🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

461. ذِكْرُ مَنَاقِبِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَرْقَمِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا عبد اللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5527
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبري، حدثنا الحسن بن علي بن نَصْر، حدثنا الزُّبير بن بكّار، حدثني ساعدةُ بن عُبيد الله المُزَني، عن داود بن عطاء المَدَني، عن زيد بن أسلم، عن ابن عمر، أنه قال: استسقى عمرُ بن الخطاب عام الرَّمَادة بالعباس بن عبد المُطّلب، فقال: اللهم هذا عمُّ نَبيِّك نَتوجَّه إليك به، فاسْقِنا، فما برحُوا حتى سقاهُم اللهُ، قال: فخطَبَ عمرُ الناس، فقال: أيُّها الناسُ، إنَّ رسول الله ﷺ كان يرى للعباس ما يرى الولدُ لوالده، يُعظِّمُه ويُفخِّمُه، ويَبَرُّ قَسَمَه، فاقتَدُوا أَيُّها الناس برسول الله ﷺ في عمِّه العباس، واتخِذُوه وسيلة إلى الله ﷿ فيما نَزَل بكم (2) . ذكرُ مناقب عبد الله بن الأرقم ﵁ -
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے قحط کے سال سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کا واسطہ اور وسیلہ دے کر بارش کی دعا یوں مانگی اے اللہ! یہ تیرے نبی کے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ ہیں، ہم تیری بارگاہ میں ان کا واسطہ اور وسیلہ پیش کرتے ہیں تو ان کے صدقے ہم پر رحمت کی برسات نازل فرما۔ (اس دعا کے بعد) ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ برسات نازل ہو گئی۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا: اے لوگو! رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو والد کا احترام دیتے تھے اور ایک والد ہی کی طرح عزت کرتے تھے، ان کی قسم کو پورا کرتے تھے، تو اے لوگو! ان کے چچا کے حوالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرو اور ان کو الله تعالیٰ کی بارگاہ میں اس کی نازل کردہ چیز کے سلسلے میں وسیلہ بنا کر رکھو۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5527]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5528
حدثني أبو بكر بن بالَوَيهِ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق المُزَني، حدثنا مصعب بن عبد الله، قال: عبد الله بن الأرقم بن عبد يَغُوثَ بن أُهَيب بن عبد مناف بن زُهْرَةَ، أمُّه عَمْرةُ بنت الأرقم بن هاشم بن عبد مَناف، وكان قد عَمِي قبل وفاته، تُوفي سنة خمس وثلاثين (1) .
مصعب بن عبدالله نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے عبدالله بن ارقم بن عبد يغوث بن اہیب بن عبد مناف بن زہره ان کی والدہ کا نام عمرہ بنت ارقم بن ہاشم بن عبد مناف ہے۔ سیدنا عبدالله بن ارقم وفات سے پہلے نابینا ہو گئے تھے۔ ان کا انتقال سن 35 ہجری کو ہوا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5528]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5529
أخبرني أحمد بن يعقوب الثّقَفي، حدثنا موسى بن زكريا التُّستري، حدثنا خليفة بن خَيّاط، فذكر نسبة عبد الله بن الأرقم، وكان عبد الله بن الأرقم كاتبًا للنبي ﷺ وأبي بكر وعمر ﵄ (2) .
خلیفہ بن خیاط نے سیدنا عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ کا نسب بیان کرنے کے بعد فرمایا: آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے کاتب تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5529]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5530
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الفضل بن محمد البيهقي، حدثنا عبد الله بن صالح، حدثنا عبد العزيز بن أبي سَلَمة الماجِشُون، عن عبد الواحد بن أبي عون، عن القاسم بن محمد، عن عبد الله بن عمر، قال: أتى النبي ﷺ كتابُ رجُلٍ، فقال لعبد الله بن الأرقم:"أجِبْ عنّي"، فكتبَ جَوابَه، ثم قرأه عليه، فقال:"أصبتَ وأحسنتَ، اللهمَّ وَفِّقْه"، فلما ولي عمر كان يُشاوِرُه (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5441 - صحيح
سیدنا عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں کسی آدمی کا خط آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ سے کہا: اس کو میری جانب سے جواب لکھ دو، انہوں نے جواب لکھا اور پھر پڑھ کر سنایا، رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے سن کر فرمایا: بالکل ٹھیک ہے، بہت خوب، يا الله ان کی رائے کو موافقت عطا فرما۔ پھر جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے خلافت سنبھالی تو آپ ان سے مشورہ کیا کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5530]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5531
أخبرني أبو زكريا العَنبَري، حدثنا الحسن بن علي بن نصر، حدثنا الزُّبير بن بَكّار، قال: كان عبد الله بن الأرقم بن عبد يَغُوثَ على بيت المال في زمن عُمر، وصدرًا من ولاية عثمان إلى أن توفي، وكانت له صحبةٌ (1) .
زبیر بن بکار کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن ارقم بن عبد یغوث رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں اور سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دور میں اپنی زندگی کے آخری ایام تک بیت المال کے نگران رہے۔ اور ان کو بارگاہ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت بھی حاصل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5531]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں