المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
501. كَانَ عَمُّ الزُّبَيْرِ يُعَلِّقُ الزُّبَيْرَ فِي حَصِيرٍ وَيُدَخِّنُ عَلَيْهِ بِالنَّارِ
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے چچا انہیں چٹائی میں لپیٹ کر آگ کا دھواں دیتے تھے
حدیث نمبر: 5646
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشاذ، حَدَّثَنَا أحمد بن إبراهيم بن مِلْحان (ح) وحدثنا أبو زكريا العَنْبري، حَدَّثَنَا محمد بن إبراهيم العَبْدي؛ قالا: حَدَّثَنَا ابن بُكَير، حَدَّثَنَا الليثُ بنُ سعد، عن أبي الأسْوَد، عن عُروة بن الزُّبير، قال: أسلمَ الزُّبَيرُ بنُ العَوّام وهو ابن ثَمانِ سِنينِ، وهاجر وهو ابن ثَمَانَ عشرةَ سنة، وكان عَمُّ الزبير يُعلِّقُ الزُّبيرَ في حَصِيرٍ ويُدخِّنُ عليه بالنار، ويقول: ارجِعْ إلى الكُفرِ، فيقولُ الزُّبَير: لا أكفُرُ أبدًا (3)
عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ آٹھ سال کی عمر میں اسلام لائے، اور جب انہوں نے ہجرت کی تو ان کی عمر اٹھارہ سال تھی۔ زبیر رضی اللہ عنہ کے چچا انہیں ایک چٹائی میں لپیٹ کر لٹکا دیتے اور نیچے سے آگ کا دھواں دیتے تھے اور کہتے تھے: ”کفر کی طرف لوٹ آؤ۔“ تو زبیر رضی اللہ عنہ جواب دیتے: ”میں کبھی کفر نہیں کروں گا۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5646]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات، لكنه اختُلف فيه على الليث بن سعد، فقد خالفَ فيه ابنَ بُكَير - واسمه يحيى بن عبد الله بن بُكَير - ثلاثةٌ هم عبدُ الله بن صالح وعبدُ الله بنُ وهب وقتيبةُ بنُ سعيد، فرووه عن الليث، عن أبي الأسود - وهو محمد بن عبد الرحمن بن نوفل ...» [ترقيم الرساله 5646] [ترقيم الشركة 5593]
الحكم على الحديث: رجاله ثقات
حدیث نمبر: 5647
أخبرني مَخْلَد بن جعفر الباقَرْحِيّ، حَدَّثَنَا محمد بن جَرير، حدثني عمرو بن عبد الحَميد الآمُلِيّ (1) ، حَدَّثَنَا أبو أُسامة، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، قال: أسلمَ الزُّبَيرُ، وهاجَر إلى أرض الحَبَشة الهجرتين معًا، ولم يتخلّف عن غَزوةٍ غَزاها رسولُ الله ﷺ، وكان رسولُ الله ﷺ آخَى بينَه وبين ابن مَسْعُود، وكان رجلًا ليس بالطَّويل ولا بالقَصير، خَفيفَ اللِّحيةِ، أسمرَ اللون، أشْعَرَ (2) .
ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: زبیر رضی اللہ عنہ اسلام لائے اور انہوں نے حبشہ کی طرف دونوں ہجرتیں ایک ساتھ کیں۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لڑی جانے والی کسی بھی جنگ سے پیچھے نہیں رہے (یعنی ہر غزوے میں شریک ہوئے)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے درمیان مواخات (بھائی چارہ) قائم فرمائی تھی۔ وہ درمیانے قد کے آدمی تھے، ان کی ڈاڑھی ہلکی، رنگت گندمی اور جسم پر بال زیادہ تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5647]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات غير عمرو بن عبد الحميد الآمُليّ، فلم نقف له على ترجمة، غير أنَّ محمد بن جرير - وهو الطبري الإمام - قد أكثر عنه في "التفسير" و "تهذيب الآثار" وهو بَلَديُّه. وقد اختُلف في إسناده عن أبي أسامة - وهو حماد بن أسامة - كما مضى بيانه برقم ...» [ترقيم الرساله 5647] [ترقيم الشركة 5594]
الحكم على الحديث: رجاله ثقات غير عمرو بن عبد الحميد الآمُليّ
حدیث نمبر: 5648
حدثني أبو بكر بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حَدَّثَنَا مصعب بن عبد الله الزُّبيري، قال: تَوجَّه الزُّبَير في جِوَارِ النعمان بن زِمام الباهِلي المُجاشِعي، فتبِعَه عمرُو بن جُرْمُوز، وهو مُتوجِّه نحو المدينة، فقتَلَه غِيلةً بوادي السِّبَاع، فبرّأ اللهُ من دمِه عليًّا وأصحابَه، وإنما قتلَه عَمرُو بن جُرمُوزٍ في رَجَب سنةَ ستٍّ وثلاثين، فبنو مُجاشِع تُعيِّرهم العربُ بإخفار الزُّبَير، ولذلك يقول جَريرٌ: وقد لَبِسَتْ بعد الزُّبيرِ مُجاشِعٌ … ثيابَ التي حاضَتْ ولم تَغسِلِ الدَّمَا
مصعب بن عبداللہ زبیری بیان کرتے ہیں کہ زبیر رضی اللہ عنہ نعمان بن زمام باہلی مجاشعی کی پناہ میں روانہ ہوئے، تو عمرو بن جرموز نے ان کا پیچھا کیا جبکہ وہ مدینہ کی طرف جا رہے تھے، اور اس نے انہیں وادی سباع میں دھوکے سے شہید کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو ان کے خون سے بری رکھا، انہیں تو عمرو بن جرموز نے رجب چھتیس (36) ہجری میں شہید کیا تھا۔ بنو مجاشع کو عرب لوگ زبیر رضی اللہ عنہ کی پناہ توڑنے پر طعنہ دیا کرتے تھے، اسی لیے (مشہور شاعر) جریر کہتا ہے: ”زبیر کی شہادت کے بعد بنو مجاشع نے اس عورت کا لباس پہن لیا ہے جو حائضہ ہوئی اور اس نے اپنا خون نہیں دھویا (یعنی وہ رسوائی کا داغ کبھی نہیں دھو سکیں گے)۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5648]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 5648] [ترقيم الشركة 5595]
حدیث نمبر: 5649
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا الربيع بن سليمان، حَدَّثَنَا أسَد بن موسى، حَدَّثَنَا سُكَين بن عبد العزيز، حَدَّثَنَا حفص بن خالد، حدثني شيخٌ قَدِمَ علينا من المَوصل، قال: صحبتُ الزُّبير بن العوّام في بعض أسفارِه، فأصابتْه جنابةٌ في أرضٍ قَفْرٍ، فقال: استُرني، فستَرْتُه، فحانت مني التِفاتَةٌ إليه، فرأيتُه مُجدَّعًا بالسُّيوف، فقلتُ: والله لقد رأيتُ بك آثارًا ما رأيتُها بأحدٍ قطُّ، فقال: وقد رأيتَ ذاكَ؟ فقال: واللهِ ما منها جِراحَةٌ إِلَّا مع رسولِ الله ﷺ في سبيل الله (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5550 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5550 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حفص بن خالد بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے ایک بزرگ نے بیان کیا جو موصل سے ہمارے پاس آئے تھے، انہوں نے کہا: میں بعض سفروں میں زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھا۔ ایک چٹیل میدان میں انہیں غسلِ جنابت کی ضرورت پیش آئی تو انہوں نے مجھ سے فرمایا: ”میرا پردہ کرو۔“ میں نے ان کا پردہ کیا۔ اچانک میری نظر ان پر پڑ گئی تو میں نے دیکھا کہ ان کا جسم تلواروں کے زخموں سے چھلنی تھا۔ میں نے عرض کیا: ”اللہ کی قسم! میں نے آپ کے جسم پر زخموں کے ایسے نشانات دیکھے ہیں جو میں نے کسی اور شخص پر کبھی نہیں دیکھے۔“ انہوں نے پوچھا: ”کیا تم نے وہ نشانات دیکھ لیے ہیں؟“ (پھر) انہوں نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! ان میں سے کوئی ایک زخم بھی ایسا نہیں ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے نہ لگا ہو۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5649]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لجهالة حفص بن خالد» [ترقيم الرساله 5649] [ترقيم الشركة 5596] [ترقيم العلميه 5550]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف