المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
459. لَا يَدْخُلُ قَلْبَ امْرِئٍ الْإِيمَانُ حَتَّى يُحِبَّكُمْ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ
کسی شخص کے دل میں ایمان داخل نہیں ہوتا جب تک وہ تم سے اللہ اور اس کے رسول کی خاطر محبت نہ کرے
حدیث نمبر: 5521
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا يحيى بن يحيى وإسحاق بن إبراهيم وأبو بكر بن أبي شيبة، قالوا: أخبرنا جريرٌ، عن يزيد بن أبي زياد عن عبد الله بن الحارث، عن المُطلب بن ربيعة، قال: جاء العباسُ إلى رسول الله ﷺ وهو مُغضَبٌ، فقال:"ما شأنك؟" فقال: يا رسول الله، ما لنا ولقُريشٍ، فقال:"ما لك ولهم؟"، قال: يلقى بعضُهم بعضًا بوجوهٍ مشرقةٍ، فإذا لَقُونا لَقُونا بغير ذلك، قال: فغضبَ رسولُ الله ﷺ حتى استَدَرَّ عِرْقٌ بين عَينَيهِ، قال: فلما أسفَرَ عنه، قال:"والذي نفسُ محمدٍ بيدِه، لا يدخُلُ قلب امرئٍ الإيمانُ حتى يُحبّكم الله ولرسوله"، قال: ثم قال:"ما بالُ رجالٍ يُؤذُونَني في العباس، عمُّ الرجل صنُو أبيه" (1) .
هذا حديث رواه إسماعيل بن أبي خالد عن يزيد بن أبي زياد، ويزيدُ وإن لم (1) يُخرجاه، فإنه أحدُ أركان الحديث في الكوفيين.
هذا حديث رواه إسماعيل بن أبي خالد عن يزيد بن أبي زياد، ويزيدُ وإن لم (1) يُخرجاه، فإنه أحدُ أركان الحديث في الكوفيين.
مطلب بن ربیعہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدنا عباس رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غصے کی حالت میں آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”آپ کو کیا ہوا؟“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمارا اور قریش کا کیا معاملہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آپ کا اور ان کا کیا معاملہ ہے؟“ انہوں نے کہا: وہ آپس میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو کھلے اور ہشاش بشاش چہروں کے ساتھ ملتے ہیں، لیکن جب ہم سے ملتے ہیں تو ان کا رویہ ویسا نہیں ہوتا (بلکہ بے رخی دکھاتے ہیں)۔ راوی کہتے ہیں: اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قدر غضب آیا کہ آپ کی دونوں آنکھوں کے درمیان والی رگ ابھر آئی۔ پھر جب آپ کا غصہ کم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! کسی شخص کے دل میں اس وقت تک ایمان داخل نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی خاطر تم سے محبت نہ کرے۔“ راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان لوگوں کا کیا حال ہے جو مجھے عباس کے معاملے میں اذیت دیتے ہیں، آدمی کا چچا اس کے باپ کی طرح ہی ہوتا ہے۔“
یہ حدیث اسماعیل بن ابی خالد نے یزید بن ابی زیاد سے روایت کی ہے، اور یزید کی حدیث اگرچہ شیخین نے روایت نہیں کی، لیکن وہ کوفیوں میں حدیث کے ارکان (بڑے راویوں) میں سے ایک ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5521]
یہ حدیث اسماعیل بن ابی خالد نے یزید بن ابی زیاد سے روایت کی ہے، اور یزید کی حدیث اگرچہ شیخین نے روایت نہیں کی، لیکن وہ کوفیوں میں حدیث کے ارکان (بڑے راویوں) میں سے ایک ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5521]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف؛ يزيد بن أبي زياد - وهو الهاشمي مولاهم الكوفي - ضعيف، وقد اختلف عليه في إسناده، لكن قد روي الخبر من طرق أخرى يتحسَّن بها كما سيأتي. وأما قوله: "عمُّ الرجل صِنْو أبيه" فصحيحٌ.» [ترقيم الرساله 5521] [ترقيم الشركة 5475]
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 5522
حدَّثَناه أبو عمرو عثمان أحمد بن السَّمّاك الزاهد ببغداد، حدثنا عبد الرحمن بن محمد بن منصور، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا إسماعيل بن أبي خالد، عن يزيد بن أبي زياد، عن عبد الله بن الحارث، عن العباس بن عبد المطّلب، قال: قلتُ: يا رسول الله، إنَّ قريشًا إذا لقي بعضُها بعضًا لَقُوها ببِشْرٍ حَسَن، وإذا لَقُونا لَقُونا بوجوهٍ لا نَعرفُها، قال: فغَضِبَ رسولُ الله ﷺ غضبًا شديدًا، وقال:"والذي نفسُ محمدٍ بيده، لا يَدخُلُ قلب رجلٍ الإيمانُ حتى يُحبَّكم الله ولرسوله" (1) . قد ذكرتُ في مناقب الحسن والحسين ﵄ طرفًا في"فضائل أهل بيتِ رسول الله ﷺ"، وبيَّنتُ عِلل هذا الحديث بذكر المُطّلب بن ربيعة، ومن أسقَطَه من الإسناد، فأَغنى ذلك عن إعادته في هذا المَوضِع.
سیدنا عبداللہ بن حارث سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یقیناً قریش جب آپس میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو خندہ پیشانی سے ملتے ہیں، اور جب ہم سے ملتے ہیں تو ایسے چہروں کے ساتھ ملتے ہیں جنہیں ہم نہیں پہچانتے (یعنی چہرے پھیر لیتے ہیں)۔ راوی کہتے ہیں: اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سخت غضبناک ہوئے اور فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! کسی شخص کے دل میں اس وقت تک ایمان داخل نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی خاطر تم سے محبت نہ کرے۔“
میں نے حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے مناقب کے تحت ”فضائل اہل بیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم “ میں اس کا ایک حصہ ذکر کیا ہے، اور مطلب بن ربیعہ کے ذکر اور جس نے انہیں سند سے گرا دیا ہے، ان کا تذکرہ کر کے اس حدیث کی علل (خامیوں) کو واضح کر دیا ہے، لہٰذا اس مقام پر اسے دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5522]
میں نے حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے مناقب کے تحت ”فضائل اہل بیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم “ میں اس کا ایک حصہ ذکر کیا ہے، اور مطلب بن ربیعہ کے ذکر اور جس نے انہیں سند سے گرا دیا ہے، ان کا تذکرہ کر کے اس حدیث کی علل (خامیوں) کو واضح کر دیا ہے، لہٰذا اس مقام پر اسے دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5522]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه، يحيى بن سعيد: هو القطان.» [ترقيم الرساله 5522] [ترقيم الشركة 5476]
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 5523
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، عن ثَور بن يزيد عن مَكحُول، عن سعيد بن المُسيّب، أنه قال: لَلْعبّاسُ بن عبد المُطّلب خيرُ هذه الأمة، وارثُ النبيِّ وعمُّه (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5434 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5434 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
مکحول سعید بن مسیب سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ اس امت کے بہترین فرد، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وارث اور آپ کے چچا ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5523]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات، وصحَّحه الذهبي في "تاريخ الإسلام" 2/ 205، لكنه قال في "سير أعلام النبلاء" 2/ 95: هو قول منكر.» [ترقيم الرساله 5523] [ترقيم الشركة 5477] [ترقيم العلميه 5434]
الحكم على الحديث: رجاله ثقات
حدیث نمبر: 5524
أخبرني أبو القاسم عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شُعبة، عن عمرو بن مُرة، قال: سمعت ذكوان أبا صالح [يُحدِّث عن صُهيب مولى العباس] (3) قال: أرسلني العباسُ ابن عبد المطلب إلى عثمان، فأتيتُه فإذا هو يُغدِّي الناسَ، فَدَعَوتُه، فأتاهُ، فقال: أفلَحَ الوجهُ (1) أبا الفضل، فقال: ووجهُك يا أمير المؤمنين، فقال: ما زِدتُ على أن أتاني رسولُك وأنا أُغدِّي، فغَدَّيتُهم ثم أقبلْتُ (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5435 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5435 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ابو صالح ذکوان سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے غلام صہیب سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا: سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے مجھے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا، میں ان کے پاس آیا تو وہ اس وقت لوگوں کو کھانا کھلا رہے تھے۔ میں نے انہیں بلایا، تو وہ ان (عباس رضی اللہ عنہ) کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”اے ابو الفضل! آپ کا چہرہ کامیاب و کامران رہے۔“ تو انہوں نے فرمایا: ”اور آپ کا چہرہ بھی، اے امیر المؤمنین!“ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بس اتنی تاخیر ہوئی کہ جب آپ کا قاصد میرے پاس آیا تو میں کھانا کھلا رہا تھا، میں نے انہیں کھانا کھلایا اور پھر (فوراً آپ کی طرف) آ گیا۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5524]
تخریج الحدیث: «إسناده محتمل للتحسين من أجل صهيب مولى العباس، فهو - وإن لم يرو عنه غير أبي صالح ذكوان السَّمّان - تابعي كبير يروي عن العباس وعثمان وعليّ، وخرج له البخاري في "الأدب المفرد"، وذكره ابن حبان في "الثقات"، وحسَّن الذهبيُّ في "السير" 2/ 94 هذا الإسنادَ في خبر آخر يروى ...» [ترقيم الرساله 5524] [ترقيم الشركة 5478] [ترقيم العلميه 5435]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 5525
أخبرني أبو الحسين محمد بن محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا محمد بن إسحاق الثقفي، حدثنا قُتيبة بن سعيد، حدثنا جَرِير، عن عمرو بن ثابت، قال: دخل رجلٌ على الحُسين بن عليٍّ وهو يأكُلُ، فقال: ادْنُ فكُل، قال: إني قد أكلتُ، قال: عندَ مَن؟ قال: عندَ ابن عباس، قال: أما إن أباهُ كان سيِّدَ قُريشٍ (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5436 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5436 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
عمرو بن ثابت سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک شخص سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے پاس آیا جبکہ وہ کھانا کھا رہے تھے، تو انہوں نے فرمایا: ”قریب آؤ اور کھاؤ۔“ اس نے کہا: میں کھا چکا ہوں۔ انہوں نے پوچھا: ”کس کے پاس؟“ اس نے کہا: ابن عباس (رضی اللہ عنہما) کے پاس۔ تو انہوں نے فرمایا: ”سن لو! بیشک ان کے والد قریش کے سردار تھے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5525]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف عمرو بن ثابت، وهو ابن هرمز الكوفي - على أنه لم يُدرك الحسين بنَ علي - وهو ابن أبي طالب - إنما يروي هذا الخبر عن حبيب بن أبي ثابت كما أخرجه الطبراني في "الكبير" (2911)، وفي "الأوسط" (1954) من طريق أبي عتّاب سهل بن حماد الدلال، ...» [ترقيم الرساله 5525] [ترقيم الشركة 5479] [ترقيم العلميه 5436]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف عمرو بن ثابت
حدیث نمبر: 5526
حدثنا أبو علي الحافظ، حدثنا محمد بن عبد الله البَيروتي، حدثنا محمد بن عُزيز، حدثني سَلامة بن رَوْح، عن عُقَيل بن خالد، عن ابن شهاب، قال: قال عبد الله بن ثَعلَبة: قال رسول الله ﷺ:"أَوْصاني اللهُ بذِي القُربَى، وأَمَرني أن أبدأ بالعباس" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5437 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5437 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھے قرابت داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کی وصیت فرمائی ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ میں (اس کی) ابتدا عباس رضی اللہ عنہ سے کروں۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5526]
تخریج الحدیث: «ضعيف، وما وقع هنا من ذكر عبد الله بن ثعلبة - وهو ابن أبي صُعَير العُذلاي، وهو صحابي صغير له رؤية - فوهمٌ، والمحفوظ فيه روايته عن ابن شهاب الزهري عن عبد الله بن كثير - هكذا غير منسوب - كذلك قال عبدُ الوهاب بن الحسن الكلابي في روايته عن ...» [ترقيم الرساله 5526] [ترقيم الشركة 5480] [ترقيم العلميه 5437]
الحكم على الحديث: ضعيف