🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

447. إِخْبَارُ النَّبِيِّ الْعَبَّاسَ بِخُلَفَاءِ آلِ الْعَبَّاسِ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو بنی عباس کے خلفاء کی خبر دینا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5500
أخبرني أبو النَّضر محمد بن محمد بن يوسف، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا عَبد الله بن صالح، حدثني الليث بن سعد، عن إسحاق بن عبد الله بن أبي فَرْوة، عن أبَان بن صالح، عن علي بن عبد الله بن عباس، عن أبيه، عن عباس بن عبد المُطّلب، قال: كنتُ يومًا في المسجد فأقبل أبو جَهْل فقال: إِنَّ اللَّهِ عَلَيَّ إِن رأيتُ محمدًا ساجدًا أن أطأَ على رَقَبَتِه، فخرجتُ على رسول الله ﷺ حتى دخلتُ عليه، فأخبرتُه بقول أبي جَهْل، فخرج غَضْبانَ (2) حتى جاء المسجِد، فعَجَلَ أَن يَدخُلَ من الباب فاقتحَمَ الحائطَ، فقلت: هذا يومُ شَرٍّ فاتَّزَرْتُ ثم اتَّبَعْتُه، فدخلَ رسولُ الله ﷺ وهو يقرأ: ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ (1) خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ﴾، فلما بلغَ شأنَ أبي جَهْل: ﴿كَلَّا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَيَطْغَى (6) أَنْ رَآهُ اسْتَغْنَى﴾، قال إنسانٌ لأبي جهل: يا أبا الحَكَم، هذا محمد، فقال أبو جهل: ألا تَرَونَ ما أَرى، والله لقد سُدَّ أُفُقُ السماءِ عَليَّ، فلما بلغ رسول الله ﷺ آخرَ السورةِ سَجَدَ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5413 - فيه عبد الله بن صالح وليس بعمدة وإسحاق بن عبد الله بن أبي فروة وهو متروك
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں ایک دن مسجد میں بیٹھا ہوا تھا، ابوجہل آیا اور کہنے لگا: مجھے اللہ کی قسم ہے اگر میں نے محمد کو دیکھ لیا تو اس کی گردن لتاڑوں گا۔ میں فوراً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابوجہل کی بات بتائی۔ پھر ابوجہل غصے کے عالم میں مسجد میں آ گیا، وہ اتنی جلدی میں تھا کہ دروازے میں سے گزرنے کی بجائے دیوار پھاند کر اندر آیا، میں نے کہا: آج تو بڑی آزمائش کا دن ہے۔ میں بھی اس کے پیچھے پیچھے آ گیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ آیات پڑھتے ہوئے مسجد میں تشریف لائے: اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ (العلق: 1، 2) پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا آدمی کو خون کی پھٹک سے بنایا اور جب آپ ابوجہل کے متعلق نازل ہونے والی ان آیات پر پہنچے {كَلَّا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَيَطْغَى أَنْ رَآهُ اسْتَغْنَى} (العلق: 6۔ 7) ہاں ہاں بے شک آدمی سرکشی کرتا ہے اس پر کہ اپنے آپ کو غنی سمجھ لیا ایک آدمی نے ابوجہل کو کہا: اے ابوالحکم! یہ ہیں محمد رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم (اب کر لو جو کچھ دعوے کر رہا تھا) ابوجہل نے کہا: جو کچھ مجھے نظر آ رہا ہے کیا تم وہ سب نہیں دیکھ رہے ہو، خدا کی قسم! آسمان مجھ پر گرنے والا ہے۔ پھر جب رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم اس سورت کے آخر تک پہنچے تو سجدہ کیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5500]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں