المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
463. تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ فِي أَوَاخِرِ خِلَافَةِ عُثْمَانَ
سیدنا عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ کی وفات، خلافتِ عثمان کے آخری دور میں
حدیث نمبر: 5536
حدثنا محمد بن أحمد بن بُطَّة الأصبهاني، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر قال: عبد الله بن زيد بن عبد ربِّه بن ثعلبة بن زيد بن الحارث، وكان يكنى أبا محمد، وشهد عبدُ الله بنُ زيد في السبعين من الأنصار ليلةَ العقبة في رواية جميعهم، وشهد بدرًا وأحدًا والخندق والمشاهد كلَّها مع رسول الله ﷺ، وكانت معه رايةُ بني الحارث بن الخَزرج في غزوة الفتح، وهو الذي أُري الأذان (5) .
محمد بن عمر بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن زید بن عبد ربہ بن ثعلبہ بن زید بن حارث کی کنیت ابو محمد تھی۔ تمام راویوں کے اتفاق کے مطابق، عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ انصار کے ان ستر افراد میں شامل تھے جو عقبہ کی رات (بیعت کے لیے) حاضر ہوئے تھے۔ انہوں نے غزوۂ بدر، احد، خندق اور تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شرکت کی۔ غزوۂ فتح مکہ میں بنو حارث بن خزرج کا جھنڈا انہی کے پاس تھا، اور یہ وہی صحابی ہیں جنہیں خواب میں اذان دکھائی گئی تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5536]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 5536] [ترقيم الشركة 5490]
حدیث نمبر: 5537
قال ابن عمر: حدثني كَثير بن زيد، عن المطلب بن عبد الله بن حَنْطَب، عن محمد بن عبد الله بن زيد، قال: توفي أبي عبدُ الله بنُ زيد بالمدينة سنة اثنتين وثلاثين، وهو ابن أربع وستين سنةً، وصلَّى عليه أمير المؤمنين عثمان بن عفان (1) . إنما اشتَهرَ عبد الله بن زيد بحديث الأذان الذي تداوله فُقهاءُ الإسلام بالقَبُول، ولم يُخرَّج في"الصحيحين" لاختلاف الناقلين في أسانيده. وأمثَلُ الروايات فيه رواية سعيد بن المسيّب، وقد توهّم بعضُ أئمتنا أنَّ سعيدًا لم يَلحَقْ عبد الله بن زيد، وليس كذلك، فإنَّ سعيد بن المسيّب كان فيمن يَدخُل بين علي وعثمان في التوسُّط، وإنما توفي عبد الله بن زيد في أواخر خلافة عثمان (2) . وحديثُ الزُّهْري عن سعيد بن المسيّب مشهورٌ رواه يونس بن يزيد (3) ومعمر بن راشد (4) وشعيب بن أبي حمزة (5) و محمد بن إسحاق (6) ، وغيرهم. (7) . وأما أخبارُ الكوفِيّين في هذا الباب فمَدارُها على حديث عبد الرحمن بن أبي ليلي، فمنهم من قال: عن معاذ بن جبل أو عبد الله بن زيد (1) ، ومنهم من قال: عن عبد الرحمن عن عبد الله بن زيد. وأما ولدُ عبد الله بن زيد عن آبائهم عنه، فإنها غيرُ مستقيمة الأسانيد (2) . وقد أسنَدَ عبد الله بن زيد عن رسول الله ﷺ غير هذا الحديث:
محمد بن عبداللہ بن زید بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: ”میرے والد عبداللہ بن زید کی وفات بتیس (32) ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوئی، اس وقت ان کی عمر چونسٹھ (64) برس تھی، اور امیر المومنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔“
امام حاکم فرماتے ہیں: عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ اذان والی حدیث کی وجہ سے مشہور ہیں جسے علمائے اسلام نے قبولیت کے ساتھ متداول کیا ہے، اور اس کی اسانید میں راویوں کے اختلاف کی وجہ سے اسے صحیحین میں روایت نہیں کیا گیا۔ اس بارے میں سب سے بہترین روایت سعید بن مسیب کی ہے، اور ہمارے بعض ائمہ کو یہ وہم ہوا ہے کہ سعید کی عبداللہ بن زید سے ملاقات نہیں ہوئی، حالانکہ ایسا نہیں ہے، کیونکہ سعید بن مسیب ان لوگوں میں سے تھے جو سیدنا علی اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کے درمیان صلح کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرتے تھے، اور عبداللہ بن زید کی وفات سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے آخری دور میں ہوئی تھی۔ اور سعید بن مسیب سے زہری کی حدیث مشہور ہے جسے یونس بن یزید، معمر بن راشد، شعیب بن ابی حمزہ اور محمد بن اسحاق وغیرہ نے روایت کیا ہے۔ اور جہاں تک اس باب میں کوفیوں کی روایات کا تعلق ہے تو ان کا دارومدار عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کی حدیث پر ہے، چنانچہ ان میں سے بعض نے کہا ہے: ”سیدنا معاذ بن جبل یا عبداللہ بن زید سے روایت ہے“، اور بعض نے کہا ہے: ”عبدالرحمٰن سے اور وہ عبداللہ بن زید سے روایت کرتے ہیں“۔ اور جہاں تک عبداللہ بن زید کی اولاد کا اپنے آباء کے واسطے سے ان سے روایت کرنے کا تعلق ہے، تو ان کی اسانید درست نہیں ہیں۔ اور عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے اس (اذان کی) حدیث کے علاوہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث روایت کی ہیں: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5537]
امام حاکم فرماتے ہیں: عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ اذان والی حدیث کی وجہ سے مشہور ہیں جسے علمائے اسلام نے قبولیت کے ساتھ متداول کیا ہے، اور اس کی اسانید میں راویوں کے اختلاف کی وجہ سے اسے صحیحین میں روایت نہیں کیا گیا۔ اس بارے میں سب سے بہترین روایت سعید بن مسیب کی ہے، اور ہمارے بعض ائمہ کو یہ وہم ہوا ہے کہ سعید کی عبداللہ بن زید سے ملاقات نہیں ہوئی، حالانکہ ایسا نہیں ہے، کیونکہ سعید بن مسیب ان لوگوں میں سے تھے جو سیدنا علی اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کے درمیان صلح کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرتے تھے، اور عبداللہ بن زید کی وفات سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے آخری دور میں ہوئی تھی۔ اور سعید بن مسیب سے زہری کی حدیث مشہور ہے جسے یونس بن یزید، معمر بن راشد، شعیب بن ابی حمزہ اور محمد بن اسحاق وغیرہ نے روایت کیا ہے۔ اور جہاں تک اس باب میں کوفیوں کی روایات کا تعلق ہے تو ان کا دارومدار عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کی حدیث پر ہے، چنانچہ ان میں سے بعض نے کہا ہے: ”سیدنا معاذ بن جبل یا عبداللہ بن زید سے روایت ہے“، اور بعض نے کہا ہے: ”عبدالرحمٰن سے اور وہ عبداللہ بن زید سے روایت کرتے ہیں“۔ اور جہاں تک عبداللہ بن زید کی اولاد کا اپنے آباء کے واسطے سے ان سے روایت کرنے کا تعلق ہے، تو ان کی اسانید درست نہیں ہیں۔ اور عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے اس (اذان کی) حدیث کے علاوہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث روایت کی ہیں: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5537]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 5537]
حدیث نمبر: 5538
حَدَّثَنَاهُ على بن حَمْشَاذَ العَدلُ، حدثنا بشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سُفيان، عن عمرو بن دينار وعبد الله بن أبي بكر بن عمرو بن حَزم، عن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حَزم، عن عبد الله بن زيد بن عبد ربِّه الذي أُريَ النِّداءَ: أنه أتى رسولَ الله ﷺ فقال: يا رسول الله، حائطي هذا صدقةٌ، وهو إلى الله ورسوله، فجاء أبواه، فقالا: يا رسول الله كان قِوامَ عَيشنا، فردَّه رسولُ الله ﷺ إليهما، ثم ماتا فورثَهما ابنُهما بعدُ (1) ذكرُ مناقب أبي الدَّرداء عُويمر بن زيد الأنصاري ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5448 - فيه إرسال
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5448 - فيه إرسال
ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم، سیدنا عبداللہ بن زید بن عبد ربہ رضی اللہ عنہ (یہ وہی ہیں جنہیں اذان خواب میں دکھائی گئی تھی) سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میرا یہ باغ صدقہ ہے، اور یہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے (وقف) ہے۔“ پھر ان کے والدین آئے اور انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! یہ (باغ) ہماری گزر بسر کا واحد سہارا تھا۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ باغ ان دونوں کو واپس لوٹا دیا، پھر ان دونوں کا انتقال ہو گیا تو بعد میں ان کے یہ بیٹے ہی اس باغ کے وارث بنے۔
سیدنا ابو الدرداء عویمر بن زید انصاری رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5538]
سیدنا ابو الدرداء عویمر بن زید انصاری رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5538]
تخریج الحدیث: «حديث حسن بطرقه، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكن فيه إرسال كما قال الذهبي في "تلخيصه"، وسبقه إلى ذلك الدارقطنيُّ في "سننه" حيث قال بإثر الحديث (4452): هذا مرسل، لأنَّ عبد الله بن زيد بن عبد ربّه توفي في خلافة عثمان، ولم يدركه أبو بكر بن حزم. قلنا: لكن حدَّث به ...» [ترقيم الرساله 5538] [ترقيم الشركة 5491] [ترقيم العلميه 5448]
الحكم على الحديث: حديث حسن بطرقه