🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

457. مُحَاكَمَةُ الْعَبَّاسِ وَعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ إِلَى حُذَيْفَةَ
سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما کا سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس مقدمہ لے جانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5515
وحدثنا أبو بكر بن أبي دارم الحافظ بالكوفة، حدثنا أبو إسحاق محمد بن هارون بن عيسى الهاشمي، حدثنا موسى بن عبد الله بن موسى الهاشمي، حدثنا يعقوب بن جعفر بن سليمان، قال: سمعت أبي يقول: دخلتُ على أبي جعفر المنصور، فرأيتُ له جُمَّةً، فجعلتُ أنظُر إلى حُسنها، فقال: كان لأبي محمد بن عليّ جُمْةٌ، وحدثني أنَّ أباهُ عليَّ بن عبد الله كانت له جُمّةٌ، وحدَّثني أنَّ أباهُ عبد الله بنَ العباس كانت له جُمّةٌ، وحدَّثني ابن عباس أن النبيّ ﷺ كانت له جُمْةٌ إلى أنصافِ أذُنيه، قال ابن عباس: وكانت للعباس بن عبد المُطّلب جُمّةٌ، وكانت لعبد المطّلب جُمّةٌ، وكان لهاشم بن عبد منافٍ جُمّةٌ، فقلتُ لأبي: إني لأعجَبُ من حُسنِها، فقال: ذلك نُورُ الخلافة، قال: حدَّثني أبي، عن أبيه، عن جده، قال: إنَّ الله إذ أراد أن يَخلُق خَلْقًا للخلافة مَسحَ يده على ناصيته، فلا تقعُ عليه عَينٌ إلَّا أحبَّه (1) . رواة هذا الحديث عن آخرهم هاشميّون معروفون بشَرَف الأصل.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5427 - رواته هاشميون ليسوا بمعتمدين
یعقوب بن جعفر بن سلیمان رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں اپنے والد جعفر منصور کے پاس گیا انہوں نے ان کی گھنی زلفیں دیکھیں، میں ان کی زلفوں کے حسن کی جانب دیکھنے لگ گیا۔ تو جعفر منصور نے کہا: میرے والد محمد بن علی کی بھی زلفیں تھیں، اور انہوں نے مجھے بتایا ہے کہ ان کے والد علی بن عبداللہ کی بھی زلفیں تھیں، وہ کہتے ہیں مجھے انہوں نے بتایا کہ میرے والد عباس بن عبدالمطلب کی بھی زلفیں تھیں، اور عباس رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی زلفیں تھیں، اور باشم بن عبد مناف کی بھی زلفیں تھیں۔ میں نے اپنے والد سے کہا: یہ بہت خوبصورت ہیں۔ انہوں نے کہا: یہ خلافت کا نور ہے۔ راوی کہتے ہیں: میرے والد اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ جب الله تعالیٰ کسی کی تخلیق خلافت کے لئے فرماتا ہے تو اس کی پیشانی پر ہاتھ پھیر دیتا ہے، اس وجہ سے اس پر صرف محبت کرنے والے کی ہی نظر پڑتی ہے (اور نگاہ بد سے وہ بچا رہتا ہے) ٭٭ اس حدیث کے تمام راوی ہاشمی ہیں اور نیک خاندان میں مشہور ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5515]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5516
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله البغدادي، حدثنا أبو القاسم عبيد الله (1) بن محمد بن سليمان بن إبراهيم الإسكندراني بمصر، حدثنا أبو يحيى الضرير زيد بن الحسن المِصري (2) ، حدثنا عبد الرحمن بن زيد بن أسلم، عن أبيه، عن جده، عن عمر بن الخطَّاب أنه قال للعباس بن عبد المطَّلِب: إني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"نَزِيدُ (3) في المسجد"، ودارُك قريبةٌ من المسجد، فأعطناها نَزِدْها في المسجد، وأقطعُ لك أوسعَ منها، قال: لا أفعلُ، قال: إذًا أغلِبَك عليها، قال: ليس ذاكَ لكَ، فاجعل بيني وبينك مَن يقضي بالحق، قال: ومَن هو؟ قال: حذيفةُ بنُ اليمان، قال: فجاؤوا إلى حذيفة فقَصُّوا عليه، فقال حذيفةُ: عندي في هذا خَبَرٌ، قال: وما ذاك؟ قال: إنَّ داودَ النبيَّ صلَواتُ الله عليه أراد أن يَزِيد في بيت المَقدِس، وقد كان بيتٌ قريبٌ من المسجد ليتيمٍ، فطَلَب إليه فأبى، فأراد داودُ أن يأخُذَها منه، فأوحى الله ﷿ إليه: إن أنْزَه البُيوتِ عن الظُّلم لَبَيتي، قال: فتركه، فقال له العباسُ: فبقي شيء؟ قال: لا. قال: فدخل المسجد، فإذا مِيزابٌ للعباس شارعٌ في مسجد رسول الله ﷺ يَسيلُ ماءُ المطر منه في مسجد رسول الله ﷺ، فقال عمرُ بيده فقلَعَ المِيزابُ، فقال: هذا الميزابُ لا يَسيلُ في مسجد رسول الله ﷺ، فقال له العباسُ: والذي بعث محمدًا بالحقِّ، إنه هو الذي وَضَعَ هذا المِيزابَ في هذا المكان، ونزعته أنتَ يا عمرُ، فقال عمر: ضَعْ رِجليك على عُنقي لترُدَّه إلى ما كان، ففعل ذلك العباسُ، ثم قال العباسُ: قد أعطيتُك الدارَ تَزيدُها في مسجد رسول الله ﷺ، فزادَها عمرُ في المسجد، ثم قَطَعَ للعباس دارًا أوسع منها بالزَّوراء (1) .
هذا حديثٌ كتبناهُ عن أبي جعفر، وأبي عليٍّ الحافظ عليه (1) ، ولم نكتُبه إلَّا بهذا الإسناد، والشيخان ﵄ لم يحتجّا بعبد الرحمن بن زيد بن أسلم. وقد وجدتُ له شاهدًا من حديث أهل الشام:
عبدالرحمن بن زید بن اسلم اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہم مسجد کی توسیع کرنا چاہتے ہیں اور تیرا گھر مسجد کے قریب ہے۔ اس لئے آپ اپنا گھر ہمیں دے دیجئے ہم مسجد کی توسیع میں اس کو شامل کر لیں گے اور اس کے بدلے میں آپ کو اس سے بھی زیادہ وسیع گھر دیتے ہیں۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: (اگر تم نے رضا مندی کے ساتھ یہ مکان ہمیں نہ دیا تو) ہم زبردستی تم سے یہ مکان خالی کروا لیں گے۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ کو یہ حق نہیں پہنچتا۔ یہ لوگ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان کو پورا معاملہ سنایا۔ انہوں نے کہا: اس سلسلے میں میرے پاس ایک حدیث موجود ہے۔ انہوں نے پوچھا: وہ کیا؟ انہوں نے کہا: سیدنا داؤد علیہ السلام نے بیت المقدس کی توسیع کرنا چاہی، اور مسجد کے قریب جو مکان تھا وہ ایک یتیم کا تھا، سیدنا داؤد علیہ السلام نے اس سے مکان مانگا لیکن اس نے دینے سے انکار کر دیا، سیدنا داؤد علیہ السلام اس سے وہ مکان زبردستی چھیننا چاہتے تھے کہ الله تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی کہ میرے گھر کو دوسروں کے گھروں پر ظلم سے بچایا جائے تو سیدنا داؤد علیہ السلام نے وہ ارادہ ترک فرما دیا۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا اب بھی کوئی بات باقی رہ گئی ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ راوی کہتے ہیں: پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مسجد میں آئے، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے پرنالے کا رخ مسجد نبوی کی جانب تھا اور بارش کا پانی اس کے ذریعے مسجد میں گرتا تھا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وہ پرنالہ اکھیڑ ڈالا اور کہا: یہ پرنالہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں نہیں گر سکتا۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اس ذات کی قسم! جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بذات خود یہ پرنالہ اسی مقام پر رکھا تھا اور اے عمر تم نے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بنایا ہوا پرنالہ) اکھیڑ دیا۔ سیدنا عمر صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: آپ اپنے پاؤں میری گردن پر رکھ کر چڑھ جائیے اور یہ پرنالہ جہاں پر تھا وہیں لگا لیجئے۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا۔ پھر فرمایا: میں نے یہ مکان تمہیں دیا تم مسجد نبوی شریف کی توسیع کر لو، تب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کا مکان مسجد میں شامل کر لیا اور ان کو اس کے بدلے مقام زوراء پر ایک وسیع و عریض مکان دیا۔ ٭٭ یہ حدیث ہم نے ابوجعفر اور ابوعلی حافظ کے حوالے سے نقل کی ہے اور انہوں نے اس کو صرف اسی اسناد کے ہمراہ لکھا ہے اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے عبدالرحمن بن زید بن اسلم کی روایات نقل نہیں کیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5516]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں