المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
419. حِكَايَةُ عَوْدِ الرُّوحِ فِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ بَعْدَ نَزْعِهَا
سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی روح نکلنے کے بعد دوبارہ لوٹ آنے کا واقعہ
حدیث نمبر: 5424
أخبرني أحمد بن كامل القاضي، حدَّثنا محمد بن الهيثم القاضي، حدَّثنا أبو اليَمَان، قال: أخبرنا شعيب، عن الزُّهْري، حدثني إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف: أنه غُشِيَ على عبد الرحمن بن عوف في وَجَعِهِ غَشْيَةً، ظنوا أنها قد فاضت نفسُه فيها، حتى قاموا من عنده وجَلَّلُوه ثوبًا، وخرجتْ أُمُّ كلثوم بنت عُقبة امرأتُه إلى المسجد تَستعِين فيما أُمِرَ به من الصَّبر والصلاة، فلبِثُوا ساعةً وهو في غَشْيتِه، ثم أفاق، فكان أولُ ما تَكلَّم به أن كبَّر، فكبَّر أهلُ البيت ومن يَلِيهم، ثم قال لهم: غُشِيَ علَيَّ آنفًا؟ قالوا: نعم، فقال: صدقتُم، فقال: إنه انطلَقَ بي في غَشْيتي رجلان، أحدُهما فيه شدّةٌ وفَظَاظة، فقالا: انطلِق نُحاكِمُك إلى العزيز الأمين، فانطلقا بي حتى لقينا رجلًا فقال: أين تذهبان بهذا؟ فقالا: نحاكمُه إلى العزيز الأمين، فقال: ارجعاهُ، فإنه من الذين كَتَبَ الله لهم السعادةَ والمغفرةَ في بُطون أمهاتِهم، وأنه سيُمتَّعُ به بَنُوه إلى ما شاء الله. فعاش بعد ذلك شهرًا، ثم تُوفّي، وأقام الحجَّ فيها عثمان (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5341 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5341 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابراہیم بن عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ پر ان کی بیماری کے دوران بے ہوشی طاری ہو گئی، گھر والوں نے سمجھا کہ ان کی روح پرواز کر گئی ہے، یہاں تک کہ لوگ ان کے پاس سے اٹھ گئے اور انہیں کپڑے سے ڈھانپ دیا، ان کی اہلیہ سیدہ ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا مسجد کی طرف نکل گئیں تاکہ صبر اور نماز کے ذریعے اللہ سے مدد طلب کریں، وہ ایک گھڑی تک اسی بے ہوشی کی حالت میں رہے پھر جب انہیں افاقہ ہوا تو سب سے پہلے ان کی زبان سے تکبیر نکلی، پھر گھر والوں اور آس پاس کے لوگوں نے بھی تکبیر کہی، پھر آپ نے ان سے پوچھا: ”کیا ابھی مجھ پر بے ہوشی طاری ہوئی تھی؟“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں“، آپ نے فرمایا: ”تم نے سچ کہا، میری اس بے ہوشی کے دوران دو شخص میرے پاس آئے جن میں سے ایک بہت سخت اور درشت تھا، ان دونوں نے کہا: چلو ہم تمہارا مقدمہ اللہ عزیز و امین کی بارگاہ میں پیش کرتے ہیں، وہ مجھے لے کر چلے یہاں تک کہ ہماری ملاقات ایک اور شخص سے ہوئی جس نے پوچھا: تم اسے کہاں لے جا رہے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم اس کا مقدمہ اللہ عزیز و امین کے حضور لے جا رہے ہیں، تو اس شخص نے کہا: اسے واپس لے جاؤ کیونکہ یہ ان لوگوں میں سے ہے جن کے لیے اللہ نے ان کی ماؤں کے پیٹ ہی میں سعادت اور مغفرت لکھ دی تھی اور یہ ابھی ایک مدت تک اپنی اولاد کے ساتھ زندگی گزاریں گے۔“ چنانچہ وہ اس واقعے کے بعد ایک ماہ تک زندہ رہے پھر ان کی وفات ہوئی اور اسی سال سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے حج کی امامت فرمائی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5424]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو اليمان: هو الحكم بن نافع البَهْراني، وشعيب: هو ابن أبي حمزة.» [ترقيم الرساله 5424] [ترقيم الشركة 5379] [ترقيم العلميه 5341]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 5425
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، حدَّثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدَّثنا أبو ثابت، حدَّثنا يوسف بن يعقوب الماجِشُون، أخبرنا صالح بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف، عن عبد الرحمن بن عوف، قال: قال أُمية بن خَلَفَ: كاتِبْني باسمِك الذي كنتَ تُكاتِبُنيهِ: عبدِ عمرٍو (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5342 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5342 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (جاہلیت کے دور میں) امیہ بن خلف نے ان سے کہا تھا: ”تم مجھ سے اسی نام سے خط و کتابت کرو جس سے پہلے کیا کرتے تھے یعنی عبد عمرو۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5425]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات غير أن صالح بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف لم يدرك جدّه عبد الرحمن، بينهما في هذا الخبر أبوه إبراهيم. أبو ثابت: هو محمد بن عُبيد الله بن محمد الأموي المدني.» [ترقيم الرساله 5425] [ترقيم الشركة 5380] [ترقيم العلميه 5342]
الحكم على الحديث: خبر صحيح
حدیث نمبر: 5426
أخبرني أحمد بن سهل الفقيه ببُخارَى، حدَّثنا صالح بن محمد بن حبيب الحافظ، حدَّثنا علي بن الجَعْد، حدَّثنا إبراهيم بن سعد، عن أبيه، عن جده، قال: سمعت سعد بن مالك حين مات عبدُ الرحمن بن عوف يقول: واجَبَلاه (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5343 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5343 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ابراہیم بن سعد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی وفات پر یہ فرماتے ہوئے سنا: ”ہائے کتنا بڑا پہاڑ رخصت ہو گیا۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5426]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،إبراهيم بن سعد: هو ابن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف، وسعد بن مالك: هو ابن أبي وقاص.» [ترقيم الرساله 5426] [ترقيم الشركة 5381] [ترقيم العلميه 5343]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح