🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

525. ذِكْرُ نِكَاحِ طَلْحَةَ بِأُمِّ أَبَانَ
سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے اُمِّ ابان سے نکاح کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5713
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا إبراهيم بن عبد الله السَّعْدي، أخبرنا محمد بن عُبيد الطَّنَافِسيّ، حدثنا أبو مالك الأشْجَعي، عن أبي حَبِيبة مولى طَلْحة، قال: دخلتُ على عليٍّ مع عِمران (2) بن طَلْحة بعدَما فَرَغَ من أصحابِ الجَمَل، قال: فرحَّب به وأدْناهُ، قال: إني لأرجُو أن يَجعلَني الله وأباكَ من الذين قال الله ﷿: ﴿وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ﴾ [الحجر: 47] ، فقال: يا ابن أخي، كيف فُلانةُ، كيف فُلانةُ؟ قال: وسألَه عن أُمّهات أولادِ أبيه، قال: ثم قال: لم نَقْبِضُ أرْضِيَّكُم هذه السِّنينَ (1) إلَّا مخافةَ أن يَنتَهِبَها الناسُ، يا فلانُ، انطَلِقُ معه إلى ابن قَرَظَة (2) مُرْهُ فليُعْطِه غَلَّتَه هذه السِّنين، ويَدفَعْ إليه أرضَه، فقال رجلانِ جالسانِ ناحيةً، أحدُهما الحارِثُ الأعوَرُ: اللهُ أعدَلُ من ذلك أن نَقتُلَهم ويكونوا إخوانَنا في الجنة؟ قال: قُوما أبعدَ أرضِ الله وأسحَقَها، فمَن هو إذا لم أكُن أنا وطلحةُ؟ يا ابنَ أخي، إذا كانت لك حاجةٌ فأْتِنا (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5613 - صحيح
سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابوحبیبہ فرماتے ہیں: جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ جنگ جمل سے فارغ ہو چکے تو میں اور سیدنا عمر بن طلحہ ان کے پاس گئے انہوں نے ہمیں خوش آمدید کہا اور اپنے قریب جگہ دی اور فرمایا: میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے اور تمہارے والد کو ان لوگوں میں شامل فرمائے گا جن کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی: وَنَزَعْنَا مَا فِی صُدُوْرِھِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلیٰ سُرُرٍ مُّتَقَابِلِیْنَ (الحجر: 47) اور ہم نے ان کے سینوں میں جو کچھ کینے تھے سب کھینچ لئے آپس میں بھائی ہیں تختوں پر روبرو بیٹھے پھر آپ نے لوگوں کے احوال کے بارے میں پوچھا اور شہداء کی اولادوں کی ماؤں کے حالات کے بارے میں پوچھا، اس کے بعد فرمایا: ہم اس سال تمہاری زمینوں پر صرف اس لئے قبضہ کر رہے ہیں کہ کہیں لوگ اس پر غاصبانہ قبضہ نہ جما لیں۔ پھر آپ نے ایک آدمی سے فرمایا: تم اس آدمی کے ہمراہ بنی قریظہ کے پاس چلے جاؤ اور ان سے کہو کہ وہ اس سال کا غلہ ہمیں دیں اور ان کی زمینیں ان کے حوالے کر دے۔ اس وقت دو آدمی ایک طرف بیٹھے ہوئے تھے، ان میں سے ایک حارث اعور تھے۔ اللہ تعالیٰ اس بات سے زیادہ عدل کرنے والا ہے کہ ہم ایک قوم کے ساتھ جہاد کریں اور پھر وہ جنت میں ہمارے بھائی بھی ہوں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ ایسی قوم ہے جو اللہ کی زمین سے دور ہے۔ اگر ان پر میں اور طلحہ توجہ نہیں دیں گے تو اور کون دے گا؟ اے میرے بھائی جب تمہیں کوئی کام ہو تو ہمارے پاس چلے آنا۔ ٭٭ یہ صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5713]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5714
أخبرني عُبيد الله بن محمد بن أحمد البَلْخِيّ ببغداد من أصل كتابه، حدثنا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل التِّرمِذي، حدثنا سليمان بن أيوب بن سليمان بن عيسى بن موسى بن طلحة بن عُبيد الله القرشي، حدثني أبي، عن جدِّي، عن موسى بن طلحة، عن طَلْحة بن عبيد الله، قال: خَطَبَ عُمر بن الخَطّاب أمَّ أبانَ بنتَ عُتبةَ بن ربيعة بن عبد شَمْس، فأبَتْه، فقيل لها: ولِمَ؟ قالت: إن دخَل دخَل بيأسٍ، وإن خرَج خرَج بيأسٍ، قد أذهَلَه أمرُ آخرَتِه عن أمرِ دُنياهُ، كأنه يَنظُر إلى ربِّه بعَينَيه، ثم خَطَبَ الزُّبيرُ بن العوّام، فأبَتْه، فقيل لها: ولِمَ؟ قالت: ليس لِزَوجَتِه منه إلّا شارةٌ في قَرامِلِها، ثم خَطَبها عليٌّ، فأبَتْ، قيل لها: ولِمَ؟ قالت: ليس لزوجته منه إلَّا قَضاءُ حاجَتِه، ويقول: كَيتَ وكَيْتَ، وكانَ وكانَ، ثم خطبها طَلْحةُ، فقالت: زَوْجِي حقًّا، قالوا: وكيف ذاكِ؟ قالت: إني عارفةٌ بخَلائِقِه، إن دَخَلَ دخل ضحّاكًا، وإن خرَج خرَج بسّامًا، إن سألتُ أعطَى، وإن سكَتُّ ابتدأَ، وإن عَمِلتُ شَكَر، وإن أذنبتُ غَفَر، فلما أن ابتَنَى بها، قال عليٌّ: يا أبا محمد، إن أذِنْتَ لي أن أُكلِّمَ أمَّ أبان؟ قال: كلَّمْها، قال: فأخذَ بسَجْفِ الحَجَلة، ثم قال: السلامُ عليكم يا عَزيزةَ نفسِها، قالت: وعليكَ السلامُ، قال: خَطَبكِ أميرُ المؤمنين وسيِّدُ المسلمين فأبَيتِيهِ، قالت: كان ذلك، قال: وخَطبَكِ الرُّبيرُ ابن عمّةِ رسول الله ﷺ وأحدُ حَوَارِيِّه فأبَيتِ، قالت: وقد كان ذلك، قال: وخطبتُك أنا وقَرابَتي من رسول الله ﷺ، قالت: قد كان ذلك، قال: أما واللهِ لقد تَزَوَّجتِ أحسَنَنا وجهًا، وأنالَنا (1) كفًّا، يُعطي هكذا وهكذا (2) .
موسیٰ بن طلحہ بن عبیداللہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عتبہ بن ربیعہ بن عبدشمس کی بیٹی ام ابان کو پیغام نکاح بھیجا، لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے انکار کیوں کیا؟ انہوں نے جواباً کہا: وہ گھر میں آتے ہیں تو غصے میں ہوتے ہیں، باہر جاتے ہیں تو غصے میں ہوتے ہیں، ان کے اوپر دنیا کے معاملات سے زیادہ آخرت کے اعمال کا غلبہ ہو چکا ہے، یوں لگتا ہے کہ وہ اپنے رب کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھتے ہیں۔ (میں سمجھتی ہوں کہ ان کے ساتھ میرا گزارا مشکل ہو گا) پھر سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے ان کی جانب پیغام نکاح بھیجا، لیکن انہوں نے ان کے ساتھ نکاح سے بھی انکار کر دیا۔ ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے ان کے ساتھ نکاح کرنے سے انکار کیوں کیا؟ انہوں نے جواب دیا: ان کو اپنی زوجہ کی ضروریات میں خاص توجہ نہیں ہے۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پیغام بھیجا، لیکن انہوں نے ان سے نکاح کرنے سے بھی انکار کر دیا، ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ نکاح کرنے سے انکار کیوں کیا؟ انہوں نے جواب دیا: ان کے ہمراہ نکاح کرنے سے صرف ضروریات ہی پوری ہو سکتی ہیں، کچھ اور بھی وجوہات بتائیں۔ پھر سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف پیغام نکاح بھیجا تو انہوں نے (قبول کرتے ہوئے) کہا: وہ میرے لئے مناسب ہیں۔ لوگوں نے پوچھا: اس کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے کہا: میں ان کی عادتوں کو جانتی ہوں وہ ہنستے گھر آتے ہیں، اور مسکراتے ہوئے روانہ ہوتے ہیں، اگر میں ان سے کچھ مانگوں گی تو وہ دیں گے۔ اگر میں خاموش ہوں گی تو وہ باتیں کریں گے، اگر میں کام کروں گی تو وہ اس کا شکریہ ادا کریں گے اور اگر میں کوئی غلطی کروں گی تو وہ معاف کر دیں گے۔ پھر جب ام ابان کی سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ شادی ہو گئی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابومحمد! آپ مجھے اجازت دیں کہ میں ام ابان سے کچھ بات چیت کر لوں۔ سیدنا طلحہ نے اجازت دے دی۔ آپ نے ان کو کمرے کے ایک کونے میں بٹھا لیا دعا سلام کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: امیرالمومنین نے تمہیں پیغام نکاح بھیجا، آپ نے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا: بالکل ایسے ہی ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اور تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے بیٹے اور ان کے حواری سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے پیغام بھیجا، آپ نے ان کو بھی منع کر دیا۔ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے۔ سیدنا علی نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قرابت دار ہوں، میں نے پیغام بھیجا تو آپ نے مجھے بھی منع کر دیا، انہوں نے کہا: بالکل ایسے ہی ہے۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: خدا کی قسم تم نے اس شخص سے شادی کی ہے جو سب سے زیادہ خوبصورت ہے، سب سے زیادہ کھلے ہاتھ والا ہے، جو بلا روک ٹوک عطا کرتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5714]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں