المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
460. اسْتَسْقَى عُمَرُ عَامَ الرَّمَادَةِ بِالْعَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
قحط کے سال (عام الرمادہ) میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے وسیلے سے بارش کی دعا کرنا
حدیث نمبر: 5527
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبري، حدثنا الحسن بن علي بن نَصْر، حدثنا الزُّبير بن بكّار، حدثني ساعدةُ بن عُبيد الله المُزَني، عن داود بن عطاء المَدَني، عن زيد بن أسلم، عن ابن عمر، أنه قال: استسقى عمرُ بن الخطاب عام الرَّمَادة بالعباس بن عبد المُطّلب، فقال: اللهم هذا عمُّ نَبيِّك نَتوجَّه إليك به، فاسْقِنا، فما برحُوا حتى سقاهُم اللهُ، قال: فخطَبَ عمرُ الناس، فقال: أيُّها الناسُ، إنَّ رسول الله ﷺ كان يرى للعباس ما يرى الولدُ لوالده، يُعظِّمُه ويُفخِّمُه، ويَبَرُّ قَسَمَه، فاقتَدُوا أَيُّها الناس برسول الله ﷺ في عمِّه العباس، واتخِذُوه وسيلة إلى الله ﷿ فيما نَزَل بكم (2) . ذكرُ مناقب عبد الله بن الأرقم ﵁ -
زید بن اسلم سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عام الرمادہ (قحط سالی کے سال) میں سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے وسیلے سے بارش طلب کی، اور یہ دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ هَذَا عَمُّ نَبِيِّكَ نَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِهِ، فَاسْقِنَا» ”اے اللہ! یہ تیرے نبی کے چچا ہیں، ہم ان کے ذریعے تیری طرف متوجہ ہوتے ہیں (انہیں وسیلہ بناتے ہیں)، پس تو ہمیں سیراب کر دے۔“ راوی کہتے ہیں: وہ ابھی وہاں سے ہٹے بھی نہیں تھے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں سیراب کر دیا۔ راوی کہتے ہیں: پھر عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے خطاب کیا اور فرمایا: ”اے لوگو! بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عباس رضی اللہ عنہ کو وہی مقام دیتے تھے جو ایک بیٹا اپنے باپ کو دیتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی تعظیم و توقیر کرتے اور ان کی قسم پوری کرتے تھے۔ پس اے لوگو! تم بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس رضی اللہ عنہ کے حق میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرو، اور جب تم پر کوئی مصیبت نازل ہو تو انہیں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں وسیلہ بناؤ۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5527]
تخریج الحدیث: «خبر حسن بهذه السياقة إن شاء الله، وهذا إسناد ضعيف لضعف داود بن عطاء، وجهالة ساعدة ابن عُبيد الله المزني، وقد رُوي هذا الخبر بنحو روايتهما من طريق أخرى أحسن من هذه عن زيد بن أسلم وابن إسحاق عمن حدثهما عن ابن عباس، وإسناده حسن لولا إبهام راويه عن ابن ...» [ترقيم الرساله 5527] [ترقيم الشركة 5481]
الحكم على الحديث: خبر حسن بهذه السياقة إن شاء الله