المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
451. الْعَبَّاسُ أَجْوَدُ قُرَيْشٍ كَفًّا
سیدنا عباس رضی اللہ عنہ قریش میں سب سے زیادہ سخی تھے
حدیث نمبر: 5505
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، قال: أخبرنا ابن وهب، أخبرني يونس، عن الزُّهْري، حدثني كَثِير بن العباس بن عبد المُطّلب قال: قال العباسُ: شهدتُ مع رسول الله ﷺ يومَ حُنين، فلَزِمتُ أنا وأبو سفيان بن الحارث بن عبد المُطّلب رسول الله ﷺ، فلم نُفارقه، ورسولُ الله ﷺ على بغلةٍ له بيضاءَ أهداها له فَرُوةُ بن نُفَاثَة (1) الجُذَامِي، فلما التَقَى المسلمون والكفارُ وَلَّى المسلمون مُديرين، فطَفِقَ رسولُ الله ﷺ يَركُضُ بَعْلتَه قِبَلَ الكفار، قال العباس: وأنا آخذٌ بِلِجَام بغلةِ رسولِ الله ﷺ أكُفُّها إرادة أن لا تُسرع، وأبو سفيان آخِذٌ بركاب رسول الله ﷺ فقال رسول الله ﷺ:"أَيْ عباسُ، نادِ أصحابَ السَّمُرةِ"، قال: فواللهِ لَكَأنّما عَطْفتُهم حين ما سَمِعُوا صوتي عطفة البقَرِ على أولادها، فقالوا: يا لَبَّيْكَاهُ يا لَبَّيْكَاهُ. قال: فاقتَتَلُوا هم والكفارُ، والدعوةُ في الأنصار يقولون: يا معشرَ الأنصار، ثم قُصرت الدَّعوةُ على بني الحارث بن الخَزرج، فقالوا: يا بني الحارث بن الخزرج، يا بني الحارث بن الخزرج، فنظر رسولُ الله ﷺ وهو على بَغْلَتِه كالمُتطاول عليها إلى قتالهم، فقال رسول الله ﷺ:: هذا حينَ حَمِيَ الوَطِيسُ"، قال: ثم أخَذَ رسولُ الله ﷺ حَصَيَاتٍ فرمى بهنَّ في وجوه الكُفّار، ثم قال:"انهَزَمُوا وربِّ محمّدٍ"، فذهبتُ أنظُرُ، فإذا القتالُ على هَيْئَتِه فيما أَرَى، فما هو إلَّا أن رَمَاهم رسولُ الله ﷺ بحَصَياتِه، فما زِلتُ أَرى حَدَّهم كَلِيلًا، وأمرهم مُدبرًا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5418 - على أخرجه مسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5418 - على أخرجه مسلم
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں جنگ حنین کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، میں اور ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ مسلسل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دن اپنے بیضاء خچر پر سوار تھے، جو کہ فروہ بن نعامہ جذامی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ دیا تھا۔ جب مسلمانوں اور کافروں کی مڈبھیڑ ہوئی تو کچھ (کمزور اعصاب والے) مسلمان میدان چھوڑ کر بھاگ نکلے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان سخت حالات میں بھی) اپنے خچر کو کفار کی جانب ایڑھ لگائی۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خچر کی لگام میرے ہاتھ میں تھی اور میں جان بوجھ کر اس کو روکنے کی کوشش کر رہا تھا تاکہ وہ کفار کی صفوں میں جلدی نہ پہنچ سکے۔ اور ابوسفیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رکابیں تھامے ہوئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عباس! بیعت رضوان کے شرکاء کو بلاؤ، میں نے ان کو آواز دی، اللہ کی قسم! لگتا تھا کہ جب انہوں نے میری آواز سنی تو کسی چیز نے ان کا منہ پکڑ کر واپس دھکیل دیا ہو جیسے گائے اپنی بچھیا کو واپس لاتی ہے۔ انہوں نے میری آواز پر کہا: ہم حاضر ہیں، ہم حاضر ہیں۔ راوی کہتے ہیں پھر ان لوگوں نے خوب جم کر لڑائی کی۔ اور انصار کو ان لفظوں میں پکارا گیا تھا ”یا گروه انصار، اے گروہ انصار“ پھر یہ بلاوا صرف انصار تک محدود کر دیا گیا۔ ان کویوں پکارا گیا ”اے گروہ انصار، اے گروہ انصار“۔ پھر یہ دعوت صرف بنی حارث بن خزرج تک محدود ہو گئی اور انہوں نے اے بنی حارث بن خزرج، اے بنی حارث بن خزرج“ کہہ کر آوازیں دیں۔ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خچر پر سوار حالت میں سر اونچا کر کے ان کی لڑائی کا نظارا کیا تو فرمایا: یہ گھمسان کی جنگ کا وقت ہے۔ راوی کہتے ہیں: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ کنکریاں پکڑ کر کفار کے چہروں کی جانب پھینکیں پھر فرمایا: وہ شکست کھا گئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رب کی قسم! پھر میں جنگ کا منظر دیکھنے کے لئے گیا اس وقت میرے دیکھنے میں تو جنگ ابھی اپنی اسی صورت پر قائم تھی لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکریاں ان کی جانب پھینک دیں تو اس کے بعد وہ کمزور ہونا شروع ہو گئے اور بالآخر وہ لوگ میدان جنگ سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5505]
حدیث نمبر: 5506
حدثنا أبو بكر أحمد بن كامل القاضي، حدثنا محمد بن سعد العوفي، حدثنا يعقوب بن محمد الزُّهري، حدثنا محمد بن طلحة التَّيْمي، حدثنا أبو سُهيل (1) ابن مالك، عن سعيد بن المسيّب، عن سعد بن أبي وقّاص قال: كان رسولُ الله ﷺ يُجهِّز أو كان يَعرِضُ جيشًا بِنَقِيع (2) الخَيل، فاطّلع العباسُ بنُ عبد المُطلب، فقال رسول الله ﷺ:"هذا العباسُ عمُّ نبيِّكم، أجوَدُ قُريشٍ كَفًّا، وأحْناهُ عليها" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑوں کے اصطبل میں لشکر کی تیاری کروا رہے تھے کہ سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ وہاں آ گئے، تو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ عباس تمہارے نبی کے چچا ہیں، تمام قریش سے زیاد سخی ہیں اور ان پر سب سے زیادہ مہربان ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5506]