المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
540. ذِكْرُ شَهَادَةِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی شہادت کا بیان
حدیث نمبر: 5759
قال ابن عمرُ: وحدثني عبد الله بن أبي عُبيدة، عن أبيه، عن لُؤلؤة مَولاةِ أمِّ الحَكَم ابنةِ عمار بن ياسر، قالت: لما كان اليومُ الذي قُتل فيه عمّار بنُ ياسِر والرايةُ يَحملُها أبو هاشم بن عُتبة، وقد قُتل أصحابُ عليٍّ ذلكَ اليومَ حتى كان العصرُ، ثم تَقدَّم عمّار بن ياسر ورأى أبا هاشم يَقْدُمُه، وقد جَنَحَتِ الشمسُ الغُروب، ومع عَمّار ضَيْحٌ من لَبَنٍ يَنتظِرُ وُجُوبَ الشمس أن يُفطِر، فقال حين وَجَبَت الشمسُ وشَرِبَ الضَّيْحَ: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"آخِرُ زَادِك من الدنيا ضَيْحٌ مِن لَبَنٍ"، قال: ثم اقتَربَ فقاتَلَ حتى قُتِل، وهو ابن أربعٍ وتِسعين سنةً (1) .
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی سیدنا ام حکم کی آزاد کردہ لوندی لولوءۃ کہتی ہیں: جس دن سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ شہید ہوئے، اس دن علم کو ابوہاشم بن عتبہ اٹھائے ہوئے تھے، اس دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں نے عصر تک قتال کیا (لیکن فتح نہیں ہو رہی تھی) پھر سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے، انہوں نے ابوہاشم کو آگے بڑھتے ہوئے دیکھا، اس وقت سورج غروب ہونے کے بالکل قریب تھا اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے پاس پانی ملا ہوا دودھ تھا، آپ (نے کیونکہ روزہ رکھا ہوا تھا اس لئے آپ) غروب آفتاب کا انتظار کر رہے تھے، راوی کہتے ہیں: جب سورج غروب ہو گیا اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے وہ دودھ پی لیا تو کہنے لگے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے یہ سنا ہے کہ تیرا دنیا کا آخری کھانا، پانی ملا ہوا دودھ ہو گا۔ پھر آپ جنگ میں شریک ہو گئے اور شہید ہو گئے، شہادت کے وقت آپ کی عمر 94 برس تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5759]
حدیث نمبر: 5760
قال ابن عُمر: وحدثني عبد الله بن الحارث، عن أبيه، عن عُمارة بن خُزَيمة بن ثابتٍ، قال: شهدَ خُزَيمةُ بن ثابت الجَمَل، وهو لا يَسُلُّ سَيفًا، وشهِدَ صِفِّين، قال: أنا لا أضِلُّ أبدًا حتى يُقتَل عمّارٌ، فأنظُرَ مَن يَقتُلُه، فإني سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"تَقتُلكَ الفِئةُ الباغِيَةُ". قال: فلما قُتل عمّار، قال خُزيمةُ: قد حانَتْ لي الضَّلالة، ثم اقترب فقاتَلَ حتى قُتِل، وكان الذي قتل عمارًا أبو غاديةَ المُزَني طَعَنه برُمحٍ فسَقَط، وكان يومئذٍ يُقاتِل وهو ابن أربعٍ وتِسعين، فلما وقع كَبَّ عليه رجلٌ آخرُ فاحتَزَّ رأسَه، فأقبَلا يَختَصِمان كلٌّ منهما يقول: أنا قتلتُه، فقال عَمرو بن العاص: والله إن يَختَصِمان إلَّا في النار، فسَمِعَها منه معاويةُ، فلما انصرف الرجلانِ، قال معاويةُ لعمرو: ما رأيتُ مثلَ ما صنعتَ، قومٌ بَذَلُوا أنفُسَهم دُونَنا، تقولُ لهما: إنكما تختصمانِ في النار؟! فقال عَمرو: هو واللهِ ذاكَ، واللهِ إنك لَتَعْلمُه ولَوَدِدتُ أني مِتُّ قبلَ هذا بعشرين سنةً (2) .
عمارہ بن خزیمہ بن ثابت فرماتے ہیں: سیدنا خزیمہ بن ثابت جنگ جمل میں شریک ہوئے ہیں۔ لیکن انہوں نے تلوار نہیں سونتی۔ پھر آپ جنگ صفین میں بھی شریک ہوئے، آپ نے کہا: میں عمار کو قتل کرنے کی غلطی کبھی نہیں کروں گا۔ تم دیکھنا ان کو کون شہید کرتا ہے۔ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ” تمہیں ایک باغی گروہ شہید کرے گا “۔ راوی کہتے ہیں: جب سیدنا عمار کو شہید کر دیا گیا تو سیدنا خذیمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس آدمی کی گمراہی کا وقت آ گیا ہے پھر وہ اس کے قریب آئے جب سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے قاتل کو دیکھا تو وہ ابوغادیہ مزنی تھا، اس نے نیزے کے ساتھ آپ پر نشانہ مارا جس کی وجہ سے آپ گر پڑے تھے، آپ نے لڑائی کی لیکن بالآخر شہید ہو گئے، اس دن آپ 94 برس کے ہونے کے باوجود جہاد کر رہے تھے، جب آپ گر پڑے تو ایک دوسرا آدمی آ کر آپ کے جسم اطہر پر جھک گیا اور آپ کا سر مبارک کاٹ لیا، ان دونوں میں لڑائی شروع ہو گئی، ایک کہتا تھا اس کو میں نے قتل کیا ہے اور دوسرا کہتا تھا کہ اس کو میں قتل کیا ہے۔ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا: خدا کی قسم! یہ دوزخ کے حصول کے لئے لڑ رہے ہیں۔ سیدنا عمرو نے کہا: اللہ کی قسم ایسا ہی ہے۔ خدا کی قسم! تم اس کو جانتے ہو، کاش کہ میں آج سے بیس سال پہلے ہی فوت چکا ہوتا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5760]
حدیث نمبر: 5761
قال ابن عُمر: وحدثني عبد الله بن جعفر، عن ابن أبي عَون، قال: أقبلَ عمّارٌ وهو ابن إحدى وتِسعين سنةً، وكان أقدَمَ في الميلاد من رسولِ الله ﷺ، وكان أقبل إليه ثلاثةُ نَفَرٍ: عقبةُ بن عامر الجُهَني وعُمر بن الحارث الخَوْلاني وشَرِيك بن سَلَمة، فانتهَوا إليه جميعًا وهو يقول: والله لو ضَربتُمونا حتى تَبْلُغُوا بنا سَعَفَاتِ هَجَرَ، لعَلِمْنا أنَّا على الحقِّ وأنتم على الباطل، فحَمَلُوا عليه جميعًا فقَتَلُوه. وزعم بعضُ الناسِ أنَّ عُقبة بن عامر هو الذي قَتَله، ويقال: بل قتله عمرُ بن الحارث الخَوْلاني (1) .
ابن ابی عون کہتے ہیں: سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی عمر 91 برس ہو چکی تھی، ان کی جانب تین آدمی بڑھے، عقبہ بن عامر جہن رضی اللہ عنہ، عمر بن حارث خولانی رضی اللہ عنہ اور شریک بن سلمہ رضی اللہ عنہ۔ یہ تمام لوگ سیدنا عمار تک اکٹھے پہنچے، اس وقت سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کہہ رہے تھے: خدا کی قسم! اگر تم لوگ مجھے اتنا مارو کہ مقام ہجر کے کھجوروں کی شاخوں تک پہنچا دو تب بھی میں سمجھوں گا کہ میں حق پر ہوں اور تم باطل پر ہو، اس وقت ان سب نے مل کر ان پر حملہ کیا اور ان کو شہید کر دیا، کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے ان کو شہید کیا، اور ایک موقف یہ ہے کہ ان کو عمر بن حارث رضی اللہ عنہ نے شہید کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5761]
حدیث نمبر: 5761M
قال ابن عمر: والذي أُجمِعَ عليه في عمّار أنه قُتِل مع عليِّ بن أبي طالب بصِفِّين في صَفَر سنةَ سبعٍ وثلاثين، وهو ابن ثلاثٍ وتِسعين سنةً، ودُفن هناك بصِفِّين.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اس بات پر تو سب کا اتفاق ہے کہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی ہمراہی میں جنگ صفین میں ماہ صفر 37 ہجری میں شہید کیا گیا، شہادت کے وقت آپ کی عمر 93 برس تھی، ان کو صفین ہی میں دفن کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5761M]
حدیث نمبر: 5762
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّرِيّ بن خُزيمة، حدثنا مُسلم بن إبراهيم، حدثنا رَبيعة بن كُلْثوم، حدثني أبي، قال: كنتُ بواسطِ القَصَب في مَنزِلِ عبد الأعلى بن عبد الله بن عامر، فقال الآذِنُ: هذا أبو غاديةَ الجُهَني يَستأذِن، فقال عبدُ الأعلى: أدخِلُوه فأُدخِل وعليه مُقَطَّعاتٌ، فإذا رجلٌ طُوَالٌ ضَرْبٌ من الرِّجال، كأنه ليس من هذه الأُمّة، فلما قَعَد قال: كنا نَعُدُّ عمارَ بنَ ياسر من خِيَارِنا، قال: فواللهِ إني لَفِي مَسجدِ قُباءٍ فإذا هو يقولُ - وذكر كلمةً - لو وَجَدتُ عليه أعوانًا لَوطِئتُه حتى أقتُلَه، قال: فلما كان يومُ صِفِّينَ أقبلَ يمشي أولَ الكَتِيبة راجِلًا، حتى كان بين الصَّفَّين طُعِنَ رجُلٌ بالرُّمْح فصُرِع، فانكفأ المِغفَرُ عنه، فأَضرِبه فإذا هو رأسُ عمارِ بن ياسر. قال: يقولُ مَولًى لنا: لم أرَ رجُلًا أبْيَنَ ضَلالةً منه (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5658 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5658 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ربیعہ بن کلثوم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: (وہ فرماتے ہیں) میں واسط القصب میں عبدالاعلیٰ بن عبداللہ بن عامر کے گھر تھا، اجازت لینے والے نے کہا: ابوغادیہ جہنی اندر آنے کی اجازت مانگ رہا ہے، عبدالاعلیٰ نے کہا: اس کو اندر آنے کی اجازت دے دو، وہ اندر آئے، اس وقت انہوں نے تنگ کپڑے پہنے ہوئے تھے، وہ انتہائی دراز قد آدمی تھا، وہ تو اس امت کا فرد لگتا ہی نہیں تھا، جب اندر آ کر بیٹھ گیا تو کہنے لگا: ہم عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو سب سے معتبر اور نیک جانتے ہیں۔ خدا کی قسم! میں مسجد قباء میں تھا وہ باتیں کر رہا تھا ان میں ایک یہ بھی تھی کہ اللہ کی قسم! اگر کبھی مجھے اس پر غلبہ ملا تو میں اس کو روند ڈالوں گا، حتی کہ ان کو قتل کر ڈالوں گا۔ پھر جب جنگ صفین شروع ہوئی تو لشکر کی پہلی جماعت پیدل چلتے ہوئے آئی، یہاں تک کہ وہ صفین کے درمیان پہنچ گئے، ایک آدمی نے ان کو نیزہ مارا، جس کی وجہ سے وہ گر گئے ان کا خود نیچے گرا، جب دیکھا تو سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کا سر تھا۔ راوی کہتے ہیں: ہمارے آقا کہا کرتے تھے کہ میں نے اس آدمی سے زیادہ گمراہ کوئی شخص نہیں دیکھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5762]
حدیث نمبر: 5763
أخبرني أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّنْعاني، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن عَبّاد، أخبرنا عبد الرزاق، عن مَعْمر، عن ابن طاووس، عن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حَزْم، عن أبيه أخبره، قال: لما قُتل عَمّار بن ياسر دَخَل عَمرُو بن حَزْم على عَمرو بن العاص، فقال: قُتِل عمارٌ، وقد سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"تَقتُلُه الفِئةُ الباغِيةُ"، فقام عَمرٌو فَزِعًا، حتى دخل على معاويةَ، فقال له معاويةُ: ما شأنُك؟ فقال: قُتل عمار بن ياسر، فقال: قُتل عمار، فما ذا؟ فقال عَمرو: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"تَقتُله الفِئةُ الباغيَةُ"، فقال له معاويةُ: أنحنُ قتَلْناهُ، إنما قتَلَه عليّ وأصحابُه، جاؤوا به حتى أَلقَوه بين رِماحِنا، أو قال: سُيوفنا (1) . صحيح على شرطهما، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5659 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5659 - على شرط البخاري ومسلم
ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: جب سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا، عمرو بن حزم، عمرو بن عاص کے پاس آیا، اور کہا: عمار کو شہید کر دیا گیا، اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ” اس کو باغی گروہ شہید کرے گا “ تو سیدنا عمرو گھبرا کر اٹھے، اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: خیریت تو ہے؟ انہوں نے کہا: سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ہے۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: عمار کو شہید کر دیا گیا؟ کیوں؟ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ” اس کو ایک باغی گروہ شہید کرے گا “ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا ہم نے ان کو شہید کیا ہے؟ ان کو علی اور اس کے ساتھیوں نے مروایا ہے، ان کے ساتھی ان کو ساتھ لے کر آئے اور ہمارے نیزوں کے سامنے ڈال دیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن ان دونوں نے اس حدیث کو اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5763]