المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
457. مُحَاكَمَةُ الْعَبَّاسِ وَعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ إِلَى حُذَيْفَةَ
سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما کا سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس مقدمہ لے جانا
حدیث نمبر: 5516
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله البغدادي، حدثنا أبو القاسم عبيد الله (1) بن محمد بن سليمان بن إبراهيم الإسكندراني بمصر، حدثنا أبو يحيى الضرير زيد بن الحسن المِصري (2) ، حدثنا عبد الرحمن بن زيد بن أسلم، عن أبيه، عن جده، عن عمر بن الخطَّاب أنه قال للعباس بن عبد المطَّلِب: إني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"نَزِيدُ (3) في المسجد"، ودارُك قريبةٌ من المسجد، فأعطناها نَزِدْها في المسجد، وأقطعُ لك أوسعَ منها، قال: لا أفعلُ، قال: إذًا أغلِبَك عليها، قال: ليس ذاكَ لكَ، فاجعل بيني وبينك مَن يقضي بالحق، قال: ومَن هو؟ قال: حذيفةُ بنُ اليمان، قال: فجاؤوا إلى حذيفة فقَصُّوا عليه، فقال حذيفةُ: عندي في هذا خَبَرٌ، قال: وما ذاك؟ قال: إنَّ داودَ النبيَّ صلَواتُ الله عليه أراد أن يَزِيد في بيت المَقدِس، وقد كان بيتٌ قريبٌ من المسجد ليتيمٍ، فطَلَب إليه فأبى، فأراد داودُ أن يأخُذَها منه، فأوحى الله ﷿ إليه: إن أنْزَه البُيوتِ عن الظُّلم لَبَيتي، قال: فتركه، فقال له العباسُ: فبقي شيء؟ قال: لا. قال: فدخل المسجد، فإذا مِيزابٌ للعباس شارعٌ في مسجد رسول الله ﷺ يَسيلُ ماءُ المطر منه في مسجد رسول الله ﷺ، فقال عمرُ بيده فقلَعَ المِيزابُ، فقال: هذا الميزابُ لا يَسيلُ في مسجد رسول الله ﷺ، فقال له العباسُ: والذي بعث محمدًا بالحقِّ، إنه هو الذي وَضَعَ هذا المِيزابَ في هذا المكان، ونزعته أنتَ يا عمرُ، فقال عمر: ضَعْ رِجليك على عُنقي لترُدَّه إلى ما كان، ففعل ذلك العباسُ، ثم قال العباسُ: قد أعطيتُك الدارَ تَزيدُها في مسجد رسول الله ﷺ، فزادَها عمرُ في المسجد، ثم قَطَعَ للعباس دارًا أوسع منها بالزَّوراء (1) .
هذا حديثٌ كتبناهُ عن أبي جعفر، وأبي عليٍّ الحافظ عليه (1) ، ولم نكتُبه إلَّا بهذا الإسناد، والشيخان ﵄ لم يحتجّا بعبد الرحمن بن زيد بن أسلم. وقد وجدتُ له شاهدًا من حديث أهل الشام:
هذا حديثٌ كتبناهُ عن أبي جعفر، وأبي عليٍّ الحافظ عليه (1) ، ولم نكتُبه إلَّا بهذا الإسناد، والشيخان ﵄ لم يحتجّا بعبد الرحمن بن زيد بن أسلم. وقد وجدتُ له شاهدًا من حديث أهل الشام:
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ہم مسجد (نبوی) میں توسیع کریں گے۔ اور آپ کا گھر مسجد کے قریب ہے، لہٰذا وہ ہمیں دے دیں تاکہ ہم اسے مسجد میں شامل کر لیں، اور میں آپ کو اس سے زیادہ وسیع جگہ دے دوں گا۔“ انہوں نے جواب دیا: ”میں ایسا نہیں کروں گا۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”پھر میں آپ پر غالب آ کر (زبردستی) لے لوں گا۔“ عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”آپ کو اس کا حق نہیں ہے، پس آپ اپنے اور میرے درمیان کسی کو مقرر کریں جو حق کے ساتھ فیصلہ کرے۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”وہ کون ہے؟“ عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ”حذیفہ بن یمان۔“ راوی کہتے ہیں کہ چنانچہ وہ دونوں حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہیں پورا قصہ سنایا۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میرے پاس اس بارے میں ایک خبر (علم) ہے۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”وہ کیا؟“ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بیشک اللہ کے نبی داود علیہ السلام نے بیت المقدس میں توسیع کا ارادہ کیا، اور مسجد کے قریب ایک یتیم کا گھر تھا۔ انہوں نے اس سے وہ گھر مانگا لیکن اس نے انکار کر دیا، تو داود علیہ السلام نے اسے زبردستی لینا چاہا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی: میرے گھروں میں سب سے زیادہ ظلم سے پاک میرا گھر (مسجد) ہے۔ لہٰذا انہوں نے اسے چھوڑ دیا۔“ عباس رضی اللہ عنہ نے ان (عمر رضی اللہ عنہ) سے کہا: ”کیا اب کوئی کسر باقی رہ گئی ہے؟“ انہوں نے کہا: ”نہیں۔“ راوی کہتے ہیں کہ پھر عمر رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے، تو وہاں عباس رضی اللہ عنہ کے گھر کا ایک پرنالہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد کی طرف نکلا ہوا تھا، جس سے بارش کا پانی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں گرتا تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ سے اس پرنالے کو اکھاڑ دیا اور فرمایا: ”یہ پرنالہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں نہیں گرے گا۔“ اس پر عباس رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے دستِ مبارک سے اس پرنالے کو اس جگہ پر رکھا تھا، اور اے عمر! تم نے اسے اکھاڑ دیا ہے۔“ یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”آپ میرے کندھوں پر اپنے پاؤں رکھیں تاکہ اسے واپس اسی جگہ لگا دیں جہاں وہ تھا۔“ چنانچہ عباس رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا۔ پھر عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے آپ کو اپنا گھر دے دیا تاکہ آپ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں شامل کر لیں۔“ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے اسے مسجد میں شامل کر لیا، اور اس کے بعد عباس رضی اللہ عنہ کو مقامِ زوراء میں اس سے زیادہ وسیع جگہ الاٹ کر دی۔
یہ حدیث ہم نے ابو جعفر اور ابو علی حافظ کے واسطے سے لکھی ہے، اور ہم نے اسے صرف اسی سند کے ساتھ لکھا ہے۔ اور شیخین نے عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم سے حجت نہیں پکڑی۔ اور میں نے اہل شام کی احادیث میں اس کا ایک شاہد (تائیدی روایت) پایا ہے: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5516]
یہ حدیث ہم نے ابو جعفر اور ابو علی حافظ کے واسطے سے لکھی ہے، اور ہم نے اسے صرف اسی سند کے ساتھ لکھا ہے۔ اور شیخین نے عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم سے حجت نہیں پکڑی۔ اور میں نے اہل شام کی احادیث میں اس کا ایک شاہد (تائیدی روایت) پایا ہے: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5516]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره إن شاء الله لكن بذكر أُبيّ بن كعب بدل حذيفة بن اليمان، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبي القاسم عُبيد الله بن محمد الإسكندراني وشيخه أبي يحيى زيد بن الحسن المصري، وعبد الرحمن بن زيد بن أسلم فيه لينٌ، وخالفه معمر بن راشد الثقة الحافظ فروى هذا الخبر عن ...» [ترقيم الرساله 5516] [ترقيم الشركة 5470]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره إن شاء الله لكن بذكر أُبيّ بن كعب بدل حذيفة بن اليمان
حدیث نمبر: 5517
حدَّثَناه أبو أحمد الحسين بن علي التَّمِيمي، ﵀، أخبرنا محمد بن المُسيَّب، حدثنا أبو عُمير عيسى بن محمد بن النَّحّاس، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا شُعيبٌ الخُراساني (2) ، عن عطاء الخُراساني، عن سعيد بن المُسيّب: أَنَّ عُمر بن الخطَّاب لما أراد أن يَزِيد في مسجد رسول الله ﷺ وَقَعَتْ زيادته (3) على دارِ العباس ابن عبد المُطلب، فذكر الحديث بنحوٍ منه (1) .
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں توسیع کا ارادہ کیا تو وہ توسیع عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے گھر تک پہنچتی تھی، پھر راوی نے اسی سابقہ حدیث کی طرح کا واقعہ بیان کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5517]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره كسابقه، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، لكنه مرسل، غير أنه وإن كان كذلك فهو من مراسيل سعيد بن المسيب الذي تُعدُّ مراسيله من أقوى المراسيل حتى عدَّها بعضهم في حكم المسند المتصل لجلالة سعيدٍ. محمد بن المسيّب: هو ابن إسحاق النيسابوري الأرغباني، وشعيب: هو ابن رُزيق - ...» [ترقيم الرساله 5517] [ترقيم الشركة 5471]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره كسابقه