المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
502. ذِكْرُ أَوَّلِ سَيْفٍ سُلَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
اللہ کی راہ میں سب سے پہلے کھینچی جانے والی تلوار کا بیان
حدیث نمبر: 5650
أخبرنا أبو جعفر البَغدادي، حَدَّثَنَا أبو عُلَاثة، حَدَّثَنَا أبي، حَدَّثَنَا ابن لَهِيعة، عن أبي الأسوَد، عن عُرْوة، قال: كانت نفحةٌ من الشيطان: أن محمدًا ﷺ قد أُخِذَ، فسمع بذلك الزُّبيرُ، وهو ابن إحدى عشرةَ سنةً، فخرج بالسيفِ مَسلُولًا، حتَّى وقفَ على النَّبِيّ ﷺ، فقال:"ما شأنُك؟" فقال: أردتُ أن أضرِبَ مَن أَخَذَكَ، فدعا له النبيُّ ﷺ ولسيفِه، وكان أولَ سيفٍ سُلَّ في سبيل الله ﷿ (1) .
عروہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: شیطان کی طرف سے ایک افواہ اڑائی گئی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑ لیا گیا ہے۔ زبیر رضی اللہ عنہ نے یہ خبر سنی تو ان کی عمر اس وقت صرف گیارہ سال تھی۔ وہ اپنی ننگی تلوار لے کر نکلے، یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کھڑے ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تمہیں کیا ہوا؟“ انہوں نے عرض کیا: ”میں نے ارادہ کیا تھا کہ جس نے آپ کو پکڑا ہے میں اسے (اس تلوار سے) مار دوں گا۔“ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے اور ان کی تلوار کے لیے دعا فرمائی۔ اور یہ اللہ کی راہ میں کھینچی جانے والی سب سے پہلی تلوار تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5650]
تخریج الحدیث: «حديث حسن إن شاء الله، وهذا سند رجاله لا بأس بهم كما تقدم بيانه برقم (4378)، وقد روي من وجه آخر عن عروة بن الزبير، وهذا وإن كانت صورته الإرسالُ إذ لم يُدرك عروة القصة، فهو محمول على أنَّ أباه الزبير هو من حدَّثه بذلك أو هو أمرٌ معروف مشهور ...» [ترقيم الرساله 5650] [ترقيم الشركة 5597]
الحكم على الحديث: حديث حسن إن شاء الله