🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
505. افتخار الزبير بقرابته عليه السلام
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قرابت پر فخر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5656
حَدَّثَنَا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي، حَدَّثَنَا أحمد بن يحيى الحُلْواني، حَدَّثَنَا عَتيق بن يعقوب الزُّبَيري، حدثني أبي (1) يعقوبُ، عن (2) الزُّبَير بن خُبَيب بن ثابت بن عبد الله بن الزُّبَير، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، قال: قال عبد الله بن الزُّبَير لأبيه: يا أبتِ حَدَّثني عن رسول الله ﷺ، حتَّى أُحدَّثَ عنكَ، فَإِنَّ كلَّ أبناءِ الصحابة يُحدِّث عن أبيه، فقال: يا بُنيّ، ما من أحدٍ صَحِبَ رسولَ الله ﷺ بصُحبةٍ إِلَّا وقد صحِبتُه بمثلِها أو أفضلَ منها، ولقد علمتَ بأنَّ أمَّك أسماء ابنة أبي بكر كانت تحتي، وأنَّ خالتَك عائشةُ بنتُ أبي بكر، ولقد علمتَ أنَّ أُمّي صَفيّةُ بنتُ عبد المُطَّلب، وأنَّ أخوالي حمزةُ بن عبد المُطلبِ وأبو طالب وعبّاسٌ، وأنَّ رسولَ الله ﷺ ابن خالي، ولقد علمتَ أنَّ عَمَّتي خديجةَ بنتَ خُويلد كانت تحتَه، وأنَّ ابنتَها فاطمةُ ابنةُ رسولِ الله ﷺ، و لقد علمتَ أن خديجةَ أمُّ أمِّها حبيبةُ بنت أسَدِ بن عبد العُزّى، ولقد علمتَ أنَّ أم رسولِ الله ﷺ آمنةُ بنتُ وَهْب بن عبد مَنافِ ابن زُهْرة، ولقد صحبتُه بأحسن صُحبةٍ، والحمدُ الله، ولقد سمعتُه يقول:"مَن قال عليَّ ما لم أقُلْ، فليَتَبَوّأْ مَقْعدَه من النارِ" (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5557 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ہشام بن عروہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے کہا: اے میرے ابا جان! آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کر دیجئے تاکہ میں بھی آپ کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کیا کروں، کیونکہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے صاحبزادے اپنے والد کے حوالے سے حدیثیں بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا: اے میرے پیارے بیٹے! دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرح میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں وقت گزارا ہے بلکہ میں نے بہت افضل وقت گزارا ہے۔ میں یہ جانتا ہوں کہ تیری والدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما میرے نکاح میں تھیں۔ اور تیری خالہ عائشہ بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما ہیں۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ میری والدہ سیدہ صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا ہیں۔ اور میرے ماموں سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب، ابوطالب اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہم ہیں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماموں زاد بھائی ہیں۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ میری پھوپھی سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں تھیں۔ اور انہی کی بیٹی سیدہ فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھیں۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی نانی حبیبہ بنت اسد بن عبدالعزیٰ تھیں۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ سیدنا آمنہ بنت وہب بن عبد مناف بن زہرہ ہیں۔ اللہ کے فضل سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت اچھی صحبت اختیار کی ہے لیکن اس سب کے ساتھ ساتھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بھی جانتا ہوں جس نے مجھ سے منسوب کر کے کوئی ایسی بات کہی جو حقیقت میں، میں نے نہیں کہی، وہ اپنا ٹھکانا جہنم بنا لے ۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5656]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5656 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في (ز) و (ب) إلى: أبو، والمثبت على الصواب من (ص) و (م) و "تلخيص الذهبي"، لأنَّ عتيقًا يروي هذا الخبر عن أبيه يعقوب: وهو ابن صُدَيق بن موسى بن عبد الله بن الزبير بن العوام.
📝 نوٹ / توضیح: (1) نسخہ (ز) اور (ب) میں یہ تحریف ہو کر "ابو" بن گیا ہے، درست نسخہ (ص)، (م) اور ذہبی کی "تلخیص" سے ثابت کیا گیا ہے، کیونکہ عتیق یہ خبر اپنے والد "یعقوب" سے روایت کرتے ہیں، اور وہ "ابن صدیق بن موسیٰ بن عبد اللہ بن زبیر بن عوام" ہیں۔
(2) تحرّف في النسخ الخطية إلى: بن. وإنما يروي هذا الخبرَ يعقوبُ بنُ صُدَيق والدُ عتيقٍ عن ابن ابن عم أبيه الزبير بن خبيب، وليس الزبير بن حبيب أبا يعقوب، فلا شكَّ بأنَّ لفظة "بن" هنا تحريف.
📝 نوٹ / توضیح: (2) قلمی نسخوں میں یہ تحریف ہو کر "بن" ہو گیا ہے۔ حالانکہ یعقوب بن صدیق (عتیق کے والد) یہ خبر اپنے والد کے چچا زاد بھائی "زبیر بن خبیب" سے روایت کر رہے ہیں، اور زبیر بن خبیب یعقوب کے والد نہیں ہیں، لہذا اس میں کوئی شک نہیں کہ یہاں لفظ "بن" تحریف ہے۔
(3) مرفوعُه صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة يعقوب والد عَتيق - وهو ابن صُدَيق بن موسى بن عبد الله بن الزبير بن العوام - فلا يُعرف روى عنه غير ابنه عَتيق.
⚖️ درجۂ حدیث: (3) اس کا مرفوع حصہ "صحیح" ہے، لیکن یہ سند "ضعیف" ہے کیونکہ یعقوب والدِ عتیق (ابن صدیق بن موسیٰ بن عبد اللہ بن زبیر بن عوام) مجہول ہیں، ان سے ان کے بیٹے عتیق کے علاوہ کسی کی روایت معروف نہیں ہے۔
وأخرجه ابن حبان (6982) من طريق أحمد بن الحسن بن خراش، عن عتيق بن يعقوب، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (6982) نے احمد بن حسن بن خراش کے طریق سے، انہوں نے عتیق بن یعقوب سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرج أحمد 3/ (1413) و (1428)، والبخاري (107)، وأبو داود (3651)، وابن ماجه (36)، والنسائي (5881) من طريق عامر بن عبد الله بن الزبير عن أبيه قال: قلت للزبير ما لي لا أسمعك تحدَّث عن رسول الله ﷺ كما أسمع ابن مسعود وفلانًا وفلانًا؟! قال: أما إني لم أفارقه منذ أسلمتُ، ولكني سمعتُ منه كلمةً يقول: "من كذب عليَّ فليتبوأ مقعده من النار".
📖 حوالہ / مصدر: احمد 3/ (1413) اور (1428)، بخاری (107)، ابوداؤد (3651)، ابن ماجہ (36) اور نسائی (5881) نے عامر بن عبد اللہ بن زبیر کے طریق سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: میں نے (اپنے والد) زبیر سے کہا کہ کیا وجہ ہے کہ میں آپ کو رسول اللہ ﷺ سے ویسے حدیث بیان کرتے نہیں سنتا جیسے میں ابن مسعود اور فلاں فلاں کو سنتا ہوں؟! انہوں نے فرمایا: میں جب سے اسلام لایا ہوں آپ ﷺ سے جدا نہیں ہوا، لیکن میں نے آپ ﷺ سے ایک بات سنی ہے، آپ فرماتے تھے: "جس نے مجھ پر جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔"