویہ بن عمرو بن مالک بن نجار جنگ بدر میں شریک ہوئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5394]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں