المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
463. تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ فِي أَوَاخِرِ خِلَافَةِ عُثْمَانَ
سیدنا عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ کی وفات، خلافتِ عثمان کے آخری دور میں
حدیث نمبر: 5535
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي، حدثنا أبو عُلَاثة، حدثنا أبي، حدثنا ابن لهيعة، عن أبي الأسود، عن عُروة، فيمن شهد بدرًا والعَقَبة من بني جُشَم بن الحارث وزيد بن الحارث - وهما التَّوأمان -: عبد الله بن زيد بن عبد ربِّه بن ثعلبة بن زيد بن الحارث بن الخزرج، وأخوه حُرَيث (3) بن زيد. وعبد الله بن زيد هو الذي أُريَ النداء بالصلاة (4) .
عروہ بنی جشم بن زید بن حارث میں سے اور بنی زید بن حارث میں سے بدر میں اور بیعت عقبہ میں شریک ہونے والوں میں ”سیدنا عبداللہ بن زید بن عبدربہ بن ثعلبہ بن زید بن حارث بن خزرج“ کا نام بھی ذکر کیا ہے، ان کے بھائی حارث بن زید ہیں۔ عبداللہ بن زید وہی ہیں جنہوں نے خواب میں اذان دیکھی تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5535]
حدیث نمبر: 5536
حدثنا محمد بن أحمد بن بُطَّة الأصبهاني، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر قال: عبد الله بن زيد بن عبد ربِّه بن ثعلبة بن زيد بن الحارث، وكان يكنى أبا محمد، وشهد عبدُ الله بنُ زيد في السبعين من الأنصار ليلةَ العقبة في رواية جميعهم، وشهد بدرًا وأحدًا والخندق والمشاهد كلَّها مع رسول الله ﷺ، وكانت معه رايةُ بني الحارث بن الخَزرج في غزوة الفتح، وهو الذي أُري الأذان (5) .
محمد بن عمر نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے ”عبداللہ بن زید بن عبدربہ بن ثعلبہ بن زید بن حارث“ ان کی کنیت ”ابومحمد“ ہے۔ تمام مؤرخین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ سیدنا عبدالله بن زید رضی اللہ عنہ ستر صحابہ کرام کے ہمراہ ليلۃ العقبہ میں بھی شریک ہوئے، جنگ بدر، احد، خندق اور تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک ہوئے۔ فتح مکہ کے موقع پر بنی حارث بن خزرج کا علم انہی کے ہاتھ میں تھا، یہ وہی صحابی ہیں جن کو خواب میں وہ اذان سنائی گئی تھی جس اذان کو فقہائے اسلام نے اپنے ہاں رائج کیا۔ ٭٭ اس حدیث کو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے نقل نہیں کیا کیونکہ اس کی اسانید میں ناقلین کا اختلاف ہے۔ ان میں سب سے بہترین روایت سیدنا سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ کی ہے۔ لیکن ان کے بارے میں ہمارے آئمہ نے یہ وہم کیا ہے کہ سیدنا سعید کی سیدنا عبداللہ بن زید کے ساتھ ملاقات نہیں ہوئی، حالانکہ یہ بات درست نہیں ہے کیونکہ سیدنا سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ تو وہ شخصیت ہیں جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے درمیان ثالث بننے والوں میں شامل تھے۔ اور سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کا انتقال سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے آخری ایام میں ہوا۔ اور زہری نے جو سیدنا سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے حدیث روایت کی ہے وہ مشہور ہے، اس کو یونس بن یزید نے، معمر بن راشد نے، شعیب بن ابوحمزہ نے اور محمد بن اسحاق اور دیگر محدثین نے روایت کیا ہے۔ اس باب میں کوفیین کی تمام روایات کا مدار عبدالرحمن بن ابی لیل کی حدیث پر ہے۔ کچھ محدثین اس کو یوں بیان کرتے ہیں ”عن معاذ بن جبل او عبدالله بن زید“ اور کچھ محدثین یوں بیان کرتے ہیں ” عبدالرحمن عن عبدالله بن زيد“ اور عبداللہ بن زید کی ان کے آباء کے حوالے بیان کردہ روایات کی اسانید مضبوط نہیں ہیں کیونکہ عبداللہ بن زید نے خود بھی یہ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مسند کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5536]
حدیث نمبر: 5537
قال ابن عمر: حدثني كَثير بن زيد، عن المطلب بن عبد الله بن حَنْطَب، عن محمد بن عبد الله بن زيد، قال: توفي أبي عبدُ الله بنُ زيد بالمدينة سنة اثنتين وثلاثين، وهو ابن أربع وستين سنةً، وصلَّى عليه أمير المؤمنين عثمان بن عفان (1) . إنما اشتَهرَ عبد الله بن زيد بحديث الأذان الذي تداوله فُقهاءُ الإسلام بالقَبُول، ولم يُخرَّج في"الصحيحين" لاختلاف الناقلين في أسانيده. وأمثَلُ الروايات فيه رواية سعيد بن المسيّب، وقد توهّم بعضُ أئمتنا أنَّ سعيدًا لم يَلحَقْ عبد الله بن زيد، وليس كذلك، فإنَّ سعيد بن المسيّب كان فيمن يَدخُل بين علي وعثمان في التوسُّط، وإنما توفي عبد الله بن زيد في أواخر خلافة عثمان (2) . وحديثُ الزُّهْري عن سعيد بن المسيّب مشهورٌ رواه يونس بن يزيد (3) ومعمر بن راشد (4) وشعيب بن أبي حمزة (5) و محمد بن إسحاق (6) ، وغيرهم. (7) . وأما أخبارُ الكوفِيّين في هذا الباب فمَدارُها على حديث عبد الرحمن بن أبي ليلي، فمنهم من قال: عن معاذ بن جبل أو عبد الله بن زيد (1) ، ومنهم من قال: عن عبد الرحمن عن عبد الله بن زيد. وأما ولدُ عبد الله بن زيد عن آبائهم عنه، فإنها غيرُ مستقيمة الأسانيد (2) . وقد أسنَدَ عبد الله بن زيد عن رسول الله ﷺ غير هذا الحديث:
5537 - محمد بن عبداللہ بن زید بیان کرتے ہیں کہ: "میرے والد عبداللہ بن زید (رضی اللہ عنہ) کی وفات سن 32 ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوئی، اس وقت ان کی عمر چونسٹھ برس تھی اور امیر المومنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی"۔ عبداللہ بن زید (رضی اللہ عنہ) بنیادی طور پر اذان والی اس حدیث کی وجہ سے مشہور ہوئے جسے فقہائے اسلام نے قبول کیا ہے، مگر ناقلین کے اسانید میں اختلاف کی وجہ سے اسے "صحیحین" (بخاری و مسلم) میں تخریج نہیں کیا گیا۔ اس باب میں سب سے موزوں روایت سعید بن مسیب کی ہے، اور ہمارے بعض ائمہ کو یہ وہم ہوا کہ سعید (بن مسیب) کا عبداللہ بن زید سے ملاپ نہیں ہوا، جبکہ ایسا نہیں ہے؛ کیونکہ سعید بن مسیب ان لوگوں میں شامل تھے جو (اختلافات کے وقت) سیدنا علی اور سیدنا عثمان (رضی اللہ عنہما) کے درمیان مصالحت کے لیے جاتے تھے، اور عبداللہ بن زید کی وفات سیدنا عثمان کی خلافت کے آخری دور میں ہوئی تھی۔ سعید بن مسیب سے زہری کی روایت مشہور ہے جسے یونس بن یزید، معمر بن راشد، شعیب بن ابی حمزہ اور محمد بن اسحاق وغیرہ نے روایت کیا ہے۔ جہاں تک اس باب میں اہل کوفہ کی روایات کا تعلق ہے، تو ان کا مدار عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کی حدیث پر ہے؛ ان میں سے بعض نے اسے "معاذ بن جبل یا عبداللہ بن زید" کے حوالے سے روایت کیا ہے، اور بعض نے "عبدالرحمن (بن ابی لیلیٰ) بحوالہ عبداللہ بن زید" نقل کیا ہے۔ رہی بات عبداللہ بن زید کی اولاد کی جو اپنے آباؤ اجداد کے واسطے سے ان سے روایت کرتے ہیں، تو ان کی اسانید درست (مستقیم) نہیں ہیں۔ اور عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس (اذان والی) حدیث کے علاوہ دیگر احادیث بھی روایت کی ہیں: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5537]